Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بعض آیات جو مرتدین کی طرف اشارہ کرتی ہیں

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ نے دین اسلام سے مرتد ہونے والوں کے لیے ایسی آیات نازل کی ہیں جو اس وبائی اوندھے پن پر دلالت کرتی ہیں، جس کی طرف وہ پلٹے ہیں۔ جیسے ایڑی کے بل پلٹ جانا، پیٹھ کے بل پلٹ جانا، خسران و گھاٹے کے ساتھ لوٹنا، چہروں کا میٹ دیا جانا، منہ میں ہاتھ لوٹا لینا، ارتیاب وتردد، چہروں کا کالا پڑ جانا۔

(حرکۃ الردۃ: دیکھیے علی العتوم: صفحہ 18)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ

(سورۃ آل عمران: آیت 149)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم کافروں کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے بل پلٹا دیں گے، (یعنی تمہیں مرتد بنا دیں گے) پھر تم خسران اور گھاٹے کے ساتھ لوٹو گے، (یعنی نامراد ہو جاؤ گے)

اور ارشاد ربانی ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰ أَدْبَارِهَا أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا (سورۃ النساء آیت 47)

ترجمہ: اے اہلِ کتاب! جو کچھ ہم نے نازل فرمایا ہے جو اس کی بھی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے، اس پر ایمان لاؤ، اس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انہیں لوٹا کر پیٹھ کی طرف کر دیں یا ان پر لعنت بھیجیں جیسے ہم نے ہفتہ کے دن والوں پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ کا کام کیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے: چہرہ بگاڑنے سے مقصود اندھا کر دینا اور پیٹھ کی طرف لوٹا کر کر دینے کا مطلب ہے: گدی، یعنی پیچھے کی طرف دو آنکھیں کر دیں گے اور یہ عقاب اور سزا کا انتہائی بلیغ اسلوب ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے حق سے پھر جانے اور باطل کی طرف لوٹ آنے اور واضح و روشن شاہراہ کو چھوڑ کر راہ ضلالت اختیار کرنے اور پیٹھ کے بل پیچھے کی طرف چلنے کی مثال بیان کی ہے۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 507، 508 طبعۃ الحلبی)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ( سورۃآل عمران آیت 106)

ترجمہ: جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ۔ سیاہ چہرے والوں (سے کہا جائے گا کہ) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔

امام قرطبیؒ نے یہاں بہت سے اقوال ذکر کیے ہیں اور انھی اقوال میں سے قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت مرتدین کے بارے میں ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی ذکر کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس حدیث سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ یہ آیت ارتداد سے متعلق ہے۔ وہ حدیث یہ ہے:

یرد علی الحوض یوم القیامۃ رہطٌ من اصحابی فیُجلون عن الحوض فاقول: یا رب اصحابی! فیقول: انک لا علم لک بما احدثوا بعدک انہم ارتدُّوا علی ادبارہم القہقری

ترجمہ: قیامت کے دن میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ حوض پر آئیں گے، انہیں حوض سے ہٹا دیا جائے گا، میں کہوں گا: اے میرے رب یہ میرے ساتھی ہیں، اللہ فرمائے گا: تم کو نہیں معلوم تمہارے بعد انہوں نے کیا کیا بدعات ایجاد کی تھیں، یہ تو اپنی پیٹھ پیچھے الٹے پاؤں لوٹ گئے تھے۔

(تفسیر القرطبی: جلد 4 صفحہ 166)

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یوں وارد ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

یجاء برجالٍ من امتی فیؤخذ بہم ذات الیمین فاقول: اصحابی! فیقال: انک لا تدری ما احدثوا بعدک، فاقول کما قال العبد الصالح: {وَ کُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًامَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْہِمْ} فیقال: انہم لم یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتہم۔

ترجمہ: میری امت کے کچھ افراد کو لایا جائے گا، پھر انہیں دائیں طرف موڑ دیا جائے گا، میں کہوں گا: یہ میرے ساتھی ہیں، جواب ملے گا: تم نہیں جانتے انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کی تھیں پھر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح (عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا تھا: میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی ان پر مطلع رہا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا: جب سے تم ان کو چھوڑ کر آئے ہو یہ اپنی ایڑیوں کے بل ارتداد میں پڑے ہوئے تھے۔ 

(الخصائص الکبری للسیوطی: جلد 2 صفحہ 456)