صدیقی خط کا بنیادی محور - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

صدیقی خط کا بنیادی محور

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی اقتداء سے فن قیادت سیکھا اور قیادت میں قائد کی کامیابی اس کے فن سپاہ گری میں کامیابی پر منحصر ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اسلامی لشکر کے انتہائی کامیاب سپاہی تھے۔ رسول اللہﷺ کی رفاقت میں انتہائی مخلص تھے۔ آپﷺ کی باتوں کو پوری طرح من و عن عملی جامہ پہناتے، اس راہ میں سب کچھ قربان کرتے۔ کسی معرکہ میں کبھی بھی فرار اختیار نہ کیا۔ آپﷺ کے قائدانہ مشوروں کی باریکی اور دور رس مقاصد کا اندازہ قائدین کے نام وصیتوں اور دشمن کے خلاف نقل و حرکت کے لیے مقرر کردہ منصوبوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 179)

پہلی وصیت جو قائدین کو سیدنا ابوبکرؓ نے کی وہ مندرجہ ذیل عناصر پر مشتمل تھی:

اللہ سے تقویٰ لازم پکڑیں اور خلوت و جلوت میں اللہ کا خوف رکھیں۔ صحیح سیاست کے لیے یہی درست و مناسب ہے کیونکہ اگر قائد اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کرتا اور اس کے شامل حال ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيۡنَ هُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ ۞  (سورۃ النحل آیت 128)

ترجمہ: یقین رکھو کہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔

محنت و کوشش اور اخلاص، اور یہ فتح مندوں اور فائزین کے اوصاف ہیں۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 291، 292)

ارشاد الہٰی ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ (سورۃ العنكبوت آیت 69)

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں پر پہنچائیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ 

مرتدین سے اسلام یا پھر قتال ہی قابل قبول ہے۔ کیونکہ عقیدہ کے سلسلہ میں کوئی مصالحت نہیں۔

بیت المال کے حق خمس کو محفوظ رکھ کر باقی مال غنیمت فوج کے درمیان تقسیم کر دینا۔

درآمدہ مسائل میں جلد بازی نہ کی جائے تا کہ ان مسائل کا حل بغیر غور و فکر کے صادر نہ ہو۔

اس بات کی مکمل احتیاط کی جائے کہ کوئی اجنبی ان کے درمیان شامل نہ ہونے پائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ دشمن کا جاسوس ہو۔

لشکر کے ساتھ نرمی اور رفق کا معاملہ کیا جائے اور سفر اور قیام کے دوران برابر ان کی خبر گیری کی جائے تا کہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔

امراء ہمیشہ لشکر کو حسن صحبت کی وصیت کرتے رہیں۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 179)

بحث و تحقیق کے بعد قائدین کی تقرری کے سلسلہ میں درج ذیل نکات میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی منصوبہ بندی کی تلخیص ہمارے سامنے آتی ہے:

الف: اس منصوبہ میں اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ لشکروں کے درمیان آپس میں ربط اور تعاؤن برابر قائم رہے اگرچہ ان کے مقامات اور جہات مختلف تھے لیکن سب ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں تھیں۔ ان کا آپس میں ملنا اور جدا ہونا ایک ہی مقصد کے پیش نظر تھا اور خلیفہ کے مدینہ میں ہوتے ہوئے قتال کے جملہ امور کا کنٹرول پاور اس کے ہاتھ میں تھا۔

ب: سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دارالخلافہ مدینہ کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک حصہ اپنے پاس رکھا اور اسی طرح امور حکومت میں رائے و مشورہ کے لیے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت اپنے پاس رکھی۔

ج: سیدنا ابوبکرؓ کو معلوم تھا کہ ارتداد سے متاثرہ علاقوں میں اسلامی قوت موجود ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کی فکر لاحق ہوئی کہ کہیں یہ مسلمان مشرکین کے غیظ و غضب کا نشانہ نہ بنیں، اس لیے قائدین کو حکم فرمایا کہ ان میں سے جو قوت و طاقت کے مالک ہیں ان کو اپنے ساتھ شامل کر لیں اور ان علاقوں کی حفاظت کی خاطر کچھ افراد کو وہاں مقرر کر دیں۔

د: مرتدین کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ کے اصول کو اپنایا، فوج کے اہداف کچھ ظاہر کرتے حالانکہ مقصود کچھ اور ہی ہوتا، انتہائی احتیاط و حذر کا طریقہ اختیار کیا کہ کہیں ان کا منصوبہ فاش نہ ہونے پائے۔

(الأبعاد المفہوم الأمن فی الاسلام: مصطفی محمود منجمود: صفحہ 169)

اس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سیاسی مہارت، علمی تجربہ، علم راسخ اور ربانی فتح و نصرت نمایاں ہوتی ہے۔


صفحہ 2 از 2