امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل:
امام ابن تیمیہامامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل:
اشکال:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل یہ آیت ہے:
﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ [المائدۃ ۳]
’’ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔‘‘
ابو نعیم اپنی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو غدیر خُمّ پر بلایا۔ اور درخت کے نیچے سے کانٹے اور جھاڑیاں ہٹانے کا حکم دیا ۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو تھام لیے اور انھیں بلند کیا، یہاں تک کہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ ابھی لوگ جدا نہیں ہو پائے تھے کہ یہ آیت اتری:﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہکا شکر ہے کہ اس نے دین کو تکمیل بخشی؛ اپنی نعمت پوری کی؛ اور میری رسالت اور علی کی ولایت پر رضا مندی کا اظہار کیا، پھر فرمایا:’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ؛ اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ ۔‘‘’’جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے ۔‘‘یا اللہ جو علی سے دوستی رکھے توبھی اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے توبھی اس سے دشمنی رکھ؛اور جو اس کی مدد کرے تو بھی اسکی مدد کر اور جو اس کی نصرت و تائید سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی مدد نہ کر ۔‘‘[رافضی کا بیان ختم ہوا]۔
جواب:اس کا جواب کئی طرح سے ہے :
پہلی بات:....استدلال کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ پہلے اس حدیث کی صحت پیش کرے۔ باتفاق علماء شیعہ واہل سنت صرف ابو نعیم رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرلینے سے روایت کی صحت ثابت نہیں ہوتی۔اس لیے کہ ابو نعیم رحمہ اللہ نے بہت ساری ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع احادیث تک روایت کی ہیں ؛اس پر بھی تمام شیعہ اور اہل سنت علمائے کرام رحمہم اللہ و محدثین کا اتفاق ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابو نعیم حافظ الحدیث تھے ؛ اور آپ کی روایات کا باب بھی بہت وسیع ہے؛ لیکن روایت کرنے میں جیسا کہ ان جیسے محدثین کی عادت ہے ؛اس باب میں جو بھی روایت موجود ہوتی ہے ؛ سب کو نقل کرتے ہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس روایت کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ وگرنہ ان کی تمام روایات قابل احتجاج نہیں ؛ ان میں سے بعض روایات ایسی ہیں جن سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔
اہل علم کی اپنی تصنیفات کے سلسلہ میں کئی اقسام ہیں :
ان میں ایسے محدثین بھی ہیں جنہیں اگر کسی کے بارے میں جھوٹ ہونے کا علم ہوجائے تو اس سے روایت نہیں لیتے۔جیسے امام مالک؛ شعبہ؛ یحی بن سعید؛ عبد الرحمن بن مہدی؛ اور أحمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہم۔ یہ محدثین کسی بھی ایسے شخص سے روایت نہیں کرتے جو ان کے ہاں ثقہ نہ ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی روایت نقل کرتے ہیں جس کے بارے میں انہیں علم ہو کہ یہ روایت جھوٹ ہے۔ ایسے جھوٹے لوگوں کی احادیث روایت نہیں کرتے جن کے بارے میں عمداً جھوٹ بولنا معروف ہو۔ لیکن کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ جس سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ اس روایت میں غلطی کررہا ہوتا ہے۔
یقیناً امام احمد اور اسحق بن راہویہ رحمہما اللہ اور ان کے علاوہ دوسرے محدثین نے ایسی احادیث بھی روایت کی ہیں جو ان کے نزدیک ضعیف ہیں ۔ کیونکہ ان کے راویوں پر حافظہ کی خرابی کی ؛ یا اس طرح کی دیگر کوئی تہمت ہے۔ لیکن ان کے روایت کرنے کا مقصد ان سے استشہاد پیش کرنا ہے۔ اس لیے کہ جس حدیث کے لیے ان روایات سے استشہاد پیش کیا جاتا ہے؛ وہ بیشتر اوقات محفوظ بھی ہوسکتی ہے۔اور کبھی اس سے کسی دوسری حدیث میں وارد خطا پر تنبیہ کرنے کے لیے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ اور کبھی اس حدیث کے راوی نے باطن میں جھوٹ بولا ہوتا ہے؛لیکن وہ جھوٹ بولنے میں مشہور نہیں ہوتا۔بلکہ وہ اکثر و بیشتر سچ ہی بولتا ہے تو اس کی حدیث روایت کرلی جاتی ہے۔ فاسق کی روایت کردہ ہر روایت جھوٹ ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کو واضح طور پر بیان کرنا واجب ہو جاتا ہے؛فرمان الٰہی ہے:
