Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دور نبوی کے اخیر میں ارتداد

  علی محمد الصلابی

ارتداد کا آغاز 9 ہجری سے ہوا، جسے عام الوفود کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سال ہے جب جزیرہ عرب نے رسول اللہﷺ کی قیادت کو تسلیم کر لیا اور اس کے سردار قائدین مختلف علاقوں سے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس مدت میں ارتداد کی تحریک وسیع پیمانے پر ظاہر نہیں ہوئی تھی لیکن 10 ہجری کے اواخر میں جب رسول اللہﷺ نے حج کیا اور مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو لوگوں کے کانوں میں ارتداد کی آواز پہنچنے لگی اور اس کی چنگاری راکھ کے نیچے بھڑکنے لگی۔ سانپ اپنے سر سوراخ سے نکالنے لگے، جن کے دل مریض تھے، انہیں خروج کی جرأت آئی۔ چنانچہ اسود عنسی یمن میں، مسیلمہ کذاب یمامہ میں اور طلیحہ اسدی اپنے اپنے علاقہ میں اٹھ کھڑے ہوئے۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 65)

 اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب اسلام کے لیے عظیم خطرہ بن گئے، یہ اپنے ارتداد کی ڈگر پر ڈٹ گئے اس سے لوٹنے کا امکان نہ رہا اور ان کو افراد و وسائل کی عظیم قوت حاصل ہو گئی۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں اپنے نبیﷺ کو خواب دکھایا جس سے آپﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور پھر آپﷺ کے بعد آپﷺ کی امت کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ ایک دن منبر پر خطبہ دیتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا: لوگو! مجھے شب قدر دکھائی گئی، پھر مجھے بھلا دیا گیا اور میں نے اپنے دونوں بازوؤں میں سونے کے دو کنگن دیکھے، مجھے یہ بات ناگوار گذری، پھر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے، میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے کی۔ یمن والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔

(البخاری: صفحہ 3621 مسلم: 2273 مسند احمد: رقم: صفحہ 11407)

اہلِ علم نے اس خواب کی تعبیر کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے: نبی کریمﷺ کا پھونک مارنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ دونوں آپﷺ کے اشارے پر قتل کیے جائیں گے، بذات خود آپﷺ ان سے جنگ نہیں کریں گے۔ اور آپﷺ کا یہ بیان کرنا کہ وہ دونوں کنگن سونے کے تھے، یہ ان دونوں کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان کی اساس ملمع سازی اور ظاہری تزئین پر ہوتی ہے۔ اور اسی طرح سوارین کا لفظ اس پر دلالت کرتا کہ یہ دونوں بادشاہ ہوں گے اس لیے کہ أساورہ بادشاہ تھا اور آپﷺ کے دونوں ہاتھوں کو محیط ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک وقت تک ان کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے انتہائی سنگین ہو گا کیونکہ کنگن بازو کو چمٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 66)

اور ڈاکٹر علی عتومؒ اس کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان دونوں کا پھونک سے اڑ جانا ان کے مکرو چال کی کمزوری پر دلالت کرتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی بڑے ہوں، وہ جھاگ کی طرح ہیں جس کے لیے زوال لازمی ہے اور جب یہ کید و مکر شیطان کی طرف سے ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ معمولی سا حملہ ان کو داستان پارینہ میں تبدیل کر دے گا اور ان دونوں کا سونے کا ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں کا مقصود محض دنیا ہوگا کیونکہ سونا دنیاوی مال و متاع کی علامت ہے، جس کے پیچھے فریب خوردہ لوگ دوڑتے ہیں اور کنگن ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوں ہر چہار جانب سے مسلمانوں کو گھیر کر ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جس طرح کنگن کلائی کو اپنے گھیرے میں لیے رہتا ہے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ: 66)