Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلامی جہاد کے آداب کی تابناک تصویر

  علی محمد الصلابی

لشکر اسامہ کا واقعہ ہمارے سامنے اسلامی جہاد کی تابناک تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ تصویر لشکر اسامہ کو رخصت کرتے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو وصیت فرمائی اس سے نمایاں ہوتی ہے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس وصیت میں رسول اللہﷺ کی سنت کی پیروی کی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺ امراء و افواج کو رخصت کرتے وقت وصیت فرمایا کرتے تھے۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 80)

مذکورہ وصیت کے جملوں سے مسلمانوں کی جنگ کا مقصد محض دعوتِ اسلام ہے۔ جب قومیں یہ دیکھیں گی کہ فوج اس طرح کی وصیتوں کا التزام کرتی ہے تو وہ خود بخود اسلام میں داخل ہو جائیں گی، ان کو کوئی چیز اسلام میں داخل ہونے سے روک نہ سکے گی۔

لوگ ایسی فوج دیکھیں گے جو خیانت نہیں کرتی، امانت کی حفاظت کرتی ہے، عہد و پیمان پورا کرتی ہے، لوگوں کا مال چوری نہیں کرتی، ناحق اس پر قابض نہیں ہوتی۔

ایسی فوج جو مقتولین کا مثلہ نہیں کرتی، قتل میں اچھائی کا ثبوت دیتی ہے، جیسا کہ عفو و درگزر میں اچھائی کا ثبوت دیتی ہے، بچوں پر رحم کرتی ہے، بڑوں، بوڑھوں کی تکریم ان کے ساتھ حسن سلوک سے آتی ہے اور خواتین کی حفاظت کرتی ہے۔

ایسی فوج جو مفتوحہ علاقوں کے مال و متاع کو تباہ نہیں کرتی، بلکہ کھجوروں کے باغات کی حفاظت کرتی ہے، اس کو نذر آتش نہیں کرتی، پھل دار درختوں کو نہیں کاٹتی اور فصلوں اور کھیتیوں کو تباہ نہیں کرتی۔

ایک طرف فوج جو انسانی ثروت کی حفاظت کرتے ہوئے غداری نہیں کرتی، خیانت نہیں کرتی، مال غنیمت کو نہیں چھپاتی، مقتول کا مثلہ نہیں کرتی، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو قتل نہیں کرتی، زرعی ثروت کی حفاظت کرتے ہوئے کھجوروں کو نہیں کاٹتی، نہ پھل دار درختوں کو کاٹتی ہے، وہیں دوسری طرف حیوانی ثروت کی حفاظت کرتے ہوئے بکری، گائے، اونٹ کو ذبح نہیں کرتی مگر یہ کہ کھانے کی ضرورت ہو۔ کیا غیر اسلامی افواج ان چیزوں میں سے کسی ایک کی بھی حفاظت کرتی ہیں؟ بلکہ وہ تو ملک کو تباہ و برباد اور اسے کھنڈر میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ اس کی زندہ مثال افغانستان۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 269)

بوسینیا، کوسوو، کشمیر، چیچنیا اور فلسطین پر ڈھائے جانے والے فوجی مظالم ہیں۔ غور کا مقام یہ ہے کہ اللہ کی ہدایت اور ملحدین کی ضلالت میں کتنا عظیم فرق ہے۔

اسلامی فوج عقائد و ادیان کا احترام کرتی ہے، عبادت خانوں میں مشغول عبادت گزاروں کی حفاظت کرتی ہے، ان کو کسی طرح کی اذیت نہیں پہنچاتی، یہ عملی دعوت، اسلامی رواداری اور سچی عدالت پر دلالت کرتی ہے لیکن جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں اور حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں، ان کا بدلہ قتل ہے تا کہ دوسروں کے لیے درس عبرت بنیں۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 269)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں جو کچھ کہا وہ صرف زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ مسلمانوں نے آپؓ کے دور میں اور آپؓ کے بعد آنے والے ادوار میں اس کو نافذ کیا۔

(قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ: صفحہ 81)

ان شاء اللہ فتوحات صدیقی کے بیان میں ہم اس کو ملاحظہ کریں گے۔