مرتدین کے نام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط
علی محمد الصلابیاسلامی لشکروں کی تیاری اور ٹھوس تنظیم کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ تحریری دعوت کا سلسلہ جاری رہا اور اس نے اہم کردار ادا کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک عام خط تحریر کیا، جو محدود مضمون پر مشتمل تھا۔ مرتدین سے قتال کے لیے افواج کو روانہ کرنے سے قبل آپؓ نے اس خط کو مرتدین اور ثابت قدم رہنے والے سب کے درمیان اونچے پیمانے پر ممکنہ حد تک نشر کرنے کی کوشش کی۔ قبائل کے پاس لوگوں کو روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر ہر مجمع میں یہ خط سنائیں اور جس کو بھی اس خط کا مضمون پہنچے اسے حکم فرمایا کہ وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دے جن تک نہیں پہنچی ہے۔ آپؓ نے اس خط میں عام و خاص سب کو خطاب کیا، خواہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے والے ہوں یا اس سے مرتد ہو جانے والے۔
(الدور السیاسی للصفوۃ فی صدر الاسلام: السید عمر' صفحہ 262)
اس خط کو ملاحظہ فرمائیں:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رسول اللہﷺ کے خلیفہ سیدنا ابوبکر صديق رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان تمام حضرات کے نام جن کو یہ خط پہنچے، عوام میں سے ہوں یا خواص میں سے، اسلام پر قائم ہوں یا اس سے پھر چکے ہوں۔ ان کو سلام جنہوں نے ہدایت کی پیروی کی اور ہدایت ملنے کے بعد ضلالت اور اندھے پن کی طرف نہیں لوٹے۔ میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپﷺ جو کچھ لے کر آئے اس کا اقرار کرتے ہیں اور جو اس کا انکار کرے اس کی تکفیر کرتے ہیں اور اس سے جہاد کریں گے۔
اما بعد!
اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ اپنے پاس سے اپنی مخلوق کی طرف بشیر اور نذیر اور اپنی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا تاکہ ان کو ڈرائیں جن کے اندر زندگی ہے اور کافروں پر بات پوری ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو حق کی ہدایت دی جنہوں نے آپ کی بات مانی اور رسول اللہﷺ نے اللہ کے حکم سے ان کی سرکوبی کی، جنہوں نے اس سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ طوعاً یا کرہاً لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو وفات دے دی، درآں حالانکہ آپﷺ نے اللہ کے حکم کو نافذ کر دیا اور امت کی خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اور اپنی ذمہ داری پوری فرما دی اور اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اپنی نازل کردہ کتاب میں آپﷺ اور سارے اہل اسلام کے لیے بیان کر دیا تھا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ (سورۃ الزمر آیت 30)
ترجمہ: یقیناً خود آپﷺ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔
اور فرمایا:
وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُـلۡدَ اَفَائِن مِّتَّ فَهُمُ الۡخٰـلِدُوۡنَ ۞(سورۃ الانبیاء آیت 34)
ترجمہ: اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟
اور اہلِ ایمان کو خطاب کر کے فرمایا:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ۞( سورة العمران آیت 144)
ترجمہ: اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔
لہٰذا جو محمدﷺ کی عبادت کرتا رہا ہے وہ جان لے کہ محمدﷺ اب وفات پا چکے ہیں اور جو اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کرتا رہا ہے تو اللہ تو گھات میں ہے، زندہ و جاوید ہے، اس کو موت نہیں آ سکتی، اس پر تو اونگھ اور نیند بھی طاری نہیں ہوتی۔ وہ اپنے امر کی حفاظت کرنے والا اور اپنے دشمن سے انتقام لینے والا ہے۔ اور میں تمہیں اللہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔ تمہارا حصہ اور نصیبہ اللہ سے ملے گا۔ جو رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں اس کو مانو اور آپﷺ کی ہدایت کی پیروی کرو، اللہ کے دین کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ہر وہ شخص جس کو اللہ ہدایت نہ بخشے گمراہ ہے اور جس کو اللہ عافیت نہ دے وہ مصیبت زدہ ہے۔ جس کی اللہ مدد نہ کرے وہ بے یارو مددگار ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے وہ گمراہ ہے۔
