منظم فوج کو روانہ کرنا
علی محمد الصلابیجب لشکر اسامہ دو ماہ اور بقول بعض چالیس دن کے بعد مدینہ واپس ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لے کر ذوالقصہ پر چڑھائی کی، جو مدینہ سے ایک دن کی مسافت پر واقع ہے تا کہ مرتدین اور متمردین سے قتال کریں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سیدنا ابوبکرؓ سے یہ پیشکش کی کہ سیدنا ابوبکرؓ کسی دوسرے کو فوج کی قیادت سونپ دیں اور خود مدینہ واپس ہو کر امور خلافت کو سنبھالیں اور اس مطالبہ پر زور دیا۔ اس سلسلہ میں ام المؤمنین سيده عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے والد تلوار کھینچ کر وادی ذوالقصہ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا علی بن ابی طالبؓ حاضر ہوئے اور سواری کی نکیل تھام لی اور عرض کیا: اے خلیفہ رسول کہاں جا رہے ہیں؟ میں وہی کہوں گا جو رسول اللہﷺ نے احد کے دن کہا تھا۔
اس سے اشارہ نبیﷺ کے اس ارشاد کی طرف ہے جو احد کے دن جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ کی طرف ان کو قتل کرنے بڑھے تو آپؓ نے فرمایا اپنی تلوار بند کرو اور اپنی جگہ لوٹ جاؤ۔
اپنی تلوار میان میں ڈال لیجیے اور اپنے بارے میں کوئی بری خبر نہ سنوایئے، واللہ اگر آپؓ کو کچھ ہو گیا تو سیدنا ابوبکرؓ کے بعد اسلام کا نظام کبھی قائم نہیں ہو سکتا، تو سیدنا ابوبکرؓ لوٹ آئے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 319)
دستہ پر امیر مقرر کیا،
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 49)
اور ہر امیر کو یہ حکم فرمایا کہ جن بستیوں سے گزر ہو وہاں کے مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے لیں۔ وہ دستے یہ تھے:
1: لشکرِ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ، اوّلاً بنی اسد، پھر بنی تمیم، پھر یمامہ کی طرف۔
2: لشکر حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ، اوّلاً بنو حنیفہ میں مسیلمہ کذاب، پھر عمان و مہرہ، پھر حضر موت، پھر یمن کی طرف۔
3: لشکر سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، اوّلاً حضرت یمامہ عکرمہؓ کے پیچھے، پھر حضر موت کی طرف۔
4: لشکر سیدنا طریفہ بن حاجب رضی اللہ عنہ، بنو سلیم کی طرف۔
5: لشکر حضرت عمرو بن عاصؓ، قضاعہ کی طرف۔
6: لشکر سیدنا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ، حدود شام کی طرف۔
7: لشکر حضرت علاء بن حضرمیؓ بحرین کی طرف۔
8: لشکر سیدنا حذیفہ بن محصن غطفانی رضی اللہ عنہ، عمان کی طرف۔
9: لشکر عرفجہ بن ہرثمہ، مہرہ کی طرف۔
10: لشکر حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ، یمن کی طرف (صنعاء پھر حضر موت)
11: لشکر سوید بن مقرنؓ، تہامۂ یمن کی طرف۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 68 دراسات فی عصر النبوۃ: صفحہ 321)
اس طرح ذوالقصہ فوجی مرکز قرار پایا، یہاں سے منظم اسلامی افواج ارتداد کی تحریک کو کچلنے کے لیے مختلف علاقوں کی طرف روانہ ہوئیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے منصوبہ سے منفرد عبقریت اور دقیق جغرافیائی تجربہ کا پتا چلتا ہے۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلفاء الراشدین: صفحہ 321)
دستوں کی تقسیم اور ان کے مواقع کی تحدید سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جغرافیہ کا دقیق علم رکھتے تھے اور زمین کے نشانات اور انسانی آبادیوں اور جزیرۃ العرب کے راستوں سے بخوبی واقف تھے۔ گویا کہ جزیرہ عرب مجسم شکل میں آپؓ کی آنکھوں کے سامنے تھا، جیسا کہ دورِ حاضر میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس مراکز قیادت میں ہوتا ہے۔ جو شخص بھی لشکروں کو روانہ کرنے، ان کی جہت کا تعین کرنے، تفرق کے بعد اجتماع اور دوبارہ مجتمع ہونے کے لیے تفرق میں غور و فکر کرے گا، اس کو یہ اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ یہ منصوبہ بندی پورے جزیره عرب پر مثالی اور صحیح انداز سے محیط تھی اور ان لشکروں کے ساتھ رابطہ بھی انتہائی دقیق تھا، سيدنا ابوبکرؓ کو ہمہ وقت اس کا پتہ رہتا تھا کہ فوج کہاں ہے؟ اس کے تحرکات اور جملہ امور سے بخوبی واقف رہتے تھے اور یہ بھی پتا چلتا رہتا تھا کہ اس کو کیا کامیابی ہوئی اور کل کا کیا پروگرام ہے؟ مراسلات انتہائی دقیق اور تیز ہوا کرتے تھے اور میدان قتال سے خبریں برابر مدینہ مرکز قیادت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہنچتی رہتی تھیں، پوری فوج سے برابر رابطہ قائم رہتا تھا۔ مرکز قیادت اور میدان قتال کے درمیان فوجی خبر رسانی میں سیدنا ابو خیثمہ انصاری، سیدنا سلمہ بن سلامہ، سیدنا ابو برزہ اسلمی اور سیدنا سلمہ بن وقش رضی اللہ عنہم نے نمایاں حیثیت حاصل کی۔
(فی التاریخ الاسلامی: شوقی ابوخلیل صفحہ 226، 227)
جن لشکروں کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روانہ فرمایا وہ آپس میں مربوط تھے اور یہ خلافت کی اہم کامیابیوں میں سے تھا کیونکہ ان لشکروں کے اندر قیادت کی مہارت کے ساتھ حسن تنظیم بھی موجود تھا۔ مزید برآں قتال میں تجربہ پہلے سے تھا، رسول اللہﷺ کے دور میں غزوات و سرایا کی تحریک میں انہیں عسکری اعمال کا اچھا تجربہ ہو چکا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حکومت کا عسکری نظام جزیرہ عرب میں تمام عسکری قوتوں پر تفوق رکھتا تھا.
