دعوتی تحریک کسی فرد پر منحصر نہیں اور ہر حال میں رسول اللہﷺ…

دعوتی تحریک کسی فرد پر منحصر نہیں اور ہر حال میں رسول اللہﷺ کی اتباع واجب ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

لشکر کی روانگی کے واقعہ سے ہمارے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے قول و فعل سے یہ واضح کر دیا کہ دعوت کی تحریک کبھی رک نہیں سکتی، حتیٰ کہ سید الخلق، امام الانبیاء، قائد المرسلینﷺ کی وفات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتی اور لشکر اسامہ کو اس کی مہم پر روانہ کرنے میں جلدی کر کے آپؓ نے یہ ثابت کر دیا کہ دعوتی کام رک نہیں سکتا، وہ جاری رہے گا۔ چنانچہ وفات نبویﷺ کے تیسرے دن اعلان کرایا کہ لشکر اسامہ سے متعلق حضرات جرف میں اپنی لشکر گاہ میں پہنچ جائیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت کے بعد والے اپنے خطاب میں واضح کر دیا تھا کہ وہ اس دین کی خدمت کے لیے پوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 27)

لوگو! اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رہو، اپنے رب پر توکل کرو، یقیناً اللہ کا دین قائم ہے اور اللہ کا کلمہ مکمل ہے۔ اللہ اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا اور اپنے دین کو عزت و غلبہ عطا کرے گا۔ جو لوگ ہمارے خلاف اٹھیں ان کی ہم پروا نہیں کرتے۔ یقیناً اللہ کی تلواریں ابھی کھلی ہوئی ہیں، ہم نے ابھی انہیں رکھا نہیں ہے، جو ہمارے خلاف اٹھے گا ہم اس سے اسی طرح جہاد کریں گے جس طرح رسول اللہﷺ کی معیت میں کرتے تھے۔ لہٰذا کوئی بھی شخص ظلم و بغاوت پر نہ اترے ورنہ اس کا وبال اس کے سر ہو گا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 213، 214) 

لشکرِ اسامہ کو اس کی مہم پر روانہ کرنے سے من جملہ دیگر دروس و اسباق کے یہ درس ملتا ہے کہ آرام و تکلیف ہر حالت میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے حکم کی اتباع کریں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے فعل سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ وہ رسول اللہﷺ کے اوامر کو مضبوطی کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں، وہ اس کو نافذ کر کے رہیں گے، خطرات و خدشات جس قدر بھی زیادہ ہوں اور یہ حقیقت اس واقعہ کی روشنی میں متعدد مرتبہ آشکارا ہوئی۔ جیسے کہ

جب مسلمانوں نے خطرناک حالات کے پیش نظر لشکرِ اسامہ کو روکنے کا مطالبہ کیا تو ہمیشہ باقی رہنے والے اس قول سے ان کو جواب دیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے یقین ہو جائے کہ درندے مجھے نوچ کھائیں گے تب بھی میں لشکر اسامہ کو روانہ کر کے رہوں گا۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ اگر بستی میں میرے سوا کوئی باقی نہ رہے تب بھی اس کو نافذ کر کے رہوں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 45)

جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ رسول اللہﷺ اور مدینہ پر خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپنے لشکر کے ساتھ جرف سے مدینہ واپس ہونے کی اجازت مانگی تو ان کو اجازت نہ دی اور اپنے عزم مصمم کو ظاہر کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے فیصلہ کو نافذ کر کے رہیں گے۔ فرمایا: اگر مجھے کتے اور بھیڑیے نوچ کھائیں تب بھی میں رسول اللہﷺ کے فیصلہ کو ٹال نہیں سکتا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

اور اپنے اس مؤقف کے ذریعہ سے اس فرمان الہٰی کی عملی تصویر پیش کی

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا۞ (سورة الاحزاب: صفحہ 36) 

ترجمہ: اور (دیکھو) کسی مؤمن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔

جس وقت سیدنا ابوبکرؓ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسامہ نوجوان ہیں ان کی جگہ کسی عمر رسیدہ کو امیر مقرر کر دیا جائے تو آپؓ اس طرح کی تجویز کو آپؓ تک پہنچانے کی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر سخت ناراض ہوئے.

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 30)

اور فرمایا: اے خطاب کے بیٹے! تیری ماں تجھے گم پائے، جس کو رسول اللہﷺ نے امیر منتخب کیا ہے، آپﷺ مجھے حکم دیتے ہیں کہ میں اسے معزول کر دوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نزدیک رسول اللہﷺ کی اتباع کا اہتمام اس وقت واضح ہو جاتا ہے جب آپﷺ لشکر اسامہ کو الوداع کرنے نکلے، اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چلے، جب کہ حضرت اسامہؓ سواری پر سوار تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 46)

آپؓ اپنے اس عمل میں رسول اللہﷺ کی اقتداء کر رہے تھے چنانچہ رسول اللہﷺ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کر رہے تھے تو یہی کیفیت اختیار کی تھی۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 36)

مسند احمد میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ان کو جب رسول اللہﷺ نے یمن روانہ کیا، آپﷺ ان کے ساتھ ان کو وصیت کرتے ہوئے نکلے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور رسول اللہﷺ ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔

(الفتح الربانی: لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی جلد 21 صفحہ 215)

شیخ احمد البناؒ اس حدیث کی تعلیق میں فرماتے ہیں: ایسا ہی سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کے ساتھ کیا، باوجودیکہ سيدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نوجوان تھے۔ رسول اللہﷺ نے لشکر کا پرچم ان کو عطا کیا اور وہ آپﷺ کی وفات کے بعد ہی سفر کر سکے۔ سيدنا ابوبکرؓ نے پیدل چل کر ان کو الوداع کیا، جبکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ اس فعل میں آپؓ نے نبی کریمﷺ کی اقتداء کی تھی جو آپﷺ نے معاذ کے ساتھ اختیار کیا تھا۔

(بلوغ الامانی: جلد 21 صفحہ 215)

رسول کریمﷺ کی اقتداء کا اہتمام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس عمل سے نمایاں ہوتا ہے کہ انہوں نے فوج کو الوداع کرتے ہوئے وصیت فرمائی، جیسا کہ رسول اللہﷺ فوج کو الوداع کرتے ہوئے وصیت فرمایا کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اسی پر بس نہ کی بلکہ لشکر اسامہ کو جو وصیت کی وہ اکثر رسول اللہﷺ کی وصیتوں سے ماخوذ تھی۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 32)

صفحہ 1 از 2