فتنہ ارتداد کے سلسلہ میں بنیادی حقائق
علی محمد الصلابیفتنہ ارتداد کا شکار سب لوگ نہیں ہوئے تھے بلکہ ایسے قائدین، قبائل، افراد اور جماعتیں موجود تھیں جو ہر علاقہ میں جہاں ارتداد کا فتنہ اٹھا دین اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم تھے۔
(الثابتون علی الاسلام ایام فتنۃ الردۃ: صفحہ 19)
چنانچہ ڈاکٹر مہدی رزق اللہ احمد نے اس سلسلہ میں انتہائی دقیق بحث کی ہے اور یہ سوال اٹھا کر جواب دیا ہے کہ خلیفہ راشد سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تمام عرب قبائل، افراد اور مسلم قائدین و زعماء ارتداد کا شکار ہوئے تھے یا اس فتنہ کا شکار صرف بعض قبائل بعض افراد اور بعض قائدین مختلف علاقوں میں ہوئے تھے؟ سیدنا ابوبکرؓ نے بحث و تحقیق کے بعد فرمایا: جن مصادر اور مراجع کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں ملی جو اس بات پر دلالت کرے کہ قبائل، قائدین اور افراد سب کے سب اسلام سے مرتد ہو گئے تھے جیسا کہ ان لوگوں نے ذکر کیا ہے جن کو ہم نے بطور مثال ذکر کیا ہے۔
(التاریخ السیاسی دولۃ العربیۃ: دکتور عبدالمنعم ماجد صفحہ 146، التاریخ الاسلامی العام۔الجہاہلیۃ، الدولۃ العربیۃ الدولۃ العباسیۃ، علی ابراہیم حسن صفحہ 219، تاریخ الدولۃ العربیۃ: السید عبدالعزیز سالم صفحہ 432، جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: دکتور محمد السید الوکیل: صفحہ 21 الخلفاء الراشدون: محمد اسعد طلس: صفحہ 20 ابوبکر الصدیق: علی الطنطاوی: صفحہ 16 إتمام الوفاء فی سیر الخلفاء: محمد خضری بک: صفحہ 21 عر الصدیق: شبیر احمد محمد علی الباکستانی: صفحہ 159، ظاہرۃ الردۃ فی المجتمع الاسلامی الاوّل: محمد بریغش: صفحہ 100، 101 الصدیق ابوبکر: محمد حسین ہیکل: صفحہ 173)
بلکہ میں نے یہ بات پائی کہ اسلامی خلافت نے ان جماعتوں، قبائل اور افراد پر اعتماد کیا ہے جو اسلام پر ثابت قدم تھے اور یہ جزیرۂ عرب کے ہر گوشہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور مرتدین کی تحریک کو کچلنے میں نہایت مضبوط حربہ ثابت ہوئے۔
(الثابتون علی الاسلام ایام فتنۃ الردۃ: صفحہ 19)