﴿یٰاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَائٍِ فَتَبَیَّنُوْا ﴾ [الحجرات ۶]
’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی کمزور بیان والا خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔‘‘
پس ان روایات کو اس لیے نقل کر لیا جاتا ہے کہ تاکہ اس کے سارے شواہد میں دیکھ لیا جائے کہ یہ صداقت پر دلالت کرتے ہیں یا جھوٹ پر۔
بہت سارے مصنفین ایسے ہیں جن کے لیے احادیث میں اس اعتبار سے تمیز اور فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلکہ وہ ایسا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں ۔ پس وہ جو بات سنتے ہیں اس کو ویسے ہی روایت کردیتے ہیں جیسے انہوں نے سنی ہوتی ہے۔ اور اس کے ادراک و تحقیق کا معاملہ دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں ؛ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہوتی۔ پس اہل علم اس حدیث میں اور اس کی سند اورراویوں میں دیکھ کر اس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں ۔
دوسری بات :....ہم کہتے ہیں موضوعات کے علماء کے نزدیک یہ حدیث بالاتفاق جھوٹ ہے۔جو لوگ اس باب میں مرجع سمجھے جاتے ہیں ‘ وہ اس حدیث کو جھوٹ روایت قرار دے رہے ہیں ۔اسی لیے حدیث کی وہ اہم ترین کتب جو کہ اہل علم اور محدثین کے ہاں مرجع سمجھی جاتی ہیں ‘ ان میں اس روایت کا نام و نشان تک نہیں ۔
تیسری بات:....احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے واقعہ سے[ نوروز] پہلے اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام پذیر تھے۔‘‘[البخاری 1؍14، کتاب الإِیمانِ، باب زِیادۃِ الإِیمانِ ونقصانِہِ 6؍50؛کتاب التفسِیرِ، سورۃ المائدۃ، مسلِم 4؍2312 کتاب التفسِیرِ، حدیث رقم 3، 4، 5؛ سنن التِرمِذِیِ 4؍316 ؛ ِکتاب التفسِیرِ، سورۃ المائدۃ، سنن النسائِیِ 8؍100 ؛ِکتاب الِإیمانِ وشرائِعِہِ، باب زِیادۃِ الإِیمانِ، المسند 1؍237 تفسِیر ابنِ کثِیر 3؍24۔]
ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا : اے امیر المؤمنین ! تمہاری کتاب قرآن مجید میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو؛ اگر ہم یہودیوں پر وہ آیت نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کوعید کا دن بنالیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے ؟ تو یہودی نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :
﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾
تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جانتا ہوں یہ آیت کس دن نازل ہوئی اور کس جگہ پر نازل ہوئی ؛ یہ آیت عرفہ کے دن میدان عرفات میں نازل ہوئی۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے۔‘‘
یہ روایت کئی دوسری اسناد کے ساتھ بھی مشہور ہے ۔او راہل اسلام کی کتابوں : صحاح؛ مسانید؛ معاجم اور سنن؛ تفاسیر اور سیرت میں یہ روایت نقل کی گئی ہے۔یہ آیت غدیر خم کے واقعہ سے[ نوروز] پہلے نو ذوالحجہ کو اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام پذیر تھے؛ تو پھر یہ کہنا کیسے درست ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی۔
چوتھی بات:....اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی طرف کسی طرح کا بھی کوئی اشارہ بھی نہیں پایا جاتا۔بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دین کے مکمل ہونے اور اہل ایمان پر اس کی نعمت کے پورا ہونے اور دین اسلام پر رضامندی کی خبر دی گئی ہے۔ نظر بریں شیعہ کا یہ دعویٰ کہ قرآنی دلائل سے امامت علی کا ثبوت ملتا ہے صاف جھوٹ ہے۔ [البتہ صحیح احادیث سے انھیں اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے]۔
٭ اگرشیعہ کہیں کہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے ۔
تو ان سے کہا جائے گاکہ : اگر حدیث صحیح سند سے ثابت ہوتو پھر دلالت حدیث سے ہوگی؛ آیت سے نہیں ہوگی۔اور اگر حدیث صحیح نہ ہوئی تو پھر اس کے لیے نہ ہی آیت میں کوئی حجت ہے اور نہ ہی حدیث میں ۔
پس دونوں لحاظ سے اس آیت میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔اس سے مذکورہ روایت کا جھوٹ ہونا بھی ظاہر ہوجاتا ہے ۔اس لیے کہ [شیعہ مصنف نے ] نزول آیت کا سبب اس روایت میں بیان کیا ہے ‘ حقیقت میں یھاں پراس کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔
پانچویں بات:....اس روایت میں مذکور الفاظ : اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ ۔‘‘[البخاری، باب زیادۃ الایمان و نقصانہ،(ح:۴۵) مسلم۔باب فی تفسیر آیات متفرقۃ(ح:۳۰۱۷)۔]
