کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟ -…

کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 2 از 3
 شیعہ علامہ اور ان کا حجت اللہ کلینی ابو عبداللہؒ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی یہ تفسیر بیان کرتا ہے کہ اگر آپ نے ولایتِ علیؓ میں کسی دوسرے کو شریک کیا تو آپ کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔
(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 323)
شیعہ عالم عیاشی سیدنا ابو جعفرؒ سے جھوٹی روایت کرتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تفسیر اس طرح کی ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ (يعنى أنه لا يغفر لمن يكفر بولاية على) وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ (يعنى لمن والى علياؓ) (سورۃ النساء: آیت، 48)
ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا (یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں بخشے گا جو علیؓ کی ولایت کا انکار کرتا ہے) اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ (یعنی محبانِ علی کو معاف کر دے گا)  
(تفسیر العیاشی: جلد، 1 صفحہ، 272 حدیث نمبر، 149 تفسیر البرہان)
4: شیعہ مفسرین جن آیات میں ایک اللہ کی عبادت کا حکم اور طاغوت سے اجتناب کا امر ہے اس کی تفسیر ائمہ ولایت اور ائمہ کے دشمنوں سے برأت کرنا کرتے ہیں۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابو جعفرؒ نے فرمایا( اور یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ایسا فرمائے) اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ہماری ولایت کی خبر دینے اور ہمارے دشمنوں سے برأت کا اعلان کرنے کے لیے مبعوث کیا۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمائی ہے اور وہ یہ ہے:
وَلَـقَدۡ بَعَثۡنَا فِىۡ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ‌ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ هَدَى اللّٰهُ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ الضَّلٰلَةُ‌ (بتكذيبهم آلِ محمد) (سورۃ النحل: آیت نمبر، 37) 
ترجمہ: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سواء تمام معبودوں سے بچو، پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی۔ 
(یعنی آلِ محمد کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ان پر ضلالت ثابت ہو گئی)
(تفسیر العیاشی: جلد، 2 صفحہ، 280 تفسیر الصافی: جلد، 3 صفحہ، 134)
اور ابو عبد اللہؒ نے فرمایا اور وہ اس قول سے بری ہیں:
وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَـتَّخِذُوۡۤا اِلٰهَيۡنِ اثۡنَيۡنِ‌(يَعني بِذَلِكَ لَا تَتَّخِذُوا إِمَامَيْنِ اثْنَيْنِ)۔  (سورۃ النحل: آیت، 51)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ (یہاں سے مراد یہ ہے کہ دو امام نہ بناؤ)
اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ- إِمَامٌ وَاحِدٌ۔
ترجمہ: معبود تو صرف وہی اکیلا ہے (یعنی امام صرف ایک ہے۔) 
(تفسیر العیاشی: جلد، 2 صفحہ، 283 تفسیر نور الثقلین: جلد، 3 صفحہ، 60)
یہ لوگ کفار و منافقین کے بارے میں وارد آیات کی تفسیر کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مراد لیتے ہیں۔ 
انہوں نے روایت بیان کی ہے کہ ابو عبد اللہؒ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ۞
(سورۃ فصلت: آیت، 29)
ترجمہ: اور یہ کافر لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان جنات اور انسانوں دونوں کی صورت دکھائیے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ایسا روندیں کہ وہ خوب ذلیل ہوں۔
کے متعلق فرمایا اس سے مراد وہ دونوں ہیں پھر فرمایا اور فلاں تو پکا شیطان تھا۔
ان کا علامہ مجلسی کہتا ہے دونوں سے مراد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ ہیں اور فلاں سے مراد سیدنا عمرؓ ہے۔ قرآن کی جس آیت میں بھی جن کا ذکر ہو تو اس سے سیدنا عمرؓ مراد ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ یا تو وہ خود شیطان تھا یا تو اس میں شیطان کے شریک ہونے کی وجہ سے، کیونکہ وہ زانی کا بچہ ہے۔ یا مکر و فریب اور دھوکے بازی میں شیطان کی طرح تھا۔ اور دوسرا احتمال یہ ہو سکتا ہے کہ وہ سیدنا ابوبکرؓ مراد ہو۔ 
(مرآۃ العقول: جلد، 26 صفحہ، 288)
اسی طرح شیعی علماء کی سند سے ابو عبد اللہؒ سے جھوٹی روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد:
 وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ الخ۔ (سورۃ البقرة: آیت، 168) 
ترجمہ: اور تم شیطانی راہوں پر مت چلو۔
کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد دوسرے (عمرؓ) اور پہلے (ابوبکرؓ) کی ولایت ہے۔ 
(تفسیر العیاشی: جلد، 1 صفحہ، 121حدیث، 300 سورۃ البقرۃ)
مزید روایت کرتے ہیں کہ ابو عبد اللہؒ نے فرمایا اور وہ اس سے بری ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:
يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ (ابوبكرؓ و عمرؓ)  (سورۃ النساء: آیت، 51) 
ترجمہ: وہ بتوں کا اور باطل معبودوں کا اعتقاد رکھتے ہیں۔
اس کی تفسیر یہ ہے کہ بت اور شیطان سے مراد فلاں فلاں ہیں۔ 
(بصائر الدرجات الكبرىٰ: جلد، 1 صفحہ، 87 ح، 3 باب معرفة ائمه الهدى من ائمة الضلال وأنهم الجبت والطاغوت والفواحش تفسير العياشی: جلد، 1 صفحہ، 273 حدیث نمبر، 153(سورة النساء) بشارة المصطفىٰ الشيعة المرتضیٰ: صفحہ، 297 حدیث، 37)
فلاں فلاں کی وضاحت کرتے ہوئے مجلسی کہتا ہے اس سے مراد ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔
5: شیعی علماء دنوں اور مہینوں کی تفسیر بھی اپنے ائمہ سے کرتے ہیں۔
سیدنا باقرؒ سے جھوٹی روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ الخ۔ (سورۃ التوبہ: آیت، 36) :الآية سال کے بارہ مہینے ہیں، اور وہ سیدنا علیؓ اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کی تعداد ہے۔مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ الخ اس میں سے چار حرمت والے ہیں، جو ایک ہی نام کے ہیں علی، علیؓ ابوالحسن عسکریؒ، علی بن موسیٰؒ،علی بن محمدؒ۔
(مناقب آلِ ابی طالب: جلد، 1 صفحہ، 230 فصل فی الآیات المنزلتہ فیھم علیہم السلام)
صفحہ 2 از 3