کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟ -…

کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 1 از 3

کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟ 

 جواب: جی لیجیئے 
1:  شیعی علماء قرآنِ مجید کی تفسیر اپنے ائمہ سے کرتے ہیں۔ 
کلینی روایت کرتا ہے:
ابو خالد الکابلی کہتا ہے کہ میں نے سیدنا ابو جعفرؒ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر پوچھی فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالنُّوۡرِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلۡنَا‌ الخ۔ (سورۃ التغابن: آیت، 8)
 ترجمہ: پس تم اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا۔ 
تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اس نور سے مراد تا قیامت آنے والے آلِ محمدﷺ کے ائمہ ہیں۔ اللہ کی قسم ائمہ وہی نور ہیں جو اللہ نے نازل کیا۔ اللہ کی قسم وہ زمین و آسمان میں اللہ کا نور ہیں۔
(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 139کتاب الحجتہ، حدیث نمبر، 1 باب ان الائمہ علیھم السلام نور اللہ عزوجل تاویل الآیات الظاهرۃ فی فضائل العترۃ الطاہرہ: جلد، 2 صفحہ، 696 حدیث نمبر، 2 سورۃ التغابن، وما فیھامن الآیات الائمہ المھداۃ، تفسیر البرہان: جلد، 8 صفحہ، 27 ح، 2 سورۃ التغابن)
شیعی علامہ قمی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی جھوٹی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
الٓمّٓ۞ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۞  (سورۃ البقرة: آیت2،1)
ترجمہ: الم۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے پر ہیز گاروں کے لیے۔
ابو بصیر کی سند سے ابو عبداللہؒ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کتاب سے مراد علیؓ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔اور یہ شیعہ کے لیے ہدایت ہے۔
(تفسیر نور الثقلین: جلد ،1 صفحہ، 26 ح،5)
2: اسی طرح شیعی مفسرین قرآن مجید میں وارد النور سے ائمہ مراد لیتے ہیں۔
 شیعی شیخ کلینی ابو عبد اللہؒ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر کرتا ہے:
اَللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ‌ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشۡكَوٰةٍ فِيہَا مِصۡبَاحٌ‌ ٱلۡمِصۡبَاحُ فِى زُجَاجَةٍ‌ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّہَا كَوۡكَبٌ دُرِّىٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَـٰرَڪَةٍ زَيۡتُونَةٍ لَّا شَرۡقِيَّةٍ وَلَا غَرۡبِيَّةٍ يَكَادُ زَيۡتُہَا يُضِىٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٌ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ يَہۡدِى َاَللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَآءُ‌ۚ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَـٰلَ لِلنَّاسِ‌ وَاَللَّهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيمٌ۞
(سورۃ النور:آیت، 35)
ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین میں نور ہے اس کے نور کی مثال کچھ (یوں ہے) جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ ہو چراغ ایک شیشے (کی قندیل) میں ہو، شیشہ جیسے ایک ستارا ہو وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون (کے تیل) سے جلایا جاتا ہو جو نہ مشرقی ہو نہ غربی یوں لگے جیسے اس کا تیل خود بخود سلگ اٹھے اگرچہ اسے آگ نے مس نہ کیا ہو۔ وہ نور علیٰ نور ہے۔ اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ لوگوں لیے مثالیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
ابو عبد اللہؒ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ گرامی کی تفسیر میں فرمایا ہے: 
(اَللّٰهُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ مَثَلُ نُوۡرِهٖ كَمِشۡكٰوةٍ) فاطمهؓ۔
ترجمہ: اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے یعنی فاطمہؓ۔
(فِيۡهَا مِصۡبَاحٌ‌) ای: الحسنؓ۔
ترجمہ: جس میں چراغ ہو یعنی حسنؓ۔
(الۡمِصۡبَاحُ فِىۡ زُجَاجَةٍ‌) ای الحسينؓ۔
ترجمہ: اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو۔ یعنی حسینؓ۔
(اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوۡكَبٌ دُرِّىٌّ) فَاطِمَةُؓ كَوۡكَبٌ دُرِّىٌّ بَيْنَ نِسَاءِ أَهْلِ الدُّنْيَا۔
ترجمہ: شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو۔ یعنی فاطمہؓ اہلِ دنیا کی تمام خواتین کے درمیان چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ 
(يُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَةٍ مُّبٰـرَكَةٍ) إبراهيم۔
ترجمہ: وہ چراغ ایک با برکت درخت سے جلایا جاتا ہو یعنی ابراہیم۔ 
(زَيۡتُوۡنَةٍ لَّا شَرۡقِيَّةٍ وَّلَا غَرۡبِيَّةٍ) لَا يَهُودِيَّةٍ وَلَا نَصْرَانِيَّةٍ ۔
ترجمہ: زیتون کے درخت سے جو نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی یعنی وہ نہ تو یہودیت ہے اور نہ ہی نصرانیت۔ 
(يَّكَادُ زَيۡتُهَا يُضِىۡٓءُ) : يَكَادُ الْعِلْمُ يَنفَجِرُ بِهَا۔
ترجمہ: خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے یعنی قریب ہے کہ علم خود بخود ہی اس سے پھوٹنے لگے۔ 
(وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٌ‌ نُوۡرٌ عَلٰى نُوۡرٍ‌) إِمَامٌ مِّنْهَا بَعْدَ إِمَامٍ۔
ترجمہ: گو اسے مطلقاً آگ لگی ہی نہ ہو نور پر نور ہے یعنی ایک امام کے بعد دوسرا امام ہے۔ 
(يَهۡدِى اللّٰهُ لِنُوۡرِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌) يَهْدِي اللَّهُ لِلْأَئِمَّةِ مَنْ يَشَاءُ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہے ائمہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ 
(وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ‌)
 ترجمہ: لوگوں کے سمجھانے کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے۔ 
(اصول الکافی: جلد، 1صفحہ، 140کتاب الحجتہ حدیث نمبر، 5 ان الائمہ نور اللہ مرقدہ)
3: شیعی علماء شرک سے روکنے والی آیات کی تفسیر کرتے ہیں کہ وہ آیات علیؓ بن ابی طالب کی ولایت میں شرک کرنے سے روکنے والی ہیں یا آپؓ کی ولایت کا کفر کرنے سے روکنے والی ہیں۔ قمی سیدنا باقرؒ پر افتراء پردازی کرتے ہوئے روایت کرتا ہے (حالانکہ وہ اس سے بری ہیں) انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا: 
وَلَـقَدۡ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ‌ۚ لَئِنۡ اَشۡرَكۡتَ :تفسيرها لئن أمرت بولاية أحد مع ولاية على من بعدك) لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏۔ (سورة الزمر: آیت 65) 
ترجمہ: یقیناً آپ کی طرف وحی کی گئی اور آپ سے پہلے (انبیاء) کی طرف بھی کہ اگر آپ نے شرک کیا (اس کی تفسیر یہ ہے کہ اگر آپ نے علیؓ کی ولایت کے ساتھ کسی اور کی ولایت کا حکم دیا) تو آپ کے عمل ضائع ہو جائیں گے اور آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
(تفسیر القمی: صفحہ، 593 سورۃ الزمر، تفسیر نور الثقلین، جلد، 1 صفحہ، 498 تفسیر الصافی: جلد، 1 صفحہ، 328 سورۃ الزمر)
صفحہ 1 از 3