کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟ -…

کیا آپ شیعی علماء کی تفسیر کے چند نمونے ذکر فرمائیں گے؟

  الشیخ عبدالرحمٰن الششری

صفحہ 3 از 3
سیدنا ابو الحسن العسکریؒ سے روایت کرتے ہیں (حالانکہ وہ اس الزام سے بری ہیں) کہ انہوں نے فرمایا: (سبت) ہفتہ رسولﷺ ہیں۔ (الاحد) اتوار سے مراد علیؓ ہیں، (الاثنین) سوموار سے مراد حسنؓ و حسینؓ (الثلاثہ) منگل سے مراد علی بن حسینؒ، محمد بن علیؒ، اور جعفر بن محمدؒ ہیں۔ (الأربعا) بدھ سے مراد موسیٰ بن جعفرؒ، علی بن موسیٰؒ، محمد بن علیؒ اور میں ہوں۔ (الخمیس) جمعرات سے مراد میرا بیٹا حسن بن علیؒ ہے اور الجمعہ سے مراد میرا پوتا ہے۔ 
(وسائل الشیعہ: جلد، 5 صفحہ، 43 حدیث، 18 باب وجوب تعظیم یوم الجمعہ)
شیعہ کی رسوائی:
شیعہ نے ایامِ ہفتہ کے متعلق ایسی روایات گھڑ لی ہیں جن میں بعض ایام کی مذمت پائی جاتی ہے۔ یعنی ایک طرف اپنے ائمہ کو ہفتہ اتوار قرار دیتے ہیں دوسری طرف ایسی روایات بیان کرتے ہیں جو انہی دنوں کی مذمت کرتی ہیں۔
مثلاً ابو عبد اللہؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہفتہ ہمارا ہے، اتوار ہمارے شیعہ کا ہے، سوموار ہمارے دشمنوں کا ہے، منگل بنو امیہ کا ہے اور بدھ وہ دن ہے جس دن انہوں نے دوا پی تھی۔
(الخصال: جلد، 2 صفحہ، 378۔ وسفینتہ البحار: جلد، 1 صفحہ، 519)
نیز ایک روایت گھڑ کر موسیٰ بن جعفرؒ کی طرف منسوب کر دی ہے کہ آپ کہتے ہیں:
پیر کے دن سے بڑھ کر کوئی اور دن منحوس نہیں ہے۔
تعارض:
انہوں نے اپنی طرف سے ایک اور روایت گھڑ کر سیدنا علیؓ کی طرف منسوب کر دی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: 
اہلِ ایمان میں سے جو کوئی پیر کے دن مر گیا اللہ تعالیٰ اسے اور ہمارے دشمنان بنو امیہ کو جہنم میں کبھی اکٹھا نہیں فرمائیں گے۔ اور جو کوئی اہلِ ایمان منگل کے دن مر گیا اللہ تعالیٰ حشر میں اسے ہمارے ساتھ رفیقِ اعلیٰ میں اٹھائیں گے۔
(معالم الزلفی: صفحہ، 431)
گرتی دیوار کو ایک دھکا اور شیعہ علماء کی کمر توڑ دینے والی دلیل:
خود شیعہ نے ہی اپنی کمر پر ایک اور ماتمی کلہاڑے کا وار کیا انہوں نے سیدنا علیؓ بن ابی طالب کی اس قدر توہین کی ہے کہ قرآنِ مجید میں مذکور بعض حشراتُ الارض کی تفسیر کرتے ہوئے انہیں سیدنا علیؓ قرار دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا ‌الخ۔
(سورۃ البقرة: آیت، 26)
ترجمہ: بے شک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی سی مثال بیان کرے مچھر کی ہو یا اس سے بھی بڑھ کر حقیر یا عظیم ہو۔
کی تفسیر میں شیخ قمی نے کہا ہے کہ سیدنا ابو عبد اللہؒ کہتے ہیں: مچھر سے مراد سیدنا علیؓ ہیں۔
(تفسیر القمی: صفحہ، 37 اور تفسیر نور الثقلین: جلد، 1 صفحہ، 45 ح، 64 سورۃ البقرة)

صفحہ 3 از 3