مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی - دفاعِ اہلِ…

مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

بیان کیا گیا ہے کہ جب آپؓ سے کہا گیا کہ آپؓ جن حالات سے دو چار ہیں اگر یہ حالات پہاڑوں کو پیش آتے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتے اور سمندر کو پیش آتے تو سمندر خشک ہو جاتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپؓ پر ان کا کچھ اثر نہ ہوا اور آپؓ ذرا بھی کمزور نہ پڑے؟ فرمایا: غار ثور کی رات کے بعد میرے دل پر کسی کا رعب و خوف طاری نہ ہوا کیونکہ نبی کریمﷺ نے غار ثور میں جب میرا حزن و ملال دیکھا تو فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ فکر مت کرو، اللہ تعالیٰ نے اس دین کو تمام کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔

(ابوبکر الصدیقؓ افضل الصحابۃ واحقہم بالخلافۃ: صفحہ 69)

اس طرح آپؓ کو جسمانی شجاعت کے ساتھ دینی شجاعت اور اللہ کے بارے میں قوت یقین حاصل تھی اور آپؓ کو مکمل اعتماد تھا کہ اللہ تعالیٰ آپؓ کی اور اہلِ ایمان کی مدد کرے گا، یہ شجاعت صرف اسی شخص کو حاصل ہوتی ہے جو قوی القلب ہو۔ ایمان کی زیادتی سے اس میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی کمی سے نقص حاصل ہوتا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے زیادہ قوی القلب تھے، اس میں آپؓ کا ہم سر کوئی نہ تھا۔

(ابوبکر الصدیقؓ افضل الصحابۃ واحقہم بالخلافۃ: صفحہ 70)


صفحہ 3 از 3