Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل ایمان کے درمیان اختلاف رونماء ہونا اور کتاب و سنت کی طرف رجوع کر کے حل کرنا

  علی محمد الصلابی

اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سچے اہل ایمان کے درمیان بھی بعض امور میں اختلاف رونماء ہو سکتا ہے۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں لشکر اسامہ کو روانہ کرنے سے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اختلاف رونماء ہوا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے سلسلہ میں اقوال مختلف ہوئے لیکن اختلاف رائے ان کے درمیان آپسی بغض و کینہ، قطع تعلق، قتال اور لڑائی جھگڑے کا سبب نہ بنا اور ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے پر، اس کی غلطی واضح ہو جانے کے بعد ڈٹا نہیں رہا۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 47، 48)

اور لشکرِ اسامہ کو اس کی مہم پر بھیجنے کے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کے فرمان کی طرف جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس اختلاف کو لوٹایا اور ان کے سامنے یہ واضح کیا کہ حالات کیسے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں وہ رسول اللہﷺ کے فرمان کو نافذ کرنے میں کوتاہی نہیں کر سکتے، تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؓ کی اس وضاحت کے بعد نبی کریمﷺ کے فرمان کو قبول فرما لیا اور اپنی اپنی رائے کو چھوڑ دیا۔

اسی طرح اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ اکثریت کی رائے اگر نص کے مخالف ہو تو اس کا اعتبار نہ ہو گا چنانچہ عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ رائے تھی کہ لشکرِ اسامہ کو روانہ نہ کیا جائے، انہوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: قبائل عرب آپؓ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، آپؓ لوگوں کو یہاں سے بھیج کر تنہا کچھ نہیں کر سکتے۔

(تاریخ خلیفہ بن خیّاط: صفحہ 100)

یہ کہنے والے عام لوگ نہ تھے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو روئے زمین پر انبیاء علیہم السلام و رسل علیہم السلام کے بعد افضل ترین لوگ ہیں، لیکن سیدنا ابوبکرؓ نے ان کی رائے نہ مانی اور یہ واضح فرمایا کہ ان لوگوں کی رائے کے مقابلہ میں رسول اللہﷺ کا فرمان مکرم و معظم اور واجب العمل ہے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 44، 45)

یہ حقیقت رسول اللہﷺ کی وفات کے واقعہ میں بھی واضح ہو چکی ہے کہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جن میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہﷺ کی وفات نہیں ہوئی ہے اور بہت تھوڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا کہنا تھا کہ رسول اللہﷺ وفات پا چکے ہیں۔ انھی میں سے سیدنا ابوبکرؓ بھی تھے۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نص قرآنی پر ڈٹ گئے اور اکثریت کی رائے کی غلطی کو واضح کیا جو یہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ کی وفات نہیں ہوئی ہے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 44، 45)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ وفات نبویﷺ کے سلسلہ میں اکثریت کی رائے پر تعلیق (نوٹ) لگاتے ہوئے فرماتے ہیں: اجتہاد میں اقلیت صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے

اور اکثریت غلطی کا شکار ہو سکتی ہے، لہٰذا اکثریت کی بنیاد پر ترجیح متعین نہیں ہے۔

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 146)

خلاصہ کلام یہ کہ لشکرِ اسامہ کے واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اکثریت کا کسی رائے کو اختیار کرنا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 46)

اور یہ کہ اہلِ ایمان کے سامنے جب حق واضح ہو جاتا ہے تو وہ حق کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ چنانچہ جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے سامنے یہ واضح فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ہی لشکر اسامہ کو اپنی مہم پر روانہ ہونے کا حکم فرمایا ہے اور اسی طرح حضرت اسامہؓ کو امیر منتخب کیا ہے، تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمان نبویﷺ کی فرماں برداری قبول کی۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 52)