مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی - دفاعِ اہلِ…

مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

مرتدین کے وفود کے مدینہ سے لوٹنے کے تین دن بعد بعض قبائل اسد، غطفان، عبس، ذبیان اور بکر نے مدینہ پر راتوں رات چڑھائی کی اور کچھ لوگوں کو ذو حسی میں چھوڑ دیا تا کہ وہ ان کے لیے پشت پناہ رہیں۔ مدینہ کے راستوں پر حفاظتی دستوں کو اس کا احساس ہو گیا، انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خبر بھیجی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے انہیں حکم بھیجا کہ اپنے مقامات پر ڈٹے رہو۔ وہ اپنی جگہ ڈٹ گئے اور جو لوگ مسجد میں تھے وہ اونٹوں پر سوار ہو کر ان کی طرف آگے بڑھے۔ دشمن کی ہوا اکھڑ گئی۔ مسلمانوں نے اونٹوں پر سوار ہو کر ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ ذو حسی تک پہنچے، وہاں موجود مددگار مشکیزے لے کر نکلے جس میں ہوا بھر رکھی تھی اور رسی سے باندھ رکھا تھا، پھر اسے اونٹوں کے سامنے پیروں سے لڑھکا دیا۔ ہر مشکیزہ اپنی رسی سے لڑھک گیا، مسلمانوں کے اونٹ اپنے سواروں کے ساتھ بدک اٹھے۔ اونٹ مشکیزوں سے جس بری طرح بدکتے ہیں اتنا اور کسی چیز سے نہیں بدکتے، اونٹ اس قدر بدکے کہ قابو سے باہر ہو گئے، مدینہ آکر دم لیا لیکن کوئی مسلمان نہ سواری سے گرا اور نہ اس کو زخم لگے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 65)

موقع پر عبداللہ لیثی نے کہا:

اطعنا رسول اللہ ما کان بیننا

فینا لعبادِ اللہ ما لابی بکر

ترجمہ: رسول اللہﷺ جب تک ہمارے درمیان تھے ہم نے آپﷺ کی اطاعت کی، اللہ کے بندو! اب سیدنا ابوبکرؓ کو کیا لینا دینا ہے۔

ایورثہا بکرا اذا مات بعدَہ 

وتلک لعمرُ اللہ قاصمۃُ الظَّہر

ترجمہ: اپنی موت کے بعد کیا بکر کو وارث بنائے گا؟ اللہ کی قسم یہ کمر توڑ مصیبت ہے۔

فہلَّا رددتم وفدنا بزمانہ

وہلَّا خَشِیتُم حس راغبۃ البکر

ترجمہ: تم نے ہمارے وفد کو کیوں لوٹا دیا، تم کیوں نہیں بکر کو چاہنے والے حس سے ڈرے؟

وان التی سالوکم فمنعتُم

لکالتَّمر او احلی الی من التَّمْرِ

ترجمہ: اور تم لوگوں سے جس چیز کا مطالبہ کیا اور تم نے اس کو مسترد کر دیا، وہ میرے نزدیک کھجور یا کھجور سے زیادہ شیریں تھیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 65)