’’یا اللہ جو علی سے دوستی رکھے توبھی اس سے دوستی رکھ۔ جو اس سے دشمنی رکھے توبھی اس سے دشمنی رکھ؛جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کی نصرت و تائید سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی مدد نہ کر۔‘‘
باتفاق محدثین [یہ الفاظ]جھوٹ ہیں ۔البتہ اس سے پہلے کے الفاظ: ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ ؛ ’’جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے ‘‘ کے بارے میں ہم اپنی جگہ پر ان شاء اللہ تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
چھٹی بات:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مجاب [مقبول ]ہوتی ہے۔جب کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی۔تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نہیں ہے۔یہ بات سبھی لوگ جانتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو لوگ اس وقت تین گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو آپ سے مل کر لڑرہے تھے۔دوسرا گروہ وہ ہے جو آپ سے لڑ رہا تھا۔ اور تیسرا گروہ وہ تھا جو بالکل الگ تھلگ ہوکر بیٹھ گئے تھے ۔ان میں اکثر سابقین اولین تھے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض سابقین اولین نے قتال میں حصہ لیا تھا۔ابن حزم نے لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ابو الغادیہ رضی اللہ عنہ نامی صحابی نے قتل کیا تھا۔ یہ ابو الغادیہ رضی اللہ عنہ سابقین اولین میں سے ہیں ؛ اور ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں حصہ لیا تھا۔ ان تمام کے بارے میں صحیحین میں ثابت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔
صحیح مسلم میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد ہے:
’’درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں نہیں جائے گا۔‘‘[صحیح مسلم:ح۲۴۹۶]
صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:
’’ اے اللہ کے رسول!اللہ کی قسم ! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ تم جھوٹ کہتے ہو ۔ بیشک حاطب بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا تھا۔‘‘[مسلم برقم(۱۹۴۲)]
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو خط لکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ کی خبر دی تھی۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
﴿ ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃ﴾ (الممتحنۃ:۱)
’’اے مؤمنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ؛ تم دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو۔‘‘
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ اپنے غلاموں کے ساتھ سخت سلوک کرتے تھے اسی وجہ سے ایک غلام نے مذکورہ بالا بات کہی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھٹلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’ وہ بدر میں اور حدیبیہ میں شریک ہو چکا ہے ۔‘‘
صحیح مسلم میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد ہے:
’’درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں نہیں جائے گا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۲۴۹۶۔]
ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا ؛ جیسے حضرت طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما؛ اگرچہ ان میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل بھی تھے ؛جو دوسروں کی نسبت زیادہ آگے نکل گئے تھے۔
درخت کے نیچے بیعت کرنے والے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ہاتھوں پر خیبر فتح کیا۔ جس کا ان سے سورت فتح کے نزول کے وقت وعدہ کیا جا چکا تھا۔ اوروہاں کے اموال غنیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا۔
