Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صدیقی خط کا بنیادی محور

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس خط میں ہم دو محور پا رہے ہیں جس کے گرد خط کے تمام مضامین گردش کر رہے ہیں:

1: مرتدین سے اسلام کی طرف لوٹنے کا مطالبہ۔

2: ارتداد پر اصرار کا انجام۔

(الدور السیاسی للصفوۃ فی صدر الاسلام: صفحہ 262)

اور اس خط میں کئی ایک حقائق کی تاکید کی گئی ہے:

یہ خط عام و خاص سب کے نام ہے تا کہ سب اللہ کی دعوت کو سنیں۔

اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، جو اس کا اقرار کرے وہ مومن ہے اور جو انکار کرے کافر ہے، اس سے جہاد و قتال کیا جائے گا۔

محمدﷺ بشر ہیں۔ اللہ کا فرمان انك ميت یقیناً آپﷺ پر موت آئے گی آپﷺ پر صادق آچکا ہے۔ مومن محمدﷺ کی عبادت نہیں کرتا، وہ زندہ و جاوید باقی رہنے والے اللہ کی عبادت کرتا ہے، جس کو کبھی موت نہیں آ سکتی۔ اس لیے مرتدین کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 290)

اسلام سے پھرنا حقیقت سے لا علمی اور شیطان کے حکم کی پیروی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ دشمن کو دوست بنا لیا جائے حالانکہ یہ اچھے نفوس کے لیے ظلم عظیم ہے کیونکہ انسان ایسی صورت میں اپنے نفس کو برضا و رغبت جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔

مسلمانوں میں خالص اور چند لوگ مہاجرین و انصار اور ان کے متبعین ہیں جو دینی غیرت و حمیت اور اسلام کو توہین و تذلیل سے بچانے کے لیے مرتدین سے قتال کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

جو اسلام کی طرف لوٹ آئے، اپنی ضلالت کا اقرار کر لے اور مسلمانوں سے قتال کرنے سے باز آ جائے اور دین اسلام کے مطلوبہ اعمال کو بجا لائے، وہ اسلامی معاشرہ کا ایک فرد ہے، اس کو مسلمانوں کے حقوق حاصل ہیں اور وہ عائد شدہ ذمہ داریوں کا پابند ہے۔

جو مسلمانوں کی صف کی طرف لوٹنے سے انکاری ہو اور ارتداد پر ڈٹ جائے وہ محاربین میں سے ہے، اس پر حملہ کرنا ضروری ہے۔ اس کو قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جائے اور اس کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنا لیا جائے۔ وہ کسی صورت میں اللہ کو عاجز نہیں کر سکتا کیونکہ جہاں جائے گا اللہ ہی کی سلطنت میں رہے گا۔

مرتدین مسلمانوں کے حملے سے صرف اسی وقت بچ سکتے ہیں جب کہ ان کے درمیان اذان کا اہتمام ہو، ورنہ قتال ہی کے ذریعہ سے ان کا علاج کیا جائے گا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 176، 177)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو قائدین اور لشکر کی مرضی پر نہیں چھوڑ دیا، تمام قائدین کو ایک ہی خط تحریر کیا اور ان کو اس کے اندر گزشتہ خط کے مضمون کے التزام کی دعوت دی، اس خط کا متن یہ ہے:

