Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دعوتی تحریک کسی فرد پر منحصر نہیں اور ہر حال میں رسول اللہﷺ کی اتباع واجب ہے

  علی محمد الصلابی

لشکر کی روانگی کے واقعہ سے ہمارے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے قول و فعل سے یہ واضح کر دیا کہ دعوت کی تحریک کبھی رک نہیں سکتی، حتیٰ کہ سید الخلق، امام الانبیاء، قائد المرسلینﷺ کی وفات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور لشکر اسامہ کو اس کی مہم پر روانہ کرنے میں جلدی کر کے آپؓ نے یہ ثابت کر دیا کہ دعوتی کام رک نہیں سکتا، وہ جاری رہے گا۔ چنانچہ وفات نبویﷺ کے تیسرے دن اعلان کرایا کہ لشکر اسامہ سے متعلق حضرات جرف میں اپنی لشکر گاہ میں پہنچ جائیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت کے بعد والے اپنے خطاب میں واضح کر دیا تھا کہ وہ اس دین کی خدمت کے لیے پوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 27)

لوگو! اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہو، اپنے رب پر توکل کرو، یقیناً اللہ کا دین قائم ہے اور اللہ کا کلمہ مکمل ہے۔ اللہ اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا اور اپنے دین کو عزت و غلبہ عطا کرے گا۔ جو لوگ ہمارے خلاف اٹھیں ان کی ہم پروا نہیں کرتے۔ یقیناً اللہ کی تلواریں ابھی کھلی ہوئی ہیں، ہم نے ابھی انہیں رکھا نہیں ہے، جو ہمارے خلاف اٹھے گا ہم اس سے اسی طرح جہاد کریں گے جس طرح رسول اللہﷺ کی معیت میں کرتے تھے۔ لہٰذا کوئی بھی شخص ظلم و بغاوت پر نہ اترے ورنہ اس کا وبال اس کے سر ہو گا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 213، 214) 

لشکرِ اسامہ کو اس کی مہم پر روانہ کرنے سے من جملہ دیگر دروس و اسباق کے یہ درس ملتا ہے کہ آرام و تکلیف ہر حالت میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے حکم کی اتباع کریں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے فعل سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ وہ رسول اللہﷺ کے اوامر کو مضبوطی کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں، وہ اس کو نافذ کر کے رہیں گے، خطرات و خدشات جس قدر بھی زیادہ ہوں اور یہ حقیقت اس واقعہ کی روشنی میں متعدد مرتبہ آشکارا ہوئی۔ جیسے کہ

جب مسلمانوں نے خطرناک حالات کے پیش نظر لشکرِ اسامہ کو روکنے کا مطالبہ کیا تو ہمیشہ باقی رہنے والے اس قول سے ان کو جواب دیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے یقین ہو جائے کہ درندے مجھے نوچ کھائیں گے تب بھی میں لشکر اسامہ کو روانہ کر کے رہوں گا۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ اگر بستی میں میرے سوا کوئی باقی نہ رہے تب بھی اس کو نافذ کر کے رہوں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 45)

جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ رسول اللہﷺ اور مدینہ پر خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپنے لشکر کے ساتھ جرف سے مدینہ واپس ہونے کی اجازت مانگی تو ان کو اجازت نہ دی اور اپنے عزم مصمم کو ظاہر کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے فیصلہ کو نافذ کر کے رہیں گے۔ فرمایا: اگر مجھے کتے اور بھیڑیے نوچ کھائیں تب بھی میں رسول اللہﷺ کے فیصلہ کو ٹال نہیں سکتا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

اور اپنے اس مؤقف کے ذریعہ سے اس فرمان الہٰی کی عملی تصویر پیش کی

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا۞ (سورة الاحزاب: صفحہ 36) 

ترجمہ: اور (دیکھو) کسی مؤمن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔

جس وقت سیدنا ابوبکرؓ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسامہ نوجوان ہیں ان کی جگہ کسی عمر رسیدہ کو امیر مقرر کر دیا جائے تو آپؓ اس طرح کی تجویز کو آپؓ تک پہنچانے کی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر سخت ناراض ہوئے.

