Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلامی خلافت کی ہیبت و دبدبہ پر لشکر اسامہ کا اثر

  علی محمد الصلابی

روم کو مرعوب کر کے لشکر اسامہ فتح و غنیمت کے ساتھ واپس ہوا، شاہ روم ہرقل جو اس وقت حمص میں موجود تھا اپنے جرنیلوں کو جمع کر کے ان سے کہا: اسی چیز سے میں نے تم کو ڈرایا تھا لیکن تم لوگوں نے میری بات نہ مانی۔ عرب مہینے بھر کی مسافت طے کر کے تم پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر اسی وقت بالکل صحیح سالم واپس ہو جاتے ہیں، ان کو زخم تک نہیں لگتا۔ ہرقل کے بھائی یناف نے کہا: فوج بھیجیے جو بلقاء (اردن) میں ڈٹ جائے اور حدود کی حفاظت کرے۔ اس نے ایسا ہی کیا، فوج روانہ کی، ان پر اپنے ایک ساتھی کو امیر مقرر کیا اور یہ فوج وہاں مقیم رہی یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں اسلامی افواج شام کی طرف آگے بڑھیں۔

(المغازی: جلد 3 صفحہ 1124طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 192)

پھر تمام رومیوں کو تعجب ہوا اور انہوں نے کہا: یہ کیسے لوگ ہیں، ان کا نبی وفات پا ہے پھر بھی یہ ہمارے ملک پر حملہ آور ہو رہے ہیں؟

(تہذیب ابن عساکر: جلد 1 صفحہ 125 تاریخ ابن عساکر: جلد 1 صفحہ 439)

اسی طرح شمال میں واقع عرب قبائل اسلامی سلطنت کی قوت سے خوفزدہ اور مرعوب ہو گئے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 270)

جس وقت لشکر اسامہ مدینہ پہنچا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کو لے کر مدینہ سے نکل کر ان کا استقبال کیا، لا الٰہ الا اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ اہل مدینہ نے پورے جوش و خروش اور مسرت کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ حضرت اسامہؓ مدینہ میں داخل ہوئے اور سیدھے مسجد نبویﷺ کا رخ کیا اور اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام پر سجدہ شکر ادا کیا۔ اس غزؤہ کا خود مسلمانوں کی زندگی اور پھر ان عربوں کی زندگی پر بڑا گہرا اثر ہوا، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہونا چاہتے تھے اور اسی طرح ان رومیوں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوا، جن کا ملک مسلمانوں کے حدود پر پھیلا ہوا تھا۔

(الصدیق لہیکل باشا: صفحہ 107)

اس فوج نے اپنی شہرت کے ذریعہ سے وہ کام کر لیا جو اپنی قوت و تعداد کے اعتبار سے نہ کر سکی۔ مرتدین کو جو آگے بڑھے تھے روک دیا، جو اکٹھے ہوئے تھے ان کو منتشر کر دیا اور جو مسلمانوں پر ٹوٹ پڑنے والے تھے، انہوں نے مصالحت میں اپنی عافیت سمجھی اور اسلحہ اتارنے سے قبل ہی ہیبت نے اپنا اثر دکھا دیا۔

(عبقریۃ الصدیق للعقاد: صفحہ 109)

یقیناً اس فوج کی اپنی مہم پر روانگی مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی۔ شمال میں ارتداد تمام محاذوں میں کمزور ترین ہو گیا اور شاید اس کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کا فتوحات کے وقت اس محاذ کو توڑنا عراق میں دشمن کے محاذ کو توڑنے کی بہ نسبت زیادہ آسان ثابت ہوا۔

(حرکۃ الرِّدّۃ: دیکھیے علی العتوم: صفحہ 168)

ان سب سے یہ بات موکد ہو جاتی ہے کہ مشکلات و شدائد کا حل تلاش کرنے والے ماہرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ ثاقب نظر اور عمیق فہم کے مالک تھے۔