امامت علی کی چوتھی دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

امامت علی کی چوتھی دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 4

امامت علی کی چوتھی دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’امامت علی کی چوتھی دلیل یہ آیت ہے:

﴿وَالنجم اِذَا ہَوٰیoمَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی

’’اور ستارے کے قسم ! جب وہ ٹوٹ جائے۔کہ تمھارا ساتھی (رسول) نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے ۔‘‘

فقیہ ابن مغازلی شافعی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: میں بنی ہاشم کی ایک جماعت کے ساتھ بارگاہ نبوی میں بیٹھا تھا کہ اتنے میں آسمان کا ایک ستارہ ٹوٹا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے گھر میں یہ ستارہ ٹوٹا وہ میرے بعد میرا وصی ہو گیا۔چنانچہ نوجوانوں کا ایک گروہ اس کی کھوج لگانے کے لیے چلا گیا؛ معلوم ہوا کہ وہ ستارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر پر ٹوٹا ہے۔ تووہ نوجوان کہنے لگے کہ :’’آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں :’’ تب یہ آیت اتری:﴿وَالنجم اِذَا ہَوٰیo مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی﴾ [انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:پہلی بات : ہم اس روایت کی صحت کا مطالبہ کرتے ہیں ؛جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم بارہا یہ مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے اور بلا علم و معرفت اللہکے بارے میں کوئی بات کہنا حرام ہے؛اللہتعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ﴾ (الإسراء:۳۶)

’’جس بات کا آپ کو علم نہیں وہ بیان نہ کریں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بَغَیْرِ الْحَقَّ وَ اَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ [الأعراف ۳۳]

’’کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ [آل عمران ۶۶]

’’ دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم نے اس بات میں جھگڑا کیا جس کے متعلق تمھیں کچھ علم تھا، تو اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمھیں کچھ علم نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﴾ [الحج ۳]

’’ اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر جھگڑتا ہے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطَانٍ اَتَاہُمْ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ [غافر ۳۵]

’’ وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں ، بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، بڑی ناراضی کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ان کے نزدیک جو ایمان لائے ۔‘‘

اس کی طرف سے دی گئی سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ﴾ [الروم ۳۵]

’’ یا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے کہ وہ بول کر وہ چیزیں بتاتی ہے جنھیں وہ اس کیساتھ شریک ٹھہرایا کرتے تھے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَمْ لَکُمْ سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ oفَاْتُوا بِکِتٰبِکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ﴾ [الصافات ۱۵۶۔۱۵۷]

’’ یا تمھارے پاس کو ئی واضح دلیل ہے ؟ تو لاؤ اپنی کتاب، اگر تم سچے ہو ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِِنْ ہِیَ اِِلَّا اَسْمَآئٌ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ مَا اَنزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ﴾ [النجم ۲۳]

’’ یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں ، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ، ان کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی ۔‘‘

جو چیز انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے لیکر آئے ہیں اسے سلطان یعنی’’دلیل‘‘ کہتے ہیں ۔ ایسے ہی سنت بھی سلطان ہے۔اور سنت کی معرفت بھی اس وقت ہوتی ہے جب وہ صحیح سند کے ساتھ منقول ہو۔ جو شخص حدیث نبوی سے استدلال کرنا چاہے اس پر لازم ہے کہ استدلال کرنے سے قبل اس کی صحت معلوم کرلے۔ اور جب اس سے کسی دوسرے کے خلاف احتجاج کرے تو ساتھ ہی اس کی صحت بھی بیان کردے۔وگرنہ اس کا شمار بغیر علم کے بات کرنے والوں میں اور بغیر علم کے استدلال کرنے والوں میں ہوگا۔ جب یہ بات معلوم ہے کہ فضائل وغیرہ جیسے موضوعات پرلکھی گئی کتابوں میں جھوٹی روایات بھی پائی جاتی ہیں توصرف ان کتابوں میں روایت کے موجود ہونے کی بنا پر اس پر اعتماد کرنا اسی طرح ہے جیسے فاسق کی شہادت سے استدلال کرنا جو سچ بھی بولتا ہو اور جھوٹ بھی۔اگر ہمیں یہ علم ہوجائے کہ اس میں جھوٹ ہے ؛تو اس روایت سے ہمیں کوئی علمی فائدہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہمیں کسی صحیح روایت کا علم نہ ہوجائے جسے ثقہ علماء نے روایت کیا ہو۔

صفحہ 1 از 4