مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی - دفاعِ اہلِ…

مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اور خود لوگوں کے ساتھ ذوالقصہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! آپؓ اپنے آپ کو خطرہ میں نہ ڈالیں اگر آپؓ کے ساتھ کچھ ہو گیا تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا، آپؓ کا مدینہ میں رہنا دشمن کے مقابلہ میں نکلنے سے زیادہ ضروری ہے، کسی دوسرے کو قائد بنا کر بھیج دیجیے۔ اگر وہ کام آ گیا تو اس کی جگہ دوسرے کو آپ مقرر کر سکتے ہیں۔ سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: واللہ میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ میں آپؓ لوگوں کی غم خواری اپنی جان سے کروں گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 67)

فتنہ ارتداد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نفیس جوہر نکھر کر سامنے آیا اور آپؓ نے ایک مؤمن قائد کی واضح تصویر پیش کی جو اپنے قوم کے لیے اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک قائد اپنے اعمال میں قدوہ و نمونہ ہوتا ہے۔ اس صدیقی سیاست کے یہ آثار نمودار ہوئے کہ مسلمانوں کو قوت ملی اور دشمنوں کے مقابلہ میں دلیر ہو گئے اور قیادت کی طرف سے صادر ہونے والے اوامر کی تنفیذ کے لیے تیار ہو گئے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 319)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خود ذوحسی اور ذوالقصہ کی طرف روانہ ہوئے اور نعمان، عبداللہ اور سوید اپنے مقام پر ٹھہرے رہے۔ سیدنا ابوبکرؓ مقام ابرق پر پہنچے اور ربذہ والوں پر حملہ کیا، اللہ تعالیٰ نے حارث اور عوف کو شکست دی اور حطیئہ قید کیا گیا۔ بنو عبس و بنو بکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کچھ روز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ابرق میں ٹھہرے رہے۔ اس علاقہ پر بنو ذبیان پہلے سے قابض تھے، سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا: بنو ذبیان اس علاقہ کے مالک نہیں ہو سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بطور غنیمت ہمیں عطا کیا ہے اور جب مرتدین مغلوب ہو گئے اور آپؓ نے لوگوں کو معاف کر دیا تو بنو ثعلبہ حاضر ہوئے، وہی لوگ یہاں آباد تھے، سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو وہاں دوبارہ آباد ہونے سے روک دیا، وہ مدینہ میں آپؓ کے پاس حاضر ہوئے، عرض کیا: آپؓ ہمیں اپنے علاقہ میں آباد ہونے سے کیوں منع کرتے ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ یہ تمہارا علاقہ نہیں رہا، یہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے اور ہم نے دشمن سے حاصل کیا ہے۔ ان کی شرارتوں کو معاف نہ کیا، ابرق کے مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے چراگاہ بنا دیا اور ربذہ کے باقی علاقہ کو لوگوں کے لیے عام چراگاہ قرار دے دیا لیکن جب صدقات کے اونٹوں کے ذمہ داران اور لوگوں کے درمیان لڑائی ہو گئی تو سیدنا ابوبکرؓ نے اس کو صدقات کے اونٹوں کے لیے خاص کر دیا۔

ابرق کی جنگ کا تذکرہ زیاد بن حنظلہ نے اپنے اشعار میں یوں کیا ہے:

ویوم بالابارقِ قد شَہِدْنا

علی ذبیان یلتہب التِہَابا

ترجمہ: ابرق کی جنگ میں ہم حاضر تھے، ذبیان پر شعلے برس رہے تھے۔

اتیناہم بداہیۃ نَسُوف

مع الصدیق اذ ترک العِتابا

ترجمہ: ہم ان کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہلاکت خیز مصیبت لے کر پہنچے، جبکہ آپؓ نے ان کی شرارتوں کو معاف نہ کیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 67)

اس طرح مسلمان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سیرت سے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو اپنے متبعین سے دنیا کے کسی امر میں بے نیاز نہ سمجھا۔ آج ایک طویل عرصہ سے مسلمانوں کے مسائل جو مضطرب ہیں اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ حکومت و سلطنت کو جاہ و حشمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور حصول زر اور جلب منافع کا دروازہ تصور کرتے ہیں اور اپنی خیر مناتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سے یا مراکز قیادت سے بیان جاری کرنے پر اکتفا کرتے ہیں اور امت کے مختلف مسائل و قضایا میں عملی شرکت سے دور رہتے ہیں۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 321)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا مسلسل یکے بعد دیگرے تین بار جہاد کے لیے نکلنا بہت بڑی قربانی اور بلند درجہ کی فدائیت تھی۔ مسلمانوں نے آپؓ سے گزارش کی کہ آپؓ مدینہ میں باقی رہیں اور اپنی جگہ کسی اور کو قائد الجیش مقرر فرما دیں لیکن اس کو قبول نہ کیا اور فرمایا: واللہ میں ایسا نہیں کروں گا، میں اپنی جان کے ذریعہ سے تمہاری غم خواری کروں گا۔ یہ قول آپؓ کی بلند پایہ تواضع اور خاکساری، مصالح امت کے انتہائی اہتمام اور خود غرضی سے دوری پر دلالت کرتا ہے۔ اس طرح آپ لوگوں کے لیے بہترین قدوہ و نمونہ قرار پائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؓ کے ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے باوجود مسلسل تین بار جہاد کے لیے نکلنے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نشاط و قوت ملی اور ان کے حوصلے بلند ہوئے۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 48)

ایک روایت میں ہے کہ ضرار بن ازور نے جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو طلیحہ اسدی کے اپنی قوت کو مجتمع کرنے کی خبر دی، تو ضرار کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کے علاوہ سیدنا ابوبکرؓ سے زیادہ کسی کو جنگی عزائم سے زیادہ پر نہیں دیکھا، ہم سیدنا ابوبکرؓ کو دشمن کے اکٹھے ہونے کی خبر دیتے اور آپؓ کی کیفیت یہ ہوتی کہ گویا ہم آپؓ کو آپؓ کے حق میں خبر دے رہے ہیں، آپؓ کے خلاف نہیں۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 48)

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء سے دشمن پر فتح و نصرت اور زمین میں غلبہ و تمکنت کا جو وعدہ فرمایا ہے اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو یقین راسخ اور مکمل اعتماد تھا اس کی انتہائی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کثرت عمل میں دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فوقیت نہیں لے گئے بلکہ آپؓ یقین کی جن بلندیوں پر فائز تھے اس کی وجہ سے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر فوقیت رکھتے تھے۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 48)

صفحہ 2 از 3