اس لیے کہ ان میں سے دو سو گھوڑے سوار تھے۔ تو آپ نے گھوڑے سوار کو تین حصے دیے۔ ایک حصہ اس کا اپنا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔پس اس طرح سے گھوڑے سواروں کے چھ سوحصے ہوئے۔ اور باقی لوگوں کے بارہ سو حصے ۔ یہ وہ بات ہے جو صحیح احادیث میں ثابت ہے۔اکثر اہل علم جیسے امام مالک ؛ امام شافعی اور احمد بن حنبل کے علاوہ دوسرے ائمہ کرام کی یہ رائے ہے۔ اور بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ آپ نے گھوڑے سواروں کو دو حصے دیے؛ اور ان کی تعداد تین سو تھی۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا مسلک ہے۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر لڑنے والوں میں سابقین اولین میں سے بھی کچھ لوگ موجود تھے؛ جیسے حضرت سہیل بن حنیف اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔ مگر جو لوگ اس جنگ سے اپنا دامن بچا کر بیٹھے رہے وہ لوگ زیادہ افضل تھے جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ مل کر قتال نہیں کیا۔اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان سے افضل کوئی دوسرا صحابی نہیں تھا۔اور ایسے ہی انصار میں سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ:’’ فتنہ و فساد سے محمد بن مسلمہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[أبوداؤد ۴؍۳۰۰۔]
آپ بھی اس جنگ سے الگ تھلگ رہے۔اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ یہ جنگیں تاویل کی وجہ سے فتنہ کی جنگیں تھیں ۔ اس کا واجب یا مستحب جہاد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی نسبت زیادہ حق پر تھے۔ صحیح حدیث میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :
مسلمانوں کے مابین تفرقہ بازی کے وقت ایک فرقہ کا ظہور ہوگا ‘ اور ان دو گروہوں میں سے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔‘‘[مسلم ۲؍۷۴۵؛ سنن ابو داؤد ۴؍۳۰۰]
پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان کے ساتھ لڑنے والوں کی نسبت حق پر تھے۔ اس لیے کہ آپ نے ہی مسلمانوں کی تفرقہ بندی کے وقت خوارج کو قتل کیا ۔اس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی اور ایک جماعت آپ کے خلاف تھی۔پھر جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی وہ بھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گئے ۔بلکہ وہ برابر کفار کو قتل کرتے رہے ؛ اور مختلف شہر فتح کرتے رہے ۔ صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا؛ ان کی مخالفت کرنے والے یا ان کا ساتھ چھوڑنے والا ان کو کوئی نقصان نہیں دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔‘‘[البخاری ۹؍۸۲؛ مسلم ۳؍۱۵۲۳۔ ]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ لوگ اہل شام ہیں ۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اہل غرب ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔‘‘[صحیح مسلم:ج3:ح 461]
یہ مسئلہ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شہر کا مشرق اور مغرب ہوتا ہے۔یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا اعتبار آپ کے شہر مدینہ کے لحاظ سے ہے۔ فرات سے یہ شہر کی مغربی سمت بنتی ہے۔بیرہ اوردوسرے شہر مدینہ کی سمت میں ہیں ۔جیسا کہ حران ؛ رَقہ اورسمیساط اور دوسرے شہر مکہ کی سمت میں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ : ان لوگوں کا قبلہ سب سے معتدل قبلہ ہے۔یعنی یہ کہ قطب شمالی کو پیٹھ کے پیچھے کردیا جائے۔ تو اس طرح چہرہ قبلہ کی طرف ہو جائے گا۔پس جو علاقے فرآت سے مغرب کی طرف ہیں ؛ وہ زمین کے آخر تک مغرب کی طرف ہی ہیں ۔ اور ان میں سب سے پہلے علاقہ شام کا ہے۔
جن لوگوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر قتال کیا ؛ وہ کبھی بھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گئے [ اور نہ ہی انہیں کوئی رسوائی اٹھانا پڑی ہے ]بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے میں بھی انہیں ناکامی نہیں اٹھانا پڑی۔ تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہاں گئی جس میں آپ نے اللہ سے مانگا تھا:
(( وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ۔))
’’جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کی نصرت و تائید سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی مدد نہ کر۔‘‘
جن لوگوں نے آپ کے ساتھ مل کر قتال کیا ؛ انہیں فتح و نصرت نصیب نہیں ہوئی۔ بلکہ جو شیعہ خود کوخواص ِحضرت علی رضی اللہ عنہ میں سے شمار کرتے ہیں مگروہ ہمیشہ بے یارو مددگار اور رسوا ہی رہے ؛اور لوگوں کا سہارا لیے بغیر انہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ خواہ مسلمانوں کا سہارا لیں یا کفار کا سہارا لیں ۔ان کا دعوی ہے کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے انصارہیں توپھر اللہ کی مدد و نصرت کہاں ہے؟ان باتوں سے اس روایت کا جھوٹ ہونا واضح ہوجاتا ہے