امامت علی کی چوتھی دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

امامت علی کی چوتھی دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 4

ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین کئی صدیوں کا فاصلہ ہے۔ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں لوگ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی دوسرے سے نقل کرتے ہیں ‘ اس میں جھوٹ بھی آجاتا ہے اور سچ بھی ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا : ’’ عنقریب مجھ پر جھوٹ بولا جائے گا۔‘‘ اگر یہ حدیث سچی ہے تو پھر [پیغمبر کی بات سچ ثابت ہونے کے لیے ] ضروری ہے کہ آپ پر جھوٹ بھی بولا جائے۔ اور اگریہ روایت جھوٹ ہے تو پھر یقیناً آپ پر جھوٹ بولا گیا ہے۔ جب یہ مسئلہ اس طرح سے ثابت ہوگیا تو پھر کسی انسان کے لیے ہر گز جائز نہیں ہے کہ وہ کسی فرعی مسئلہ میں کسی حدیث سے استدلال کرے یہاں تک کہ اس حدیث کی صحت ثابت ہوجائے۔توپھر اصولی مسائل میں اس طرح کا استدلال کیوں کر جائز ہوسکتا ہے جس کی وجہ خیر القرون کے جمہور اہل اسلام ؛ اہل تقوی اور اولیاء اللہ کے سرداروں پر اعتراض وارد ہوتا ہو؛ اور خود اس روایت کے صحیح ہونے کا کوئی علم ہی نہ ہو؟

ایسے انسان سے اگر پوچھا جائے : کیا تم حقیقت میں جانتے ہو کہ ایسا واقعہ پیش آیا تھا ؟ اگر وہ جواب میں کہے : ہاں تو یقیناً اس نے جھوٹ بولا۔اس لیے کہ اسے کس طرح پتہ چلا کہ یہ واقعہ پیش آیا ہے ؟اس سے پھر پوچھا جائے گا: تمہیں اس واقعہ کے سچا ہونے کا کیسے پتہ چلا؟ یہ بات اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتی جب تک واقعہ کی اسناد اور راویوں کے احوال معلوم نہ ہوں ۔جب کہ ان چیزوں کے بارے میں تمہیں کوئی علم ہی نہیں ہے۔اگر تمہیں راویوں کے احوال معلوم ہوتے تو تم جان لیتے کہ یہ روایت جھوٹی ہے۔

اگر[شیعہ] اس کے جواب میں کہے: ’’ مجھے اس کا کوئی پتہ نہیں ؟ تو [پھر ہم اس سے پوچھتے ہیں ] جس چیز کے صحیح ہونے کا تمہیں کوئی پتہ نہیں ‘اس سے استدلال کرنا کیسے جائز ہوا؟

[روایت کی حقیقت]:

دوسری بات:....محدثین کرام رحمہم اللہ کا اس روایت کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے۔ مغازلی کا شمار محدثین میں نہیں ہوتا۔جیسا کہ ابو نعیم اور اس کے امثال محدثین ہیں ۔اور نہ ہی اس کا شمار ان علوم [روایات ]کو جمع کرنے والوں میں سے ہوتا ہے جن کی غالب روایات حق ہوتی ہیں ؛ لیکن ان میں سے بعض باطل چیزیں بھی لے آتے ہیں ؛ جیسے ثعلبی اور ان کے امثال۔ بلکہ ان لوگوں کا اصل کام حدیث کی جانچ پرکھ نہیں تھا؛ اس لیے انہوں نے لوگوں کی کتابوں میں فضائل علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ بھی دیکھا؛ اس سب کو جمع کردیا جیسا کہ خطیب خوارزمی نے کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات حدیث کی گہرائیوں سے لاعلم ہیں ۔ان میں سے ہر ایک وہ روایات بھی جمع کرلیتا ہے جو لوگوں نے اپنی طرف سے فضائل کے باب میں جھوٹ گھڑلی ہوتی ہیں ۔ حدیث کے علوم سے ادنی شناسائی رکھنے والوں پر بھی ان روایات کا جھوٹ ہونا مخفی نہیں رہتا ۔

ہم نہیں جانتے کہ ان حضرات میں سے کوئی ایک بھی جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہوگا۔ لیکن ہم یہ بات یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ جو روایات انہوں نے نقل کی ہیں ان میں بہت زیادہ جھوٹ بھی ہے ؛ اور اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔ ان کو اس سے پہلے بھی اہل علم نے جھوٹ کہا ہوتا ہے ؛ مگر جب یہ لوگ روایت کرتے ہیں تو انہیں علم نہیں ہوتا کہ اس میں جھوٹ ہے۔ اور بسا اوقات انہیں اس کے جھوٹ ہونے کا علم بھی ہوتا ہوگا۔[مگر پھر بھی اس لیے روایت کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ اس طرح کی روایات بھی اس بارے میں موجود ہیں ]۔ لیکن ہمیں یہ پکا علم نہیں کہ کیا ان حضرات کویہ علم تھا کہ یہ روایات جھوٹ ہیں ؛ یا انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا؟ 

علاوہ ازیں محدث ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بالفاظ دیگر موضوعات میں شمار کیا ہے۔ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے یہ حدیث بروایت محمد بن مروان ذکر کی ہے، اس نے کلبی سے، اس نے ابوصالح سے، اس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتویں آسمان کی سیر کرائی گئی اور اللہتعالیٰ نے آپ کو بہت سے عجائبات دکھائے تو علی الصبح آپ نے وہ واقعات بیان کردیے۔اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی تکذیب کی؛ کچھ لوگوں نے آپ کی تصدیق کی۔ اسی دوران آسمان سے ایک ستارہ ٹوٹا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جس کے گھر میں یہ ستارہ گرے گا وہ میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا؟ چنانچہ وہ ستارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر میں گرا۔ اہل مکہ کہنے لگے محمد گمراہ ہو گئے اپنے اہل بیت کی محبت میں گمراہ ہو گئے اور اپنے چچا زاد بھائی کی طرف جھک گئے۔ تب یہ آیت اتری:

﴿وَالنجم اِذَا ہَوٰیoمَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی﴾

محدث ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :یہ حدیث موضوع ہے، اس کا واضع کتنا برا آدمی ہے اور اس نے کس قدر بعید از عقل بات بیان کی ہے۔ اس کی سند میں اندھیرا ہی اندھیرا (کذاب راوی) ہے۔ مثلاً ابو صالح نیز کلبی اور محمد بن مروان سدّی، کلبی متہم بالکذب ہے۔ ابو حاتم بن حبان لکھتے ہیں :

’’کلبی ان لوگوں میں سے تھا جو کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فوت نہیں ہوئے اور وہ لوٹ کر دنیا میں آئیں گے۔ جب بادل کو دیکھتا تو کہتا اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اس کی روایت سے احتجاج کرنا حلال نہیں ہے۔‘‘

حیرانی کی بات ہے اس حدیث کو وضع کرنے والے نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ عقل کے منافی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ستارہ کسی جگہ گرے اور وہ اتنی دیر وہاں موجود رہے کہ دوسرا شخص اسے دیکھ سکے۔ اس کی حماقت کا اندازہ لگائیے کہ اس نے اس روایت کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ ابن عباس کی عمر رضی اللہ عنہ اس وقت دو سال تھی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے عینی شاہد کیسے ہو سکتے تھے اور یہ روایت کیسے نقل کرسکتے تھے؟‘‘

’’ میں کہتا ہوں چونکہ یہ روایت کلبی کی معروف تفسیر میں نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث اس کے بعد وضع کی گئی ہے۔ اقرب الی الصحت یہی بات ہے۔ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

صفحہ 2 از 4