امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 3

ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا : اے امیر المؤمنین ! تمہاری کتاب قرآن مجید میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو؛ اگر ہم یہودیوں پر وہ آیت نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کوعید کا دن بنالیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے ؟ تو یہودی نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :

﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾

تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جانتا ہوں یہ آیت کس دن نازل ہوئی اور کس جگہ پر نازل ہوئی ؛ یہ آیت عرفہ کے دن میدان عرفات میں نازل ہوئی۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے۔‘‘

یہ روایت کئی دوسری اسناد کے ساتھ بھی مشہور ہے ۔او راہل اسلام کی کتابوں : صحاح؛ مسانید؛ معاجم اور سنن؛ تفاسیر اور سیرت میں یہ روایت نقل کی گئی ہے۔یہ آیت غدیر خم کے واقعہ سے[ نوروز] پہلے نو ذوالحجہ کو اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں قیام پذیر تھے؛ تو پھر یہ کہنا کیسے درست ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی۔

چوتھی بات:....اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی طرف کسی طرح کا بھی کوئی اشارہ بھی نہیں پایا جاتا۔بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دین کے مکمل ہونے اور اہل ایمان پر اس کی نعمت کے پورا ہونے اور دین اسلام پر رضامندی کی خبر دی گئی ہے۔ نظر بریں شیعہ کا یہ دعویٰ کہ قرآنی دلائل سے امامت علی کا ثبوت ملتا ہے صاف جھوٹ ہے۔ [البتہ صحیح احادیث سے انھیں اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے]۔

٭ اگرشیعہ کہیں کہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے ۔

تو ان سے کہا جائے گاکہ : اگر حدیث صحیح سند سے ثابت ہوتو پھر دلالت حدیث سے ہوگی؛ آیت سے نہیں ہوگی۔اور اگر حدیث صحیح نہ ہوئی تو پھر اس کے لیے نہ ہی آیت میں کوئی حجت ہے اور نہ ہی حدیث میں ۔

پس دونوں لحاظ سے اس آیت میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔اس سے مذکورہ روایت کا جھوٹ ہونا بھی ظاہر ہوجاتا ہے ۔اس لیے کہ [شیعہ مصنف نے ] نزول آیت کا سبب اس روایت میں بیان کیا ہے ‘ حقیقت میں یھاں پراس کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔

پانچویں بات:....اس روایت میں مذکور الفاظ : اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ ۔‘‘[البخاری، باب زیادۃ الایمان و نقصانہ،(ح:۴۵) مسلم۔باب فی تفسیر آیات متفرقۃ(ح:۳۰۱۷)۔]

’’یا اللہ جو علی سے دوستی رکھے توبھی اس سے دوستی رکھ۔ جو اس سے دشمنی رکھے توبھی اس سے دشمنی رکھ؛جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کی نصرت و تائید سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی مدد نہ کر۔‘‘

باتفاق محدثین [یہ الفاظ]جھوٹ ہیں ۔البتہ اس سے پہلے کے الفاظ: ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ ؛ ’’جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے ‘‘ کے بارے میں ہم اپنی جگہ پر ان شاء اللہ تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ 

چھٹی بات:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مجاب [مقبول ]ہوتی ہے۔جب کہ یہ دعا قبول نہیں ہوئی۔تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نہیں ہے۔یہ بات سبھی لوگ جانتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو لوگ اس وقت تین گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو آپ سے مل کر لڑرہے تھے۔دوسرا گروہ وہ ہے جو آپ سے لڑ رہا تھا۔ اور تیسرا گروہ وہ تھا جو بالکل الگ تھلگ ہوکر بیٹھ گئے تھے ۔ان میں اکثر سابقین اولین تھے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض سابقین اولین نے قتال میں حصہ لیا تھا۔ابن حزم نے لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ابو الغادیہ رضی اللہ عنہ نامی صحابی نے قتل کیا تھا۔ یہ ابو الغادیہ رضی اللہ عنہ سابقین اولین میں سے ہیں ؛ اور ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے بیعت رضوان میں حصہ لیا تھا۔ ان تمام کے بارے میں صحیحین میں ثابت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔

صحیح مسلم میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد ہے:

’’درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں نہیں جائے گا۔‘‘[صحیح مسلم:ح۲۴۹۶]

صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:

’’ اے اللہ کے رسول!اللہ کی قسم ! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ تم جھوٹ کہتے ہو ۔ بیشک حاطب بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا تھا۔‘‘[مسلم برقم(۱۹۴۲)]

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو خط لکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ کی خبر دی تھی۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

﴿ ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃ﴾ (الممتحنۃ:۱)

’’اے مؤمنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ؛ تم دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو۔‘‘

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ اپنے غلاموں کے ساتھ سخت سلوک کرتے تھے اسی وجہ سے ایک غلام نے مذکورہ بالا بات کہی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھٹلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’ وہ بدر میں اور حدیبیہ میں شریک ہو چکا ہے ۔‘‘

صحیح مسلم میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد ہے:

’’درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی آگ میں نہیں جائے گا۔‘‘ [صحیح مسلم:ح۲۴۹۶۔]

ان میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا ؛ جیسے حضرت طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما؛ اگرچہ ان میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قاتل بھی تھے ؛جو دوسروں کی نسبت زیادہ آگے نکل گئے تھے۔

درخت کے نیچے بیعت کرنے والے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ہاتھوں پر خیبر فتح کیا۔ جس کا ان سے سورت فتح کے نزول کے وقت وعدہ کیا جا چکا تھا۔ اوروہاں کے اموال غنیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا۔

صفحہ 2 از 3