امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 3

امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل:

اشکال:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل یہ آیت ہے:

﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ [المائدۃ ۳]

’’ آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔‘‘

ابو نعیم اپنی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو غدیر خُمّ پر بلایا۔ اور درخت کے نیچے سے کانٹے اور جھاڑیاں ہٹانے کا حکم دیا ۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو تھام لیے اور انھیں بلند کیا، یہاں تک کہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ ابھی لوگ جدا نہیں ہو پائے تھے کہ یہ آیت اتری:﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہکا شکر ہے کہ اس نے دین کو تکمیل بخشی؛ اپنی نعمت پوری کی؛ اور میری رسالت اور علی کی ولایت پر رضا مندی کا اظہار کیا، پھر فرمایا:’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ؛ اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ ۔‘‘’’جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے ۔‘‘یا اللہ جو علی سے دوستی رکھے توبھی اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے توبھی اس سے دشمنی رکھ؛اور جو اس کی مدد کرے تو بھی اسکی مدد کر اور جو اس کی نصرت و تائید سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی مدد نہ کر ۔‘‘[رافضی کا بیان ختم ہوا]۔

جواب:اس کا جواب کئی طرح سے ہے : 

پہلی بات:....استدلال کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ پہلے اس حدیث کی صحت پیش کرے۔ باتفاق علماء شیعہ واہل سنت صرف ابو نعیم رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرلینے سے روایت کی صحت ثابت نہیں ہوتی۔اس لیے کہ ابو نعیم رحمہ اللہ نے بہت ساری ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع احادیث تک روایت کی ہیں ؛اس پر بھی تمام شیعہ اور اہل سنت علمائے کرام رحمہم اللہ و محدثین کا اتفاق ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابو نعیم حافظ الحدیث تھے ؛ اور آپ کی روایات کا باب بھی بہت وسیع ہے؛ لیکن روایت کرنے میں جیسا کہ ان جیسے محدثین کی عادت ہے ؛اس باب میں جو بھی روایت موجود ہوتی ہے ؛ سب کو نقل کرتے ہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس روایت کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ وگرنہ ان کی تمام روایات قابل احتجاج نہیں ؛ ان میں سے بعض روایات ایسی ہیں جن سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔

اہل علم کی اپنی تصنیفات کے سلسلہ میں کئی اقسام ہیں :

ان میں ایسے محدثین بھی ہیں جنہیں اگر کسی کے بارے میں جھوٹ ہونے کا علم ہوجائے تو اس سے روایت نہیں لیتے۔جیسے امام مالک؛ شعبہ؛ یحی بن سعید؛ عبد الرحمن بن مہدی؛ اور أحمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہم۔ یہ محدثین کسی بھی ایسے شخص سے روایت نہیں کرتے جو ان کے ہاں ثقہ نہ ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی روایت نقل کرتے ہیں جس کے بارے میں انہیں علم ہو کہ یہ روایت جھوٹ ہے۔ ایسے جھوٹے لوگوں کی احادیث روایت نہیں کرتے جن کے بارے میں عمداً جھوٹ بولنا معروف ہو۔ لیکن کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ جس سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ اس روایت میں غلطی کررہا ہوتا ہے۔

یقیناً امام احمد اور اسحق بن راہویہ رحمہما اللہ اور ان کے علاوہ دوسرے محدثین نے ایسی احادیث بھی روایت کی ہیں جو ان کے نزدیک ضعیف ہیں ۔ کیونکہ ان کے راویوں پر حافظہ کی خرابی کی ؛ یا اس طرح کی دیگر کوئی تہمت ہے۔ لیکن ان کے روایت کرنے کا مقصد ان سے استشہاد پیش کرنا ہے۔ اس لیے کہ جس حدیث کے لیے ان روایات سے استشہاد پیش کیا جاتا ہے؛ وہ بیشتر اوقات محفوظ بھی ہوسکتی ہے۔اور کبھی اس سے کسی دوسری حدیث میں وارد خطا پر تنبیہ کرنے کے لیے بھی استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ اور کبھی اس حدیث کے راوی نے باطن میں جھوٹ بولا ہوتا ہے؛لیکن وہ جھوٹ بولنے میں مشہور نہیں ہوتا۔بلکہ وہ اکثر و بیشتر سچ ہی بولتا ہے تو اس کی حدیث روایت کرلی جاتی ہے۔ فاسق کی روایت کردہ ہر روایت جھوٹ ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کو واضح طور پر بیان کرنا واجب ہو جاتا ہے؛فرمان الٰہی ہے:

﴿یٰاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَائٍِ فَتَبَیَّنُوْا ﴾ [الحجرات ۶]

’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی کمزور بیان والا خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔‘‘

پس ان روایات کو اس لیے نقل کر لیا جاتا ہے کہ تاکہ اس کے سارے شواہد میں دیکھ لیا جائے کہ یہ صداقت پر دلالت کرتے ہیں یا جھوٹ پر۔

بہت سارے مصنفین ایسے ہیں جن کے لیے احادیث میں اس اعتبار سے تمیز اور فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلکہ وہ ایسا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں ۔ پس وہ جو بات سنتے ہیں اس کو ویسے ہی روایت کردیتے ہیں جیسے انہوں نے سنی ہوتی ہے۔ اور اس کے ادراک و تحقیق کا معاملہ دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں ؛ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہوتی۔ پس اہل علم اس حدیث میں اور اس کی سند اورراویوں میں دیکھ کر اس کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں ۔

دوسری بات :....ہم کہتے ہیں موضوعات کے علماء کے نزدیک یہ حدیث بالاتفاق جھوٹ ہے۔جو لوگ اس باب میں مرجع سمجھے جاتے ہیں ‘ وہ اس حدیث کو جھوٹ روایت قرار دے رہے ہیں ۔اسی لیے حدیث کی وہ اہم ترین کتب جو کہ اہل علم اور محدثین کے ہاں مرجع سمجھی جاتی ہیں ‘ ان میں اس روایت کا نام و نشان تک نہیں ۔

تیسری بات:....احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے واقعہ سے[ نوروز] پہلے اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام پذیر تھے۔‘‘[البخاری 1؍14، کتاب الإِیمانِ، باب زِیادۃِ الإِیمانِ ونقصانِہِ 6؍50؛کتاب التفسِیرِ، سورۃ المائدۃ، مسلِم 4؍2312 کتاب التفسِیرِ، حدیث رقم 3، 4، 5؛ سنن التِرمِذِیِ 4؍316 ؛ ِکتاب التفسِیرِ، سورۃ المائدۃ، سنن النسائِیِ 8؍100 ؛ِکتاب الِإیمانِ وشرائِعِہِ، باب زِیادۃِ الإِیمانِ، المسند 1؍237 تفسِیر ابنِ کثِیر 3؍24۔] 

صفحہ 1 از 3