Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مرتدین کے خلاف چہار جانب سے یلغار

  علی محمد الصلابی

مرتدین کے مقابلہ کے لیے متعدد طریقے اور وسائل استعمال میں لائے گئے۔ ثابت قدم رہنے والوں نے اپنی قوم کے مقابلہ کے سلسلہ میں اہم کردار ادا کیا۔ بعض ثابت قدم رہنے والوں نے اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کی اور ارتداد کے خطرناک نتائج سے ان کو آگاہ کیا۔ اس سلسلہ میں پہلا قدم جو اٹھایا گیا وہ کلمہ حق کا قدم تھا اور یہ کمزوری نہیں بلکہ قوی ترین موقف رہا ہے۔ کلمہ حق اپنی مصداقیت کی تحدید کے لیے بہت سے مواقف کا طالب ہے۔ کلمہ حق بسا اوقات کہنے والے کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ ہر قبیلہ میں جہاں ارتداد کی لہر اٹھی وہاں ایسے افراد موجود تھے، جو اس باطل کو برداشت نہ کر سکے اور اس کو ختم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، اس کے برے انجام سے ان کو آگاہ کیا لیکن مرتدین نے ان کا مذاق اڑایا بلکہ ان کو قبیلہ سے نکال باہر کیا اور بسا اوقات قتل بھی کر ڈالا اور بعض حضرات کو کلمہ حق کے ذریعہ سے کامیابی بھی حاصل ہوئی جیسے سیدنا عدی بن حاتمؓ کو اپنی قوم کے ساتھ اور حضرت جارود رضی اللہ عنہ کو اہل بحرین کے ساتھ۔

اس کی تفصیل ان شاء اللہ عنقریب آپ ملاحظہ کریں گے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ للشجاع: صفحہ 313، 314)

بعض حضرات جب اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنے میں ناکام ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں سے مل کر اپنی ایک قوت بنائی اور مرتدین کے مقابلہ میں مناسب موقف اختیار کیا اور اکثر مواقف کا آغاز کلمہ حق سے ہوا پھر عملی شکل اختیار کی جیسا کہ بنو سلیم میں پیش آیا، ان کو ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں نے متنبہ کیا تو وہ دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک ثابت قدم رہنے والوں کا گروہ اور دوسرا مرتدین کا۔

ثابت قدم رہنے والے مسلمان جمع ہوئے اور اپنی قوم کے مرتدین سے جدال و قتال شروع کیا اور یمن کے ابنائے فارس نے اسود عنسی کے قتل کی تدبیر تیار کی، جس کی تفصیل عنقریب آرہی ہے۔ اگرچہ ابتداء میں اسود عنسی کے سلسلہ میں ان کا مؤقف سلبی ( Miness) تھا، اور اسی طرح مسعود یا مسروق قیسی بن عابس کندی اشعث بن قیس کندی کو نصیحت کرنے اٹھا اور اس کو عدم ارتداد کی دعوت دی۔ دونوں کے مابین طویل گفتگو ہوئی اور ایک دوسرے کو چیلنج کیا، اس طرح بعض مواقف قوم کو ارتداد سے پھیرنے کا سبب بنے یا ارتداد کی تحریک کو کچلنے کے لیے آنے والی اسلامی فوج کے لیے ممد و معاون ثابت ہوئے۔ (دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ صفحہ 314 مصنف نے کلاعی اَندلسی کی کتاب پر اعتماد کیا ہے) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کی تحریک کو کچلنے کی سیاست میں سب سے پہلے اللہ رب العالمین پر اعتماد کیا پھر ان زعماء و افراد پر اعتماد کیا جو جزیرۂ عرب کے ہر خطہ میں ایمان پر ثابت قدم رہے اور فتنہ ارتداد کو کچلنے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ بعض مؤلفین فتنہ ارتداد کے سلسلہ میں غلطی کا شکار ہوئے اور موضوعیت اور باریک بینی سے کام نہ لے کر ارتداد کا عام حکم لگا دیا۔

(الثابتون علی الاسلام ایام فتنۃ الردۃ: صفحہ 4)