دعوتی تحریک کسی فرد پر منحصر نہیں اور ہر حال میں رسول اللہﷺ…

دعوتی تحریک کسی فرد پر منحصر نہیں اور ہر حال میں رسول اللہﷺ کی اتباع واجب ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

نیز سیدنا ابوبکرؓ نے صرف قول و فعل میں رسول اللہﷺ کی اقتداء پر بس نہ کی بلکہ سیدنا امیر الجیش اسامہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ کے حکم کی تنفیذ کا حکم دیا اور اس سلسلہ میں کوتاہی سے منع فرمایا۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 32)

آپؓ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم وہی کرنا جس کا تمہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔ قضاعہ کے علاقہ سے شروع کرنا، آبل پر حملہ آور ہونا اور رسول اللہﷺ کے اوامر میں سے کسی میں کوتاہی نہ کرنا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفح، 47)

دوسری روایت میں ہے کہ آپؓ نے فرمایا: اے اسامہ! جس جہت کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس طرف روانہ ہو جاؤ پھر جیسا رسول اللہﷺ نے تمہیں حکم فرمایا ہے فلسطین کی جانب اور موتہ پر چڑھائی کرو اور جہاں نہ پہنچ سکو اللہ کافی ہے۔

(عہد الخلفاء الراشدین للذہبی: صفحہ 20)

ابن اثیرؒ کی ایک روایت میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہؓ کو یہ وصیت فرمائی کہ وہ وہی کریں جس کا انہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔

(الکامل لابن الاثیر: جل، 2 صفحہ 237)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کو مان لیا اللہ نے انہیں شرح صدر عطا فرمایا، پھر اس کے بعد رسول اللہﷺ کے حکم کو تھام لیا اور اس کو پورا کرنے کے لیے حتیٰ الوسع کوشش کی، اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و نصرت سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا اور لوگوں کے دلوں میں ان کی ہیبت بٹھا دی اور دشمنوں کے مکر و فریب کو ان سے روک دیا۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 36)

تھامس آرنلڈ لشکرِ اسامہ کے سلسلہ میں لکھتا ہے: محمدﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر اسامہ کو روانہ کیا جسے شام کی طرف بھیجنے کا نبی کریمﷺ نے عزم کر رکھا تھا، باوجودیکہ عرب میں اضطرابی کیفیت کے پیش نظر بعض مسلمانوں نے اس سے اختلاف کیا لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کو اپنے اس قول کے ذریعہ سے خاموش کر دیا: میں رسول اللہﷺ کے فیصلہ کو پورا کر کے رہوں گا۔ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ درندے مجھے نوچ کھائیں گے پھر بھی میں لشکر اسامہ کو روانہ کر کے رہوں گا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا ہے۔

(الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 63)

پھر کہتا ہے: یہ ان شاندار حملوں میں سے پہلا حملہ تھا جس کے ذریعہ سے عرب شام، فارس اور شمالی افریقہ پر قابض ہوئے اور قدیم فارسی سلطنت کو ختم کیا اور رومی شہنشاہیت کے پنجے سے اس کے بہترین علاقوں کو آزاد کرا لیا۔

(الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 63)

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی فتح و نصرت کو نبی کریمﷺ کی اتباع سے جوڑ رکھا ہے، جو آپﷺ کی اتباع کرے گا اس کے لیے نصرت و غلبہ ہے اور جو آپﷺ کی نافرمانی کرے گا، اس کے لیے ذلت و رسوائی ہے۔ امت کی زندگی کا راز رب کی اطاعت اور نبیﷺ کی سنت کی اقتداء میں پنہاں ہے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 39)


صفحہ 2 از 2