امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 3

اس لیے کہ ان میں سے دو سو گھوڑے سوار تھے۔ تو آپ نے گھوڑے سوار کو تین حصے دیے۔ ایک حصہ اس کا اپنا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔پس اس طرح سے گھوڑے سواروں کے چھ سوحصے ہوئے۔ اور باقی لوگوں کے بارہ سو حصے ۔ یہ وہ بات ہے جو صحیح احادیث میں ثابت ہے۔اکثر اہل علم جیسے امام مالک ؛ امام شافعی اور احمد بن حنبل کے علاوہ دوسرے ائمہ کرام کی یہ رائے ہے۔ اور بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ آپ نے گھوڑے سواروں کو دو حصے دیے؛ اور ان کی تعداد تین سو تھی۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا مسلک ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر لڑنے والوں میں سابقین اولین میں سے بھی کچھ لوگ موجود تھے؛ جیسے حضرت سہیل بن حنیف اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔ مگر جو لوگ اس جنگ سے اپنا دامن بچا کر بیٹھے رہے وہ لوگ زیادہ افضل تھے جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ مل کر قتال نہیں کیا۔اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان سے افضل کوئی دوسرا صحابی نہیں تھا۔اور ایسے ہی انصار میں سے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ:’’ فتنہ و فساد سے محمد بن مسلمہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[أبوداؤد ۴؍۳۰۰۔]

آپ بھی اس جنگ سے الگ تھلگ رہے۔اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ یہ جنگیں تاویل کی وجہ سے فتنہ کی جنگیں تھیں ۔ اس کا واجب یا مستحب جہاد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی نسبت زیادہ حق پر تھے۔ صحیح حدیث میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا :

مسلمانوں کے مابین تفرقہ بازی کے وقت ایک فرقہ کا ظہور ہوگا ‘ اور ان دو گروہوں میں سے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔‘‘[مسلم ۲؍۷۴۵؛ سنن ابو داؤد ۴؍۳۰۰]

پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ان کے ساتھ لڑنے والوں کی نسبت حق پر تھے۔ اس لیے کہ آپ نے ہی مسلمانوں کی تفرقہ بندی کے وقت خوارج کو قتل کیا ۔اس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی اور ایک جماعت آپ کے خلاف تھی۔پھر جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی وہ بھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گئے ۔بلکہ وہ برابر کفار کو قتل کرتے رہے ؛ اور مختلف شہر فتح کرتے رہے ۔ صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا؛ ان کی مخالفت کرنے والے یا ان کا ساتھ چھوڑنے والا ان کو کوئی نقصان نہیں دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔‘‘[البخاری ۹؍۸۲؛ مسلم ۳؍۱۵۲۳۔ ]

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ لوگ اہل شام ہیں ۔

صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اہل غرب ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔‘‘[صحیح مسلم:ج3:ح 461]

یہ مسئلہ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شہر کا مشرق اور مغرب ہوتا ہے۔یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا اعتبار آپ کے شہر مدینہ کے لحاظ سے ہے۔ فرات سے یہ شہر کی مغربی سمت بنتی ہے۔بیرہ اوردوسرے شہر مدینہ کی سمت میں ہیں ۔جیسا کہ حران ؛ رَقہ اورسمیساط اور دوسرے شہر مکہ کی سمت میں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ : ان لوگوں کا قبلہ سب سے معتدل قبلہ ہے۔یعنی یہ کہ قطب شمالی کو پیٹھ کے پیچھے کردیا جائے۔ تو اس طرح چہرہ قبلہ کی طرف ہو جائے گا۔پس جو علاقے فرآت سے مغرب کی طرف ہیں ؛ وہ زمین کے آخر تک مغرب کی طرف ہی ہیں ۔ اور ان میں سب سے پہلے علاقہ شام کا ہے۔

جن لوگوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر قتال کیا ؛ وہ کبھی بھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گئے [ اور نہ ہی انہیں کوئی رسوائی اٹھانا پڑی ہے ]بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے میں بھی انہیں ناکامی نہیں اٹھانا پڑی۔ تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہاں گئی جس میں آپ نے اللہ سے مانگا تھا:

(( وانصر من نصرہ و اخذل من خذلہ۔))

’’جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کی نصرت و تائید سے ہاتھ کھینچ لے تو اس کی مدد نہ کر۔‘‘

جن لوگوں نے آپ کے ساتھ مل کر قتال کیا ؛ انہیں فتح و نصرت نصیب نہیں ہوئی۔ بلکہ جو شیعہ خود کوخواص ِحضرت علی رضی اللہ عنہ میں سے شمار کرتے ہیں مگروہ ہمیشہ بے یارو مددگار اور رسوا ہی رہے ؛اور لوگوں کا سہارا لیے بغیر انہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ خواہ مسلمانوں کا سہارا لیں یا کفار کا سہارا لیں ۔ان کا دعوی ہے کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے انصارہیں توپھر اللہ کی مدد و نصرت کہاں ہے؟ان باتوں سے اس روایت کا جھوٹ ہونا واضح ہوجاتا ہے


صفحہ 3 از 3