یہ رسول اللہﷺ کے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرف سے فلاں کے نام پیغام ہے، جسے مرتدین سے قتال کی مہم پر روانہ کیا گیا ہے۔ اس کو وصیت کی جاتی ہے کہ ظاہر و باطن اپنے تمام امور میں حتیٰ الوسع اللہ سے تقویٰ اختیار کریں۔ اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے دین کے بارے میں جدوجہد کریں اور جو لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں اور شیطانی آرزوؤں کو اختیار کر لیا ہے ان سے جہاد کریں۔ سب سے پہلے ان کو موقع دیں، اسلام کی دعوت ان کے سامنے پیش کریں، اگر وہ اس کو قبول کر لیں تو ان سے رک جائیں، ورنہ ان پر حملہ کریں یہاں تک کہ وہ اسلام کا اقرار کر لیں۔ پھر ان کو خبر کریں کہ ان کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ ان کے ذمہ جو ہو اس کو وصول کریں اور ان کا جو حق ہے انہیں دیں، اس میں تاخیر نہ کریں، مسلمانوں کو دشمن سے قتال کرنے سے مت روکیں، جو اللہ کے دین کو قبول کر لے اور اس کو تسلیم کر لے اس کا عذر مان لیں اور بھلائی کے ساتھ اس کی مدد کریں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہے اس کی بات اسی وقت مانی جائے گی جب وہ اللہ کے دین کو قبول کر لے اور جو اللہ کی دعوت کو قبول نہ کرے وہ قتل کیا جائے گا اور جہاں کہیں ہو اس سے قتال کریں۔ اسلام کے سوا اس سے کوئی چیز قبول نہ کریں۔ جو اسلام کو قبول کر لے اور اسے تسلیم کر لے اس کی بات قبول کی جائے اور جو انکاری ہو اس سے قتال کریں۔ اگر اللہ غلبہ عطا فرمائے تو سب کو تہ تیغ کر دیں اور جو مال غنیمت اللہ عطا فرمائے مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیں اور خمس مجھ تک پہنچائیں اور اپنے ساتھیوں کو جلد بازی اور فساد سے باز رکھیں اور نامعلوم قسم کے لوگوں کو ان میں شامل نہ کریں جب تک کہ ان کو اچھی طرح سے جان پہچان نہ لیں، کہیں وہ جاسوس نہ ہوں تاکہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو زک نہ پہنچے۔ مسلمانوں کے ساتھ سفر و حضر میں اعتدال و نرمی برتیں، برابر ان کی خبر گیری کرتے رہیں، ان کو جلدی میں نہ ڈالیں اور مسلمانوں کو حسن صحبت اور نرم گفتگو کی وصیت کرتے رہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 71، 72)

یہ عہد جس کی پابندی قائدین پر لازم قرار دی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حرب ارتداد کے اندر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے امراء و قائدین کو اساسی تعلیمات یکساں لکھی ہوئی شکل میں دینے کا اہتمام فرمایا، جس کے اندر بلا کسی التباس کے یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی کہ اسلام کی طرف دعوت دینے سے قبل قتال نہ کیا جائے اور جو اسلام قبول کر لیں، ان سے قتال بند کر دیا جائے۔ ان کی اصلاح کا اہتمام کیا جائے، اسلام کا اقرار کر لینے کے بعد ان سے قتال کا سلسلہ بند کر دیا جائے، انہیں اصول اسلام سکھانے اور حقوق و واجبات کی تعلیم دینے کی کوشش کی جائے۔ جب تک مرتدین اللہ کے دین کی طرف واپس نہ آ جائیں ان سے قتال بند نہ کیا جائے اور فوج کو واپس نہ بلایا جائے۔

اسلامی فوج نے قتال سے قبل دعوت اور قبولیت اسلام کے بعد جنگ بندی کے اصول پر عمل کیا، کیونکہ قتال کا بنیادی اور واحد مقصد یہ تھا کہ مرتدین اسلام کی طرف دوبارہ واپس آجائیں۔ اسلامی فوج کی صفوں میں جسے ارتداد کی تحریک کو ختم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا، قول و عمل میں انتہائی درجہ کی موافقت ثابت کرنے کے لیے آپؓ نے اسلامی لشکر کے قائدین کے نام ایک اہم پیغام بھیجا، ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے اخلاق و عادات ہی مہم کو سر کرنے کے لیے بہترین دعوت ہوں اور ان کا بنیادی مقصد اسلام کی طرف سے دفاع کرنا ہو۔

(الدور السیاسی للصفوۃ: صفحہ 263)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی اقتداء سے فن قیادت سیکھا اور قیادت میں قائد کی کامیابی اس کے فن سپاہ گری میں کامیابی پر منحصر ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اسلامی لشکر کے انتہائی کامیاب سپاہی تھے۔ رسول اللہﷺ کی رفاقت میں انتہائی مخلص تھے۔ آپﷺ کی باتوں کو پوری طرح من و عن عملی جامہ پہناتے، اس راہ میں سب کچھ قربان کرتے۔ کسی معرکہ میں کبھی بھی فرار اختیار نہ کیا۔ آپﷺ کے قائدانہ مشوروں کی باریکی اور دور رس مقاصد کا اندازہ قائدین کے نام وصیتوں اور دشمن کے خلاف نقل و حرکت کے لیے مقرر کردہ منصوبوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 179)