اس واقعہ سے لوگوں کو یہ گمان ہو گیا کہ مسلمان کمزور ہیں۔ ذوالقصہ کے لوگوں کو خبر بھیج دی، وہ لوگ ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے آگئے، ان کو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کی خبر نہ تھی۔ ادھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پوری رات تیاری میں لگے رہے، پھر پوری تیاری کے ساتھ رات کے اخیر حصہ میں نکلے، میمنہ پر نعمان بن مقرن، میسرہ پر عبداللہ بن مقرن اور ساقہ پر سوید بن مقرن تھے، آپؓ کے ساتھ شہسوار بھی تھے۔ فجر طلوع ہوتے ہی اسلامی فوج اور دشمن ایک ہی میدان میں تھے۔ دشمن کو اس کا احساس تک نہ ہو سکا، جب ان پر تلواریں پڑنے لگیں تب پتہ چلا رات کے اخیر حصہ میں جنگ جاری رکھی اور سورج نکلتے ہی دشمن بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمان غالب آئے اور ان کی تمام سواریاں مسلمانوں کے ہاتھ آگئیں۔ طلیحہ اسدی کا بھائی حبال قتل ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا پیچھا کیا اور ذوالقصہ پہنچے، یہ پہلی فتح تھی۔ وہاں نعمان بن مقرن کو کچھ لوگوں کے ساتھ چھوڑ کر خود مدینہ چلے آئے۔ بنو ذبیان اور عبس نے وہاں مسلمانوں پر دھاوا بول دیا اور انہیں قتل کر ڈالا اور یہی حرکت ان لوگوں نے بھی کی جو ان کے پیچھے تھے۔ مسلمانوں کو سیدنا ابوبکرؓ کے حملہ سے اس طرح عزت و غلبہ نصیب ہوا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھالی کہ ہر مقتول کے بدلے مشرکین میں سے ضرور قتل کروں گا اور ہر قبیلہ میں سے جتنے مسلمان قتل ہوئے ان کے برابر اور ان سے زیادہ لوگوں کو قتل کروں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 66)

اسی سلسلہ میں زیاد بن حنظلہ تمیمی نے کہا:

غَــداۃَ سـعی ابـوبـکر الـیـہــم

کما یَسعٰی لموتتہ جُلالُ

ترجمہ: صبح صبح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف بڑھے جیسے اپنی موت کی طرف اونٹ بڑھتے ہیں۔

اراحَ علی نَواہِقِہا عَلِیًّا

ومَجَّ لہُنَّ مُہْجَتَہَ حِبالُ

ترجمہ: حضرت علیؓ کو ان کے گدھوں کی طرف روانہ کیا اور حبال نے اپنی جان گنوا دی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 66)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ عزم مصمم کر لیا کہ مسلم شہداء کا انتقام ضرور لیں گے اور ان حاقدین کی تادیب ضرور کریں گے چنانچہ آپؓ نے اپنی قسم کو نافذ کیا، پھر دیگر قبائل میں مسلمانوں کی ثابت قدمی بڑھی اور مشرکین کی ذلت و رسوائی اور ضعف میں اضافہ ہوا اور قبائل کی زکوٰۃ مدینہ میں آنے لگی، راتوں رات مدینہ میں زکوٰۃ پہنچنے لگی، اول شب صفوان کی، درمیان شب میں زبرقان کی اور آخری شب میں عدی کی زکوٰۃ پہنچی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 66)

اور ایک ہی رات میں چھ قبائل کی زکوٰۃ مدینہ پہنچی اور جب بھی کوئی زکوٰۃ وصول کرنے والا مدینہ کی طرف آتا ہوا دکھائی دیتا، لوگ کہتے: کوئی غلط خبر لانے والا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے: بشارت لانے والا ہے۔ اتنے میں آنے والا اپنی قوم کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوتا۔ لوگ سیدنا ابوبکرؓ سے کہتے: آپؓ ہمیں خیر کی بشارتیں سناتے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 67)

انھی بشارتوں کے دوران میں جو مال اور بعض غم لیے پہنچ رہی تھیں، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اپنی فوج کے ساتھ ظفر و کامیابی کا مژدہ لے کر واپس مدینہ پہنچے اور ان تمام مہمات کو طے کیا جن کا انہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا تھا اور سیدنا ابوبکرؓ نے وصیت کی تھی۔

(الصدیق اول الخلفاء للشرقاوی: صفحہ 75)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر کیا اور ان کو اور ان کی فوج کو مدینہ میں آرام کرنے اور سواریوں کو آرام پہنچانے کا حکم فرمایا.

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 37)

صفحہ 1 از 3