ارشاد الہٰی ہے:
مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا ۞ (سورۃ الكهف آیت 17)
ترجمہ: جسے اللہ ہدایت دیدے، وہی ہدایت پاتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے اس کا تمہیں ہرگز کوئی مددگار نہیں مل سکتا جو اسے راستے پر لائے۔
دنیا میں اس کا کوئی عمل مقبول نہیں اور آخرت میں بھی اس کا کوئی عمل قبول نہ ہو گا، نہ فرض نہ نفل۔ تم میں سے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکا کھا کر، اس کے حکم سے جہالت کی وجہ سے اور شیطان کی پیروی میں دین اسلام کو اختیار کرنے کے بعد مرتد ہو چکے ہیں ان کا مجھے بخوبی علم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖ اَفَتَـتَّخِذُوۡنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗۤ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِىۡ وَهُمۡ لَـكُمۡ عَدُوٌّ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلًا ۞(سورۃ الكهف آیت 50)
ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ: آدم کے آگے سجدہ کرو۔ چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا، چنانچہ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا پھر بھی تم میرے بجائے اسے اور اس کی ذریت کو اپنا رکھوالا بناتے ہو۔ حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں؟ (اللہ تعالیٰ کا) کتنا برا متبادل ہے جو ظالموں کو ملا ہے۔
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡهُ عَدُوًّا اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰبِ السَّعِيۡرِ ۞ (سورۃ فاطر آیت 6)
ترجمہ: یقین جانو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے اس کو دشمن ہی سمجھتے رہو۔ وہ تو اپنے ماننے والوں کو جو دعوت دیتا ہے وہ اس لیے دیتا ہے تاکہ وہ دوزخ کے باسی بن جائیں۔
میں نے تمہاری طرف فلاں کو مہاجرین و انصار اور ان کے متبعین کی فوج کے ساتھ بھیجا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ کسی سے اس وقت تک قتال نہ کریں اور اسے قتل نہ کریں جب تک اللہ کے منادی کی طرف اس کو دعوت نہ دے دیں۔ جو اس دعوت کو قبول کرے، اس کا اقرار کرے اور اپنی حرکت سے باز آ جائے اور عمل صالح کرنے لگے اس سے قبول کریں اور اس سے تعاون کریں، اور جو انکاری ہو اس سے قتال کرنے کا انہیں حکم دیا ہے۔ اور ان میں سے جن پر قدرت پائیں کسی کو باقی نہ چھوڑیں، انہیں آگ میں جلا دیں۔
(کسی کو جلا کر سزا دینا جائز نہیں ہے، ارشاد نبوی ہے: ان النار لا یعذب بہا الا اللہ(البخاری: الجہاد 3016)آگ کے ذریعہ سے سزا دینا صرف اللہ کا کام ہے۔ لیکن یہاں انہیں جلانے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ ان بد معاشوں نے اہل ایمان کے ساتھ یہی برتاؤ کیا تھا لہٰذا یہ سزا قصاص کے طور پر تھی. (مترجم)
اور اچھی طرح قتل کر دیں۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنا لیں۔ کسی سے اسلام کے سوا کوئی عذر قبول نہ کریں۔ جس نے اسلام کی پیروی کی وہ اس کے لیے بہتر ہے اور جس نے اس کو ترک کیا وہ ہرگز اللہ کو عاجز نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنے پیغامبر کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہر مجمع میں میرے خط کو پڑھ کر تمہیں سنائے اور منادی اذان دے۔ مسلمانوں کی اذان پر جو لوگ اذان کا اہتمام کریں ان سے رک جاؤ اور اگر اذان نہ دیں تو جلدی سے ان پر حملہ کرو اور اگر اذان دیں تو ان سے جو زکوٰۃ ان پر فرض ہے طلب کرو، وہ اس کو ادا کرنے سے انکار کریں تو جلدی سے ان پر حملہ کرو۔ اگر اقرار کر لیں تو قبول کر لو اور ان کے مناسب جو ہو اس پر انہیں آمادہ کریں۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 69، 70 ،71)