(من دومۃ عمر الی دولۃ عبدالملک: ابراہیم بیضون: صفحہ 28)
اور ان لشکروں کے قائد عام سیف اللہ المسلول (اللہ کی کھلی تلوار) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، جو اسلامی فتوحات اور حروب ارتداد میں منفرد عبقری شخصیت کے حامل تھے۔
اسلامی فوج کی یہ تقسیم انتہائی اہم فوجی منصوبہ کے تحت عمل میں آئی تھی کیونکہ مرتدین ابھی تک اپنے اپنے علاقوں میں متفرق تھے، مسلمانوں کے خلاف ان کی جتھا بندی عمل میں نہ آسکی تھی۔ بڑے قبائل دور دراز علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے، وقت اس کے لیے کافی نہ تھا کہ وہ آپس میں جتھا بندی کر سکیں کیونکہ ارتداد شروع ہوئے ابھی تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہ گذرا تھا، اور ثانیاً وہ اپنے خلاف مسلمانوں کے خطرہ کو نہ سمجھ سکے، وہ یہ تصور کیے ہوئے تھے کہ چند ماہ میں تمام مسلمانوں کا صفایا کر دیں گے۔ اسی لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اچانک ان کی شوکت و قوت کا صفایا کیا جائے، قبل ازیں کہ وہ اپنے باطل کی نصرت کے لیے جتھا بندی کر سکیں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 51)
اس لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے فتنہ کے بڑھنے سے قبل ہی ان کی خبر لی اور انہیں اس بات کا موقع نہ دیا کہ وہ اپنا سر اٹھا سکیں اور اپنی زبان دراز کر سکیں، جس سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچا سکیں۔ اس طرح سیدنا ابوبکرؓ نے اس حکمت پر عمل کیا:
لا تقطَعَنْ ذنب الأفعی وترسلہا
ان کنت شہمًا فاتبع راسہا الذَّنبا
ترجمہ: سانپ کی دم کاٹ کر چھوڑ مت دو، اگر عقل مند ہو تو دم کے ساتھ سر بھی کاٹ دو۔
(حرکۃ الردہ للعقوم: صفحہ 312)
آپؓ نے اس فتنہ کی سنگینی اور اس کے نتائج اور اس کی خطرناکی کا اندازہ کر لیا تھا اور آپؓ کو یہ پتہ تھا کہ اگر ایسا نہ کیا تو چنگاری راکھ کے نیچے سے بھڑک اٹھے گی اور ہر خشک و تر کو جلا کر راکھ کر دے گی جیسا کہ شاعر کا کہنا ہے:
اری تحت الرَّماد ومیض نار
ویوشک ان یکون لہ ضِرَامُ
ترجمہ: راکھ کے نیچے چنگاری دیکھ رہا ہوں، قریب ہے کہ وہ بھڑک اٹھے۔
(حرکۃ الردۃ: صفحہ 313)
آپؓ ماہر سیاستداں اور تجربہ کار فوجی تھے، امور کا صحیح اندازہ لگاتے اور اس کے لیے فوری منصوبہ تیار کرتے۔
سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جن لشکروں کو تیار کیا تھا وہ نکلے اور ان کے ساتھ توحید کا پرچم لہرا رہا تھا، ساتھ ہی ساتھ ایمان میں مست، اللہ کی عظمت کو پہچاننے والے، دلوں سے خالص دعائیں نکل رہی تھیں، ان کے حلق صرف اللہ کے ذکر سے تر تھے۔ اللہ نے ان پاکیزہ دعاؤں کو قبول فرمایا، ان پر اپنی نصرت کا نزول فرمایا، ان کے ذریعہ سے اپنا کلمہ بلند کیا اور اپنے دین کی حفاظت فرمائی، یہاں تک کہ چند ماہ کے اندر جزیره عرب اسلام کے تابع ہو گیا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 51)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارتداد و بغاوت کا شکار ہونے والے قبائل کو ایک خط تحریر کیا۔ ان کو اسلام کی طرف لوٹنے اور اس کو مکمل شکل میں نافذ کرنے کی دعوت دی اور باطل پر جمے رہنے کی صورت میں دنیا و آخرت میں اس کے برے انجام سے ڈرایا۔ ڈرانے میں سیدنا ابوبکرؓ نے سختی کو اختیار کیا کیونکہ ان کے انحراف کی سنگینی اور باطل پر ڈٹے رہنے کے مناسب یہی تھا کیونکہ طغیان و سرکشی جو ان قبائل کے زعماء کے افکار پر مسلط ہو چکی تھی اور اندھی عصبیت نے ان کے متبعین کے افکار پر قبضہ جما لیا تھا، اس کے ازالے کے لیے شدید انداز اور جرأت مندانہ کارروائی کی ضرورت تھی۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 55)