آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے والدین کو…

آپ سے امید رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے والدین کو معاف فرمائے کہ آپ ایسی چند مثالیں بھی پیش فرما دیں جن میں شیعہ علماء نے اپنے تحریف قرآن کے عقیدے کی صراحت کی ہو؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 4 از 4
ان کا شیخ الکاشانی کہتا ہے کہ: اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مستفاد ان تمام روایات اور دیگر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ جو قرآن اب ہمارے درمیان موجود ہے یہ وہ مکمل قرآن نہیں ہے جو عہد میں ہم پر نازل کیا گیا تھا، بلکہ اس میں وہ آیتیں بھی ہیں جو ان آیتوں کے برخلاف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی تھیں اور اس میں وہ چیزیں بھی ہیں جو تحریف شدہ اور متغیر ہیں اور بلاشبہ اس میں سے بہت سی چیزیں حذف بھی کردی گئی ہیں مثلاً علیؓ کا نام بہت ساری جگہوں سے نکال دیا گیا ہے۔ (متعدد جگہوں سے آلِ محمد کا ذکر حذف ہے اور کئی مقامات سے منافقین کے نام مٹادے گئے ہیں جو اپنے اپنے مقامات پر درج تھے)
(بریکٹ کے درمیان والے کلمات تفسیر الصافی کے مصور نسخہ: صفحہ نمبر، 24 میں ہیں)
اسی طرح اور بھی کئی چیزیں ہیں اور بلاشبہ یہ قرآن اس ترتیب کے مطابق بھی نہیں ہے جو ترتیب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پسندیدہ تھی۔
(تفسير الصافی: جلد، 1 صفحہ، 49 المقدمة السادسة، للکاشانی، کاشانی کے متعلق علماء شيعہ العلامة، المحقق، المدقق، جلیل القدر، عظیم الشان کے الفاظ استعمال کرتے ہیں دیکھیئے جامع الرواة للحائری، جلد، 2 صفحہ، 42)
خمینی نے کہا ہے کہ ہمارے قرآن میں سورت منافقون ہے ہمارے ہاں سورت کافرون نہیں ہے۔
(سوانح الأيام: صفحہ، 144 ابو الفضل البرقعی)
جب اس سے سوال کیا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ سیدنا علیؓ کا ذکر یا آپ کی امامت کی کوئی نص قرآن میں موجود نہیں ہے؟
تو اس نے یوں جواب دیا: نبی کریمﷺ قرآن میں امامت کا ذکر کرنے سے اس خوف کی بناء پر خاموش رہے کہ کہیں آپ کے بعد قرآن میں تحریف نہ کر دی جائے۔
(كشف الاسرار: صفحہ، 149 امامت کے بارے میں دوسری حدیث)
اہم ترین وضاحتی نوٹ:
سابقہ نصوص میں شیعہ علماء کی طرف سے اس امر کی واضح شہادت موجود ہے کہ ان کے ائمہ کے متعلق اور نہ ہی سیدنا علیؓ کے وصی ہونے کے متعلق کتابِ الٰہی میں کوئی ذکر موجود ہے یہ بات ان کی عمارتوں کو بنیادوں ہی سے اکھیڑ دینے کا باعث تھی اس لیے شیعہ علماء کے سامنے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا وہ قرآن میں تحریف ہونے کا عقیدہ گھڑ لیں اور کہیں کہ اس میں کمی بیشی ہوئی ہے اور اپنی عوام میں اس عقیدے کو لازمی قرار دے دیں۔
اسی لیے تو ان کے امام المجلسی نے یہ شہادت دے دی ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، ان کے نزدیک تحریف قرآن کی روایات و اخبار، امامت کی روایات و اخبار سے کم نہیں ہیں، لہٰذا جب تحریفِ قرآن کی بات ہی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی تو امامت کی بات بھی ثابت نہ ہو سکی اور نہ ہی دیگر شیعہ کے عقائد ہی ثابت ہو سکے مجلسی نے بالکل بجا کہا ہے کہ تحریف بالکل واقع نہیں ہوئی اور امامت کا مسئلہ بھی ثابت نہی ہوا اسی طرح (امام کے واپس لوٹ کر آنے والا) یعنی رجعت کا عقیدہ بھی ثابت نہ ہوا، اس جیسے وہ دیگر باطل عقائد بھی غیر ثابت ہیں جو کہ شیعہ علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے اس قرآن کے بارے میں فرما دیا تھا: 
وَمَا كَانَ هٰذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلٰكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۝ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰٮهُ‌ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ۝
(سورۃ یونس: آیت، 37-38)
ترجمہ: اور یہ قرآن ہرگز ایسا نہیں کہ اللہ کے غیر سے گھڑ لیا جائے اور لیکن اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے ہے اور رب العالمین کی طرف سے کتاب کی تفصیل ہے، جس میں کوئی شک نہیں۔ یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے کہہ دے تو تم اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سواء جسے بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔

صفحہ 4 از 4