دور حاضر کے امامیہ اثناء عشریہ کے علماء کا اپنے مذہب کے…

دور حاضر کے امامیہ اثناء عشریہ کے علماء کا اپنے مذہب کے عقیدہ تحریف قرآن کے بارے میں کیا مؤقف ہے؟ اختصار سے بیان کر دیں۔

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3
انکا یہ قول تحریفِ قرآن کے قول ہی کی تائید ہے یہ اس کا دفاع نہیں ہے۔ آپ یہ دیکھ لیں کہ ان کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تفسیر تو تحریف ہے جبکہ ان کے شیوخ القمی، الکلینی اور المجلسی وغیرہ کی تحریف عین قرآن کی تفسیر ہے۔ شیعہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ ان روایات سے مراد نسخ ہے یا یہ یعنی قرآن میں موجود آیات سے زائد تعداد ان چیزوں میں سے ہے جس کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
(کتاب الوفی: جلد، 9 صفحہ، 1781 باب اختلاف القراءات وعدد الآیات)
رسواء کن بات:
 لیکن دورِ حاضر کا شیخ شیعہ جسے یہ لوگ امام الاکبر کے لقب سے یاد کرتے ہیں جو ان کے نزدیک الآیۃ العظمیٰ اور میدانِ علم کا قائد ہے اور ان کا مرجع اکبر ہے یعنی ابو القاسم الموسوی الخوئی وہ کہتا ہے تلاوت کے منسوخ ہونے والا قول بھی تحریف و اسقاط والا قول ہی ہے۔
(البیان فی تفسیر القرآن للخوئی: صفحہ، 205 صیانة القرآن من التحریف)
نسخ اور تحریف کے درمیان فرق تو واضح ہے، تحریف تو ایک انسانی عمل ہے جس کے فاعل کی اللہ تعالیٰ نے مذمت بیان فرمائی ہے جبکہ نسخ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَا اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ۞
(سورۃ البقرة: آیت، 106)
ترجمہ: ہم جب بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی (آیت) لے آتے ہیں۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
جب کہ یہ کتاب اللہ کسی بھی حال میں چھیڑنے کو مستلزم نہیں۔
ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ جو قرآن اب ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے اس میں تحریف تو نہیں ہوئی ہے لیکن یہ ناقص ہے اس میں سے وہ چیزیں ساقط ہو چکی ہیں جو سیدنا علیؓ کی ولایت کے ساتھ مختص تھیں۔
(اس لئے بہتر یہ تھا کہ شیعی علماء وحی کے نقص کے ابواب قائم کرتے یا وہ ایک اور وحیِ نزول یا عدم نزول کی صراحت کرتے تاکہ کافر، ضعیف العقل لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے سکتے کہ مسلمانوں کے ایک گروہ کے اعتراف کے مطابق قرآنِ مجید میں تحریف موجود ہے)
(الذریعة إلى تصانيف الشيعة: جلد، 3 صفحہ، 314)
وضاحتی نوٹ:
یہ قول بھی سابق قول ہی کی مثل ہے یہ بھی دفاع کرنے والا نہیں ہے بلکہ یہ تو تحریف کے وقوع اور نقص فی القرآن کی مزید تاکید ہے۔
پانچویں جماعت کا عقیدہ ہے کہ:  ہم موجودہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اس میں کوئی نقص اور کوئی زیادتی نہیں ہے البتہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہم اثناء عشری شیعہ کا گروہ اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس کے علاوہ بھی ایک ایسا قرآن ہے جسے سیدنا علیؓ جب وہ رسولﷺ کے کفن دفن سے اور آپﷺ کی وصایا کو نافذ کرنے سے فارغ ہوئے تھے تو اپنے دستِ مبارک سے تحریر کیا تھا۔ پھر ہر امام اس کی نگہداشت کرتا رہا جیسے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت ہوتی کہ وہ الامام المهدی القائم کے پاس محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ امام مہدی کا جلد خروج کر کے ہماری پریشانیاں ختم فرمائے-
