آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے والدین کو…

آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے والدین کو معاف فرمائے کہ آپ ایسی چند مثالیں بھی پیش فرما دیں جن میں شیعہ علماء نے اپنے تحریف قرآن کے عقیدے کی صراحت کی ہو؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 4
ترجمہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم اے ایمان والے لوگو ان دو نوروں پر ایمان لاؤ جنہیں ہم نے نازل کیا ہے اور وہ دونوں تمہیں میری آیات پڑھ کر سناتے ہیں اور وہ دونوں تمہیں قیامت والے دن کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ یہ دو نور ہیں، جو آپس میں ایک دوسرے سے ہیں اور بیشک میں سننے والا اور جاننے والا ہوں۔ بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی آیات میں ان کے ساتھ وعدوں سے وفا کرتے ہیں ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہیں۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ایمان لانے کے بعد اپنا عہد و پیمان توڑ کر کفر کیا اور رسول اللہﷺ کے ساتھ کیے گئے وعدہ کو توڑ ڈالا انہیں جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور وصی اور رسول کی نافرمانی کی انہیں جہنم کی پیپ پلائی جائے گی۔ بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ اس نے جیسے چاہا ملائکہ میں سے چن لیا۔ اور ان اہلِ ایمان میں سے بعض کو اپنی مخلوق میں سے کر لیا۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے وہ اکیلا معبود برحق ہے اور وہ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ اس سے پہلے بھی لوگوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ دھوکہ کیا تھا، ہم نے انہیں ان کی چالوں سے پکڑ لیا۔ بیشک میری پکڑ بہت سخت ہے بیشک اللہ تعالیٰ نے عاد اور ثمود کو ان کے اعمال کی وجہ سے تباہ کیا اور انہیں تمہارے لیے عبرت بنا دیا۔ کیا تم پھر اس سے نہیں ڈرتے اور فرعون کو اور اس کے سب ماننے والوں کو ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون پر سرکشی کی وجہ سے غرق کر دیا۔ تاکہ وہ تمہارے لیے ایک نشانی بن جائے تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں بیشک اللہ تعالیٰ ان سب کو حشر کے دن جمع کرے گا جب ان سب سے سوال کیا جائے گا تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے بے شک جہنم ان کا ٹھکانہ ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے اے رسول میرے ڈراوے کی تبلیغ کرو اور یہ لوگ عنقریب جان لیں گے اور یقیناً وہ لوگ خسارہ میں پڑ گئے جو میری آیات اور میرے حکم سے اعراض کرنے والے تھے ان لوگوں کی مثال جو آپ سے کیے گئے وعدہ کو پورا کرتے ہیں بیشک میں انہیں نعمتوں والی جنت بدلے میں دوں گا بیشک اللہ تعالیٰ بہت بڑی مغفرت اور اجر والا ہے اور بیشک سیدنا علیؓ متقین میں سے ہیں اور بیشک قیامت کے دن اس سے اس کا پورا حق ادا کریں گے اور ہم آپ کے ظلم سے غافل نہیں ہیں اور ہم نے اسے آپ کے تمام اہلِ خانہ پر عزت بخشی ہے بیشک آپ اور آپ کی اولاد سفر کرنے والے ہیں اور بیشک آپ کا دشمن مجرمین کا امام ہے آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے تم نے دنیاوی زندگی کی زینت طلب کی اور اس کو حاصل کرنے میں جلدی کی اور اپنے ساتھ کیے گئے اللہ اور اس کے رسول کے وعدہ کو بھول گئے اور پختہ عہد کرنے کے بعد انہیں توڑ ڈالا ہم آپ کے لیے مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ تم لوگ ہدایت پا جاؤ۔ اے پیغمبر ہم نے آپ کی طرف آیاتِ بینات نازل کی ہیں ان میں یہ بیان ہے کہ کون ایمان کی حالت میں مرے گا اور کون آپ کے بعد کھلم کھلا اس ولایت کا اظہار کرے گا۔ آپ ان سے منہ موڑ لیجئے بیشک وہ بھی منہ موڑنے والے ہیں بیشک ہم اس دن انہیں باندھ کر لانے والے ہیں جس دن انہیں کوئی بھی چیز کام نہیں آئے گی اور نہ ہی ان پر کوئی رحم کیا جائے گا بےشک ان لوگوں کا ٹھکانہ جہنم میں ہے جس سے انہیں نہیں ہٹایا جائے گا آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو جانشین بنا کر بھیجا تھا مگر لوگوں نے بغاوت کی تو صبر ہی بہت خوبصورت ہے۔ ہم نے ان میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور قیامت تک کے لیے ان پر لعنت کی۔ آپ صبر کریں وہ عنقریب اپنا انجام دیکھ لیں گے بیشک ہم نے آپ کے ذریعے ایسے ہی حکم دیا جیسے آپ سے پہلے رسولوں کے ذریعے تھا اور ان میں سے آپ کا وصی بنایا ہے شاید کہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں بیشک وہ میرے حکم سے منہ موڑے گا تو انہیں چاہیے کہ اپنے کفر کے سبب بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں اور آپ سے وعدہ توڑنے والوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ اے رسول ہم نے ایمان والوں کی گردنوں پر آپ کے لیے ایک عہد لیا ہے آپ اسے لیجیے اور شکر گزاروں میں سے ہو جائیے بیشک سیدنا علیؓ رات کو کھڑے ہونے والے سجدہ کرنے والے تھے آپ آخرت سے ڈرتے اور اپنے رب کے ثواب کی امید رکھتے۔ آپ فرما دیں کیا وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا اور وہ میرے عذاب کو جانتے ہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ زنجیروں کو ان کی گردنوں میں کر دے گا اور وہ اپنے اعمال پر نادم ہوں گے ہم آپ کو اس کی نیک اولاد کی بشارت دیتے ہیں اور بے شک وہ ہمارے حکم کی مخالفت نہیں کریں گے۔ ان پر میری طرف سے رحمتیں اور برکتیں ہوں زندگی میں اور مرنے کے بعد اور جس دن انہیں اٹھایا جائے گا اور ان لوگوں پر جو آپ کے بعد ان پر سرکشی کریں گے میرا غضب ہو، بے شک وہ بہت برے اور گھاٹا پانے والے لوگ ہیں۔ اور وہ لوگ جو آپ کی راہ پر چلیں گے ان پر میری طرف سے رحمتیں ہوں۔ اور وہ کمروں میں آرام سے ہوں گے۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ 
پھر اس کے بعد شیخ نوری طبری نے اس پر یہ نوٹ لگایا ہے: بے شک شیخ محمد بن علی بن شہر آشوب مار زندانی نے کتاب المثالب میں ذکر کیا ہے کہ حکایت نقل کی گئی ہے کہ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے قرآن سے پوری سورت ولایت ہی حذف کر دی تھی۔ اور شاید یہی وہ سورت ہو۔
(فصل الخطاب: صفحہ، 108)
(لا اله الا اللہ یہ کس قدر شدید اضطراب سے بھر پور ہے اس میں کس درجہ جہالت موجود ہے؟ اور اس میں کس درجہ عجمیت جھلک رہی ہے؟)
تعلیق:
یہ کلمات جنہیں قرآنِ حکیم سے جمع کر کے ایک اور انتہائی ردی قسم کی ترتیب دی گئی اس کا موضوع وہی بات ہے جس نے شیعہ مشائخ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اور وہ بات ہے۔ کتاب اللہ کا ان لوگوں کی گمراہیوں سے خالی ہونا۔ 
یہی وجہ ہے کہ اس خود ساختہ سورت میں سیدنا علیؓ کے امام ہونے کی وصیت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس وصی کی نافرمانی کی وجہ سے تکفیر کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ:
صفحہ 2 از 4