Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدینہ کی حفاظت کا منصوبہ

  علی محمد الصلابی

بعض قبائل کے وفود جو زکوٰۃ کی ادائیگی سے رک گئے تھے، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کی کوشش کی کہ سیدنا ابوبکرؓ کو زکوٰۃ نہ وصول کرنے پر مطمئن کر دیں لیکن سیدنا ابوبکرؓ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، ان وفود نے جب سیدنا ابوبکرؓ کا عزم دیکھا تو مدینہ سے واپس ہو گئے لیکن مدینہ سے جاتے وقت دو باتیں ان کے ذہن میں راسخ تھیں:

1: منع زکوٰۃ کے سلسلہ میں کوئی گفتگو کار گر نہیں، اس سلسلہ میں اسلام کا حکم واضح ہے اور خلیفہ کی اپنی رائے اور عزم سے پیچھے ہٹنے کی کوئی امید نہیں، خاص کر جب کہ مسلمان دلیل کے واضح ہونے کے بعد آپ کی رائے سے متفق ہو چکے ہیں اور آپؓ کی تائید کے لیے کمر بستہ ہیں۔

2: بزعم خویش مسلمانوں کی کمزوری اور قلت تعداد کو غنیمت جانتے ہوئے مدینہ پر ایک ایسا زور دار حملہ کیا جائے جس سے اسلامی حکومت گر جائے اور اس دین کا خاتمہ ہو جائے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 280)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے چہروں سے ان کی غداری کو بھانپ لیا اور اپنی فراست سے ان کی کمینگی اور رذالت کا پتہ چلا لیا، اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ لوگ کافر ہو چکے ہیں، ان کے وفود نے تمہاری قلت دیکھ لی ہے، وہ رات یا دن میں بھی تم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ تم سے سب سے زیادہ قریب ایک برید (بارہ میل) کے فاصلے پر ہیں۔ یہ لوگ یہ امید لے کر آئے تھے کہ ہم ان کی بات مان لیں گے اور ان کو چھوڑ دیں گے۔ ہم نے ان کے مطالبہ کو ٹھکرا دیا اور ان کے عہد و پیمان کو ان کے حوالے کر دیا تو وہ تیاری کر چکے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 64)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خطرے سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ سے منصوبہ بندی کی:

اہل مدینہ پر لازم قرار دیا کہ وہ مسجد ہی میں رات گزاریں تاکہ دفاع کے لیے مکمل طریقہ سے تیار رہیں۔

مدینہ کے مختلف راستوں پر حفاظتی دستے بٹھائے، ان کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ وہیں رات گزاریں اور جب کوئی حملہ ہو تو دفاع کریں۔

حفاظتی دستوں پر امراء مقرر کیے جو مندرجہ ذیل تھے: سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا زبیر بن العوام، سیدنا طلحہ بن عبیداللہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم.

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 64)

مدینہ کے اردگرد جو قبائل اسلام پر قائم تھے جیسے اسلم، غفار، مزینہ، اشجع، جہینہ، کعب، ان سب کو خط لکھا اور انہیں مرتدین سے جہاد کا حکم دیا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ کے حکم کو قبول کیا اور مدینہ ان سے بھر گیا۔ ان کے ساتھ گھوڑے، اونٹ تھے، جنہیں انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔

(الثابتون علی الاسلام ایام فتنۃ الردۃ: دیکھیے مہدی رزق اللہ:  صفحہ،21)

ان قبائل کے افراد کی کثرت اور ان کی غیر معمولی امداد کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ صرف جہینہ نے چار سو افراد اونٹوں اور گھوڑوں کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کیے اور حضرت عمرو بن امیہ جہنیؓ نے سو اونٹ مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیجے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔

(الثابتون علی الاسلام ایام فتنۃ الردۃ: دیکھیےمہدی رزق اللہ: صفحہ 21)

جو مرتدین مدینہ سے دور رہے اور ان سے خطرہ کم ہو گیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے خطوط کے ذریعہ سے جنگ کی چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے مسلم امراء اور والیان کو مختلف علاقوں میں خطوط لکھے جیسا کہ رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے۔ انہیں مرتدین سے قتال کے لیے اٹھ کھڑے ہونے پر ابھارتے اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے پر برانگیختہ کرتے۔ اس کی واضح مثال وہ خط ہے جو آپؓ نے اہلِ یمن کو تحریر کیا تھا، جہاں اسود عنسی کے ساتھ مرتدین کا لشکر موجود تھا۔ اس خط میں آپؓ نے تحریر فرمایا: اما بعد! ابنائے فارس کی ان کے مخالفین کے خلاف مدد کرو اور ان کا مکمل ساتھ دو اور فیروز کی بات مانو، اس کی کوشش میں شریک رہو، میں نے اس کو والی مقرر کیا ہے۔

(البدء والتاریخ للمقدسی: جلد 5 صفحہ157)

یہ خط نتیجہ خیز ثابت ہوا، فارسی نژاد مسلم نوجوان فیروز کی قیادت میں اٹھے اور عرب نوجوانوں نے ان کا ساتھ دیا اور مل کر انہوں نے مرتدین پر ایسا حملہ کیا کہ ان کی ساری سازشیں اللہ نے ناکام کر دیں اور یمن رفتہ رفتہ راہ حق پر آ گیا۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 74)

اور مرتدین میں سے جو مدینہ سے قریب تھے ان کا خطرہ بڑھ چکا تھا جیسے بنو عبس اور بنو ذبیان۔ تاہم جن ناگفتہ بہ حالات سے مدینہ گذر رہا تھا سیدنا ابوبکرؓ نے ان سے قتال کو ناگزیر سمجھا۔ مرتدین کی غداری سے بچانے کے لیے خواتین اور بچوں کو قلعوں میں محفوظ کر دیا.

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 74)

 اور ان سے قتال کے لیے تیار ہو گئے۔