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 30)

اور فرمایا: اے خطاب کے بیٹے! تیری ماں تجھے گم پائے، جس کو رسول اللہﷺ نے امیر منتخب کیا ہے، آپﷺ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں اسے معزول کر دوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نزدیک رسول اللہﷺ کی اتباع کا اہتمام اس وقت واضح ہو جاتا ہے جب آپﷺ لشکر اسامہ کو الوداع کرنے نکلے، اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چلے، جب کہ حضرت اسامہؓ سواری پر سوار تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

آپؓ اپنے اس عمل میں رسول اللہﷺ کی اقتداء کر رہے تھے چنانچہ رسول اللہﷺ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کر رہے تھے تو یہی کیفیت اختیار کی تھی۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 36)

مسند احمد میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ان کو جب رسول اللہﷺ نے یمن روانہ کیا، آپﷺ ان کے ساتھ ان کو وصیت کرتے ہوئے نکلے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہﷺ ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔

(الفتح الربانی: لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی جلد 21 صفحہ 215)

شیخ احمد البناؒ اس حدیث کی تعلیق میں فرماتے ہیں: ایسا ہی سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کے ساتھ کیا، باوجودیکہ سيدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نوجوان تھے۔ رسول اللہﷺ نے لشکر کا پرچم ان کو عطا کیا اور وہ آپﷺ کی وفات کے بعد ہی سفر کر سکے۔ سيدنا ابوبکرؓ نے پیدل چل کر ان کو الوداع کیا، جبکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ اس فعل میں آپؓ نے نبی کریمﷺ کی اقتداء کی تھی جو آپﷺ نے معاذ کے ساتھ اختیار کیا تھا۔

(بلوغ الامانی: جلد 21 صفحہ 215)

رسول کریمﷺ کی اقتداء کا اہتمام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے نمایاں ہوتا ہے کہ انہوں نے فوج کو الوداع کرتے ہوئے وصیت فرمائی، جیسا کہ رسول اللہﷺ فوج کو الوداع کرتے ہوئے وصیت فرمایا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اسی پر بس نہ کی بلکہ لشکر اسامہ کو جو وصیت کی وہ اکثر رسول اللہﷺ کی وصیتوں سے ماخوذ تھی۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 32)

نیز سیدنا ابوبکرؓ نے صرف قول و فعل میں رسول اللہﷺ کی اقتداء پر بس نہ کی بلکہ سیدنا امیر الجیش اسامہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ کے حکم کی تنفیذ کا حکم دیا اور اس سلسلہ میں کوتاہی سے منع فرمایا۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 32)

آپؓ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم وہی کرنا جس کا تمہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ قضاعہ کے علاقہ سے شروع کرنا، آبل پر حملہ آور ہونا اور رسول اللہﷺ کے اوامر میں سے کسی میں کوتاہی نہ کرنا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفح، 47)

دوسری روایت میں ہے کہ آپؓ نے فرمایا: اے اسامہ! جس جہت کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس طرف روانہ ہو جاؤ پھر جیسا رسول اللہﷺ نے تمہیں حکم فرمایا ہے فلسطین کی جانب اور موتہ پر چڑھائی کرو اور جہاں نہ پہنچ سکو اللہ کافی ہے۔

(عہد الخلفاء الراشدین للذہبی: صفحہ 20)

ابن اثیرؒ کی ایک روایت میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہؓ کو یہ وصیت فرمائی کہ وہ وہی کریں جس کا انہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔

(الکامل لابن الاثیر: جل، 2 صفحہ 237)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کو مان لیا اللہ نے انہیں شرح صدر عطا فرمایا، پھر اس کے بعد رسول اللہﷺ کے حکم کو تھام لیا اور اس کو پورا کرنے کے لیے حتیٰ الوسع کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و نصرت سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا اور لوگوں کے دلوں میں ان کی ہیبت بٹھا دی اور دشمنوں کے مکر و فریب کو ان سے روک دیا۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 36)

تھامس آرنلڈ لشکرِ اسامہ کے سلسلہ میں لکھتا ہے: محمدﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر اسامہ کو روانہ کیا جسے شام کی طرف بھیجنے کا نبی کریمﷺ نے عزم کر رکھا تھا، باوجودیکہ عرب میں اضطرابی کیفیت کے پیش نظر بعض مسلمانوں نے اس سے اختلاف کیا لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کو اپنے اس قول کے ذریعہ سے خاموش کر دیا: میں رسول اللہﷺ کے فیصلہ کو پورا کر کے رہوں گا۔ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ درندے مجھے نوچ کھائیں گے پھر بھی میں لشکر اسامہ کو روانہ کر کے رہوں گا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔

(الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 63)

پھر کہتا ہے: یہ ان شاندار حملوں میں سے پہلا حملہ تھا جس کے ذریعہ سے عرب شام، فارس اور شمالی افریقہ پر قابض ہوئے اور قدیم فارسی سلطنت کو ختم کیا اور رومی شہنشاہیت کے پنجے سے اس کے بہترین علاقوں کو آزاد کرا لیا۔

(الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 63)

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی فتح و نصرت کو نبی کریمﷺ کی اتباع سے جوڑ رکھا ہے، جو آپﷺ کی اتباع کرے گا اس کے لیے نصرت و غلبہ ہے اور جو آپﷺ کی نافرمانی کرے گا، اس کے لیے ذلت و رسوائی ہے۔ امت کی زندگی کا راز رب کی اطاعت اور نبیﷺ کی سنت کی اقتداء میں پنہاں ہے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 39)