امامت علی کی چوتھی دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

امامت علی کی چوتھی دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 4

’’ بعض لوگوں نے اس حدیث کے الفاظ چرا لیے، اس کی اسناد تبدیل کردی اور ایک غریب سند کیساتھ اسے ابو بکر العطار سے ؛اس نے سلیمان بن احمد المصری سے ابو قضاعۃ ربیعہ بن محمد کی سند سے نقل کیا ہے‘ وہ کہتے ہیں :ہم سے ثوبان بن ابراہیم نے بیان کیا؛ وہ کہتا ہے ہم سے مالک بن غسان النہشلی نے بیان کیا اس نے حضرت انس سے روایت کیا ہے :

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک ستارہ ٹوٹا توآپ نے فرمایا :’’جس کے گھر میں یہ ستارہ گرے گا وہ میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا؟ چنانچہ وہ ستارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر میں گرا۔ اہل مکہ کہنے لگے محمد گمراہ ہو گئے اپنے اہل بیت کی محبت میں گمراہ ہو گئے اور اپنے چچا زاد بھائی کی طرف جھک گئے۔ تب یہ آیت اتری:

﴿وَالنجم اِذَا ہَوٰیoمَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی﴾

ابو الفرج ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’یہ حدیث حقیقت میں وہ پہلے والی حدیث ہے۔ بعض لوگوں نے اس حدیث کے الفاظ چرا لیے، اس کی اسناد تبدیل کردی۔ اس کی غفلت کی انتہاء یہ ہے کہ اس نے یہ روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی ہے ۔ حالانکہ معراج کے زمانہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ مکہ میں موجود ہی نہیں تھے۔ او رنہ ہی اس سورت کے نزول کے وقت موجود تھے۔ معراج کا واقعہ ہجرت مدینہ سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ طیبہ میں آمد کے بعد پہچانا ہے۔ اس کی سند میں اندھیرا ہی اندھیرا (کذاب راوی) ہے۔ مالک النہشلی کے بارے میں ابو حاتم بن حبان لکھتے ہیں :

’’ یہ ایسی روایات ثقات کے سر تھوپتا ہے جو کہ اصل میں جھوٹ ہوتی ہیں ۔‘‘

جب کہ ثوبان کے بارے میں کہا ہے : ’’یہ ذوالنون مصری کا بھائی ہے۔ حدیث میں بہت ہی کمزور ہے۔

ابو قضاعہ منکر الحدیث ہے اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی ۔

ابو بکر العطار اور سلیمان بن احمد دونوں مجہول ہیں ۔

تیسری بات:....جس چیز سے اس روایت کا جھوٹ ظاہر ہوتا ہے وہ راوی کا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق کہنا ہے کہ سورت نجم کے نزول کے وقت جب ستارہ ٹوٹ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر پر گرا تو اس وقت موجود تھے۔ سورت نجم پر لوگوں کا اتفاق ہے کہ مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت بھی نوخیز لڑکے تھے ؛ ابھی بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے۔ بخاری و مسلم میں یہ بات ثابت ہے۔

تو اس اعتبار سے ان آیات کے نزول کے وقت یا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پیدا ہی نہیں ہوئے تھے ؛ اور اگر پیدا ہو بھی گئے تھے تو ابھی نا سمجھ بچے تھے۔ اس لیے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمرتقریباً زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہوگی۔ حق بات یہ ہے کہ اس سورت کے نزول کے وقت ابن عباس پیدا ہی نہیں ہوئے تھے ؛ اس لیے کہ سورت نجم قرآن کی انتہائی ابتدائی سورتوں میں سے ایک ہے۔

چوتھی بات :....مزید براں ستارہ ٹوٹنے کا واقعہ صحیح نہیں ۔ مکہ و مدینہ بلکہ کسی جگہ بھی یہ واقعہ پیش نہیں آیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اس وقت بکثرت انگارے آسمان سے پھینکے جانے لگے۔مگر کوئی ستارہ زمیں پر نہیں اترا۔یہ واقعہ ان خارق عادت امور میں سے نہیں جنہیں دنیا جانتی ہو؛ بلکہ ان امور میں سے جن کے بارے میں کسی کو کچھ بھی علم نہیں ۔

بایں ہمہ ایسی من گھڑت روایت بیان کرنا بڑے جرأت مند ڈھیٹ اوردینداری کے لحاظ سے انتہائی بے حیاء آدمی کا کام ہے۔ اور ایسے واقعات کو صرف ایسے لوگوں میں ہی پذیرائی حاصل ہوسکتی ہے جو لوگوں میں سب سے جاہل اور احمق ہوں ‘ اور علم ومعرفت کے لحاظ سے بالکل تہی دامن ۔

پانچویں بات: سورت نجم اسلام کے ابتدائی دور میں ناز ل ہوئی تھی۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ بالکل بچے تھے ۔ بلوغت کی عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے؛ اور نہ ہی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی ہوئی تھی؛ اس وقت نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی۔ نہ ہی زکوٰۃ اور حج اور رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے۔ اورنہ ہی اسلام کے عام قواعد مستحکم ہوئے تھے۔

صفحہ 3 از 4