آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے والدین کو…

آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے والدین کو معاف فرمائے کہ آپ ایسی چند مثالیں بھی پیش فرما دیں جن میں شیعہ علماء نے اپنے تحریف قرآن کے عقیدے کی صراحت کی ہو؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 4
قُلْ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰٓى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا‏۝
(سورۃ الاسراء: آیت، 88) 
ترجمہ: فرما دیجیئے اگر سب انسان اور جنات جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔
دوسری مثال: شیعی شیخ کلینی روایت کرتا ہے کہ جابر جعفی نے بیان کیا جبرائیل یہ آیت اس طرح لے کر محمدﷺ پر نازل ہوئے تھے:
(وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا) فی علی (فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏)
(سورۃ البقرہ: آیت، 23)
(اصولِ الکافی: جلد، 1 صفحہ، 315 کتاب الحجة، باب فيه نكت و نتف من التزيل فی الولاية) 
ترجمہ: ہم نے جو کچھ اپنے بندے پر اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو یعنی علی کی بابت اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔
مزید سیدنا ابو جعفرؒ سے روایت کرتا ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی:
(وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ) فی علی (لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ)
(سورۃ النساء: آیت، 66)
(الكافی: جلد، 1 صفحہ، 424) 
ترجمہ: اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے۔ یعنی علی کے معاملے میں تو یقیناً یہی ان کیلئے بہتر ہو۔ نیز ابو عبد اللہؒ سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس طرح نقل کرتا ہے:
(وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ) فی ولایة على و ولاية الاںٔمة من بعدہٖ (فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا)
(سورۃ الاحزاب: آیت، 71)
(الكافی: جلد، 1 صفحہ، 414)
ترجمہ: اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے یعنی علی کی ولایت میں اور اس کے بعد ائمہ کی ولایت میں اس نے بڑی مراد پا لی۔
اسی طرح کلینی نے اپنی سند سے عبد اللہ بن سنان کے واسطے سے ابو عبد اللہ سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:
(وَلَقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ)کَلِمَاتٍ فِیْ مُحَمَّدٍ وَّ عَلِیُّ وَ فاَطِمَةَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَالْاَںِٔمَةَ مِنْ ذُرِّیَّتِھِمْ (فَنَسِىَ)
(سورۃ طہٰ: آیت، 115)
ترجمہ: ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دے دیا تھا۔ یعنی کلمات دیئے تھے محمدﷺ، علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ و حسینؓ اور ان کی اولاد میں سے ائمہ کے بارے میں لیکن وہ بھول گیا۔ 
اللہ کی قسم محمدﷺ پر اس طرح نازل ہوا تھا۔
سیدنا ابو عبد اللہؒ کہتے ہیں: اللہ کی قسم محمدﷺ پر یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی تھی۔ اسی طرح ابو عبد اللہؒ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل ہے۔
(فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ) يَا مَعْشَرَ الْمُكَذِّبِيْنَ حَيْثُ أَنْبَاتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّی فِی ولاية عَلِى عليه السلام و الائمة من بعده (مَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ)
(سورۃ الملك: آیت، 29) 
ترجمہ: آپ کہہ دیجیئے کہ وہی رحمٰن ہے ہم تو اس پر ایمان لا چکے اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے، تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے پھر یہ الفاظ بھی تھے اے مکذبین کی جماعت جیسے کہ میں نے تمہیں اپنے پرور دگار کا پیغام بتا دیا ہے، سیدنا علیؓ کی ولایت کے بارے میں اور اس کے بعد ائمہ کے بارے میں، کون ہے جو صریح گمراہی میں ہے 
یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی تھی۔
(أصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 318 ح، 45 باب فيه نكت ونتف من التنزيل فی الولاية)
احمد بن محمد بن ابونصر سے مروی ہے اس نے کہا ابو الحسن نے مجھے ایک مصحف عنایت فرمایا اور یہ کہا اس میں مت دیکھنا، میں نے اسے کھول کر پڑھا تو لکھا تھا:
لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ مُنۡفَكِّيۡنَ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ۝
(سورۃ البينة: آیت، 1)
ترجمہ: اہلِ کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آ جائے باز رہنے والے نہ تھے۔
تو میں نے اس میں قریش کے ستر آدمیوں کے نام، ان کے باپوں کے نام سمیت پائے، آپ نے فرمایا اس مصحف کو مجھے واپس بھیج دو۔
(أصول الكافی: جلد، 2 صفحہ، 824 كتاب فضل القرآن ح، 17 باب النوادر تفسير الصافی: جلد، 1 صفحہ، 40)
اور اس طرح انہوں نے ایک اور مَن گھڑت کہانی تیاری کرلی کہ ابو الحسن فرماتے ہیں سیدنا علیؓ کی ولایت تمام انبیاء علیہم السلام کے صحیفوں میں مندرج تھی اور اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو بھی نہیں بھیجا مگر محمدﷺ کی نبوت کے ساتھ اور سیدنا علیؓ کے وصی ہونے کی خبر دینے کے لیے بھیجا۔
(أصول الكافی: جلد، 1 صفحہ، 231 ح، 6 باب فی نتف و جوامع من الرواية فی الولاوية)
اور انہوں نے یہ بھی جھوٹ گھڑ لیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: 
اِنَّ (عَلِيًّا) جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَهٗ‌۔
(سورۃ القیامہ: آیت، 17،18)
(بحار الأنوار: جلد، 40 صفحہ، 156 ح، 54 باب علمه عليه السلام و أن النبیﷺ علمه ألف باب و أنه كان محدثاً)
ترجمہ: بےشک علیؓ پر ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا، وہ جب اسے پڑھ لے تو تم اس کے پڑھنے کے در پے رہو۔ 
اور شیعہ آیت اللہ نوری الطبرسی نے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ پر ایک اور جھوٹ گھڑ لیا وہ کہتا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا گیا ہے آپ سورت فاتحہ اور معوذ تین کے قرآن ہونے کا انکار کرتے تھے۔ 
(فصل الخطاب: صفحہ، 31 المقدمة الثالثة)
صفحہ 3 از 4