Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دعوت کو عمل سے جوڑنا اور خدمت اسلام میں نوجوانوں کا مقام

  علی محمد الصلابی

رسول اللہﷺ کی قرارداد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کی امارت پر اصرار کیا تو صرف اس اصرار پر اکتفا نہ کیا بلکہ عملی طور پر ان کی امارت کا اعتراف کیا، اور یہ حقیقت دو باتوں سے واضح ہو جاتی ہے

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر ابھی اٹھارہ یا بیس سال تھی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی عمر ساٹھ سال سے متجاوز ہو چکی تھی، اس فرق کے باوجود سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیدل چل کر حضرت اسامہؓ کو رخصت کیا، جبکہ وہ سوار تھے اور جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ یا آپؓ سوار ہو جائیں یا مجھے نیچے اترنے کی اجازت دیں تو سیدنا ابوبکرؓ نے ان کی کسی بات میں موافقت نہ کی، نہ خود سوار ہوئے اور نہ ان کو نیچے اترنے کی اجازت دی اور اس طرح پیدل چل کر آپؓ نے لشکر اسامہ کو سيدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے اعتراف کی دعوت دی اور ان کے دلوں سے اس سلسلہ میں حرج کو ختم کیا۔ گویا کہ سیدنا ابوبکرؓ پیدل چل کر فوج کو خطاب کر رہے تھے: مسلمانو! دیکھو باوجودیکہ میں خلیفہ رسول ہوں، حضرت اسامہؓ کے ساتھ پیدل چل کر، جب کہ وہ سوار ہیں، ان کی امارت کا اقرار و احترام کر رہا ہوں کیونکہ ان کو ہمارے امام اعظم اور قائد اعلیٰﷺ نے امیر مقرر کیا ہے، تو بھلا آپؓ کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ ان کی امارت پر تنقید کریں۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 66)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ضرورت کے پیشِ نظر سیدنا عمر فاروقؓ کو مدینہ میں باقی رکھنا چاہتے تھے لیکن آپؓ نے اس کا حکم ان کو نہ دیا، بلکہ سیدنا اسامہؓ سے اجازت طلب کی کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو ان کو مدینہ میں چھوڑ دیں۔ اس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہؓ کی امارت کے احترام و اعتراف کی دوسری عملی تصویر پیش کی اور اس میں بلاشبہ فوج کو ان کی امارت کے اقرار و انقیاد کی مضبوط دعوت ہے۔

یہ عمل جس کا اہتمام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا، دعوت کو عمل سے جوڑنا ہے، جس کا اسلام نے حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو توبیخ فرمائی ہے جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہیں۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامہ: 66)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۞(سورۃ البقرۃ: آیت 44)

ترجمہ: کیا تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟

اس واقعہ سے خدمت اسلام کے سلسلہ میں نوجوانوں کے عظیم مقام کا پتہ چلتا ہے چنانچہ رسول اللہﷺ نے روم جیسی اپنے وقت کی عظیم قوت سے ٹکرانے کے لیے جو فوج تیار کی اس کا امیر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نوجوان کو مقرر فرمایا۔ اس وقت آپؓ کی عمر اٹھارہ یا بیس سال تھی اور لوگوں کے اعتراض کے باوجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو اس منصب پر باقی رکھا اور یہ نوجوان امیر بفضل الہٰی اپنی مہم سے فتح مندی اور مال غنیمت کے ساتھ واپس ہوا۔ اس واقعہ کے اندر نوجوانوں کو خدمت اسلام کے لیے اپنے مقام کو پہچاننے کا درس دیا گیا ہے۔ اگر ہم اسلامی دعوت کی مکی اور مدنی عہد کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں اس طرح کے بے شمار شواہد ملیں گے جو قرآن و سنت کی خدمت، حکومتی امور کی ادارت و انتظام اور دعوت و جہاد کے میدان میں شرکت کر کے نوجوانان اسلام نے جو خدمات انجام دی ہیں اس پر دلالت کرتے ہیں۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 70)