لشکر اسامہ کی تنفیذ سے حاصل ہونے والے دروس وعبر اور فوائد
علی محمد الصلابیحالات بدلتے رہتے ہیں لیکن شدائد و مشکلات مؤمن کو دینی امور سے غافل نہیں کرتیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے حالات میں تبدیلی رونما کرتا ہے۔ارشاد ربانی ہے:
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ (سورۃ البروج: آیت 16)
ترجمہ: جو چاہے اسے کر گزرنے والا ہے۔
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (سورۃ الانبیاء: آیت 23)
ترجمہ: وہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں، اور سب (اس کے آگے) جواب دہ ہیں۔
کتنی جلد اور کتنی خطرناک تبدیلی رونما ہوئی۔ ایک وقت وہ تھا جب عرب کے وفود رسول اللہﷺ کی خدمت میں مطیع و فرمانبردار ہو کر اتنی کثرت سے حاضری دے رہے تھے کہ 9 ہجری کا نام عام الوفود پڑ گیا، پھر اس طرح حالات بدلے کہ یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ اسلامی دارالخلافہ مدینہ پر عرب قبائل حملہ آور نہ ہو جائیں۔
(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: دیکھیے فضل الہٰی صفحہ 18)
بلکہ اپنے باطل زعم کے مطابق یہ قبائل اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے حملہ کرنے آئے بھی۔
(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: دیکھیے فضل الہٰی صفحہ 18)
اور اس میں کوئی تعجب خیز بات نہیں کیونکہ اقوام و امم کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ ان کے ایام ایک حالت پر باقی نہیں رہتے بلکہ تغیر و تبدل کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ جو ہستی ایام میں تبدیلی رونما کرتی ہے، اس نے خود اس کی خبر دی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (سورۃ آل عمران: آیت 140)
ترجمہ: ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔
امام رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے کہ دنیا کے ایام لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے دوام نہیں، خواہ خوشی کے ایام ہوں یا غمی کے۔ آج ایک کو خوشی لاحق ہوتی ہے اور اس کے دشمن کو غم پہنچتا ہے تو دوسرے دن اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اس کے حالات پہلے جیسے باقی نہیں رہتے اور اس کے آثار کے لئے استقرار نہیں ہوتا۔
(تفسیر الرازی: جلد 9 صفحہ 15 تفسیر القرطبی: جلد 4 صفحہ 218)
یہاں مضارع کا صیغہ نُدَاوِلُهَا ہم ادلتے بدلتے رہتے ہیں استعمال ہوا ہے، تاکہ اقوام و امم کی تبدیلی حالات میں تجدید و استمرار پر دلالت کرے۔
قاضی ابو سعودؒ فرماتے ہیں: مضارع کا صیغہ تجدد و استمرار پر دلالت کرتا ہے تا کہ یہ خبر دی جائے کہ یہ تبدیلی حالات ماضی و حاضر، تمام اقوام و امم میں سنت الہٰی رہی ہے۔
(تفسیر ابی السعود: جلد 2 صفحہ 89 روح المعانی للآلوسی: جلد 4 صفحہ 68)
مقولہ ہے
الایام دُوَلٌ والحرب سجال
ترجمہ: ایام الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور جنگ میں غلبہ کبھی ایک کا ہوتا ہے اور کبھی دوسرے کا۔
(روح المعانی للآلوسی: جلد 4 صفحہ 68)
شاعر کا قول ہے:
فیوم لنا ویوم علینا ویومٌ نُسَاء ویومٌ ُنسَرٌ
ترجمہ: ایک دن ہمارے حق میں اور ایک دن ہمارے خلاف، ایک دن ہمارے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے اور ایک دن ہم خوش کیے جاتے ہیں۔
(تفسیر القرطبی: جلد 4 صفحہ 218)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امت کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ جب مصائب و آلام لاحق ہوں تو صبر کرو، صبر کے ساتھ اللہ کی مدد آتی ہے اور اللہ کی رحمت سے ناامیدی و سراسیمگی کا شکار نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ۞۔(سورۃ الاعراف: آیت 56)
ترجمہ: بے شک اللہ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔
مسلمانوں کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ مصائب و آلام کتنے ہی عظیم اور شدید کیوں نہ ہوں، ان کے لیے سند الہٰی یہ ہے:
فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ۞ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ۞(سورۃ الانشراح: آیت 5، 6)
ترجمہ: پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
مسلمان کا معاملہ اس دنیا میں عجیب ہے جس کو رسول اللہﷺ نے اپنے اس ارشاد میں بیان فرمایا ہے:
عجبا لامر المؤمن إنَّ امرہ کلہ خیر ، ولیس ذلک لاحد الا للمومن ان اصابتہ سرّاء شکر فکان خیرا لہ وان اصابتہ ضرَّاء صبر فکان خیرا لہ۔
ترجمہ: مؤمن کا معاملہ عجیب ہے، اس کے تمام امور خیر ہیں اور یہ مومن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اس کو خوشی لاحق ہوتی ہے تو شکریہ ادا کرتا ہے اس طرح اس کو خیر حاصل ہوتی ہے اور اگر اس کو تکلیف لاحق ہوتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اس طرح وہ خیر کا مستحق قرار پاتا ہے۔
(مسلم: جلد 4 صفحہ 2295)
لشکر اسامہ کو اس کی مہم پر روانہ کرنے میں جو دروس و عبر پنہاں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مصائب وآلام کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، مؤمن کو دین سے نہیں روک سکتے۔ رسول اللہﷺ کی وفات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دینی کام سے مشغول نہ کر سکی اور آپؓ نے انتہائی تاریک و پر خطر حالات میں لشکر اسامہ کو روانہ ہونے کا حکم صادر فرمایا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے رسول اللہﷺ سے دینی امور کے مقدم رکھنے کے سلسلہ میں جو تعلیم حاصل کی تھی وہ ہر چیز پر مقدم تھی اور آپؓ کا یہی مؤقف دنیا سے رخصت ہونے تک رہا۔
(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 24)