(الذريعة الى تصانيف الشيعة: جلد، 3 صفحہ، 314، نمبر 1151)
وضاحتی نوٹ:
اس قول کے قائلین اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایک قرآن اور بھی ہے ہم اس کفر و ضلالت والے بیان سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
 قسم سوم: نقص و تحریفِ قرآنی کا ظاہراً انکار کرنے کے ساتھ ساتھ نقص و تحریف کا مکاری کے ساتھ اعتراف و اثبات کرنے کی پر زور کوشش اس طریق پر چلنے والوں میں سے سب سے خبیث اس کا شیخ الخوئی ہے جو عراق اور بعض دوسرے علاقوں میں شیعہ کا سابقہ مرکز و محور ہے اور وہ تفسیر البیان میں یوں اقرار کرتا ہے: 
شیعہ علماء اور محققین کے ہاں مشہور اور بالکل مصالحاتی بیان یہ ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی۔(لبيان فی تفسیر القرآن: صفحہ، 201 صیانة القرآن من التخریف رای المسلمین فی التخریف) 
وضاحتی نوٹ:
لیکن یہی الخوئی بنفس نفیس جملہ روایات تحریف کی صحت پر قطعی فیصلہ بھی دیتے ہوئے کہتا ہے بلاشبہ معصومین سے بعض روایات اور روایات کی کثرت تو یہ قطعی فیصلہ صادر کر رہی ہیں اور اس میں اطمینان سے کم کچھ نہیں، اور ان روایات میں سے ایسی بھی ہیں جو معتبر طریق سے مروی ہیں۔
(البیان فی التفسیر القرآن: صفحہ، 225)
الخوئی اپنے علماء سے نقص قرآن کے عقیدے کی نفی کر رہا ہے لیکن بذاتِ خود ہی سیدنا علیؓ کے ایک ایسے مصحف کے وجود کا اثبات بھی کر رہا ہے جن میں ان میں ایسے ایسے اضافے بھی موجود ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں وہ کہتا ہے:
سیدنا علیؓ کا مصحف موجودہ قرآنِ مجید کی سورتوں کی ترتیب میں بلاشک وشبہ مختلف ہے، اور علماء کرام نے اس مصحف علیؓ کے وجود پر اتنے دلائل دیے ہیں کہ اس کے ثبوت کے لیے تکلف کرنے سے بے پرواہ کر دیتا ہے، ایسے ہی مصحف علیؓ میں ایسی زیادہ اشیاء بھی ہیں جو موجودہ قرآن میں نہیں، اگرچہ یہ صحیح ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ زیادات قرآنِ مجید میں تھیں اور اسے تحریف کر کے ساقط کر دیا گیا ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ زیادات تاویل کے عنوان سے تفسیر تھی۔
(البیان فی التفسیر القرآن: صفحہ، 223 صیانة القرآن من التحریف شبہات القائلین بالتحریف)
اس کا خیال ہے کہ اس امت اور اس کے ہر اول دستے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآنی آیات کو ان معانی پر محمول کیا ہے جو غیر حقیقی تھے البتہ الکلینی کی تحریفات اور تھی اور العیاش کی آیات قرانیہ اس کے نزدیک کتاب اللہ کی حقیقی تفسیر ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ تم نے اپنی تفسیر میں سارے مشائخ کی توثیق کی ہے، اور قمی کی ساری تفسیر تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی روایات سے بھری ہوئی ہے۔ 
(معجم رجال الحدیث: جلد، 1صفحہ، 49 المقدمة الثالثة)
شیعہ الخوئی کہتا ہے: اس لیے ہم علی بن ابراہیم کے سارے ان اساتذہ اور مشائخ کی توثیق کرتے ہیں جن سے اس نے اپنی تفسیر میں معصومین ائمہ سے باسند روایات کی ہیں۔
شیعہ ذلت و رسوائی:
الخوئی اپنے آپ کو ذلیل و رسواء کرتے ہوئے اپنے تحریف والے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے
صفحہ 2 از 3