پہلی وصیت جو قائدین کو سیدنا ابوبکرؓ نے کی وہ مندرجہ ذیل عناصر پر مشتمل تھی:

اللہ سے تقویٰ لازم پکڑیں اور خلوت و جلوت میں اللہ کا خوف رکھیں۔ صحیح سیاست کے لیے یہی درست و مناسب ہے کیونکہ اگر قائد اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کرتا اور اس کے شامل حال ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيۡنَ هُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ۞  (سورۃ النحل آیت 128)

ترجمہ: یقین رکھو کہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔

محنت و کوشش اور اخلاص، اور یہ فتح مندوں اور فائزین کے اوصاف ہیں۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 291، 292)

ارشاد الہٰی ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ (سورۃ العنكبوت آیت 69)

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ 

مرتدین سے اسلام یا پھر قتال ہی قابل قبول ہے۔ کیونکہ عقیدہ کے سلسلہ میں کوئی مصالحت نہیں۔

بیت المال کے حق خمس کو محفوظ رکھ کر باقی مال غنیمت فوج کے درمیان تقسیم کر دینا۔

درآمدہ مسائل میں جلد بازی نہ کی جائے تا کہ ان مسائل کا حل بغیر غور و فکر کے صادر نہ ہو۔

اس بات کی مکمل احتیاط کی جائے کہ کوئی اجنبی ان کے درمیان شامل نہ ہونے پائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ دشمن کا جاسوس ہو۔

لشکر کے ساتھ نرمی اور رفق کا معاملہ کیا جائے اور سفر اور قیام کے دوران برابر ان کی خبر گیری کی جائے تا کہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔

امراء ہمیشہ لشکر کو حسن صحبت کی وصیت کرتے رہیں۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 179)

بحث و تحقیق کے بعد قائدین کی تقرری کے سلسلہ میں درج ذیل نکات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی منصوبہ بندی کی تلخیص ہمارے سامنے آتی ہے:

الف: اس منصوبہ میں اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ لشکروں کے درمیان آپس میں ربط اور تعاؤن برابر قائم رہے اگرچہ ان کے مقامات اور جہات مختلف تھے لیکن سب ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں تھیں۔ ان کا آپس میں ملنا اور جدا ہونا ایک ہی مقصد کے پیش نظر تھا اور خلیفہ کے مدینہ میں ہوتے ہوئے قتال کے جملہ امور کا کنٹرول پاور اس کے ہاتھ میں تھا۔

ب: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دارالخلافہ مدینہ کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک حصہ اپنے پاس رکھا اور اسی طرح امور حکومت میں رائے و مشورہ کے لیے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت اپنے پاس رکھی۔

ج: سیدنا ابوبکرؓ کو معلوم تھا کہ ارتداد سے متاثرہ علاقوں میں اسلامی قوت موجود ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کی فکر لاحق ہوئی کہ کہیں یہ مسلمان مشرکین کے غیظ و غضب کا نشانہ نہ بنیں، اس لیے قائدین کو حکم فرمایا کہ ان میں سے جو قوت و طاقت کے مالک ہیں ان کو اپنے ساتھ شامل کر لیں اور ان علاقوں کی حفاظت کی خاطر کچھ افراد کو وہاں مقرر کر دیں۔

د: مرتدین کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ کے اصول کو اپنایا، فوج کے اہداف کچھ ظاہر کرتے حالانکہ مقصود کچھ اور ہی ہوتا، انتہائی احتیاط و حذر کا طریقہ اختیار کیا کہ کہیں ان کا منصوبہ فاش نہ ہونے پائے۔

(الأبعاد المفہوم الأمن فی الاسلام: مصطفی محمود منجمود: صفحہ 169)

اس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سیاسی مہارت، علمی تجربہ، علم راسخ اور ربانی فتح و نصرت نمایاں ہوتی ہے۔