Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر معاویہ نے اسلام میں بری سنت حضرت علیؓ پر لعن طعن ایجاد کی۔ (الامام زید مصنفہ ابو زہرہ

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

امیر معاویہ نے اسلام میں بری سنت حضرت علیؓ پر لعن طعن ایجاد کی۔

(الامام زید مصنفہ ابو زہرہ)

 الجواب اہلسنت 

1۔ الامام زید کے مذکورہ عکسی صفحہ پر یہ اعتراض تاریخ ابن جریر طبری اور جزری شریف کی الکامل ابن اثیر الجزری کی روایت کے حوالے سے کیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیؓ کے بارے میں لعن طعن کو جاری کیا۔ اس روایت میں ایک راوی ہشام بن محمد کلبی ہے

2۔ دوسرا لوط بن یحیی ابو مخنف ہے

 یہ راویان کرام کس پائے کے اور کتنے قابل اعتماد حضرات ہیں ذرا ان بزرگوں کا حال اسماء الرجال سے ملاحظہ فرمائیں۔ 

1۔ ہشام بن محمد الکلبی:

متروک ہے، قصہ گو اخباری ہے، رافضی ہے، غیر معتبر ہے، نا قابل اعتماد ہے۔

عربی الفاظ ہیں:

ترکوہ  وھو اخباری، متروک، رافضی، لیس بثقة لایوثق

المغنی فی الضعفاء جلد 2 صفحہ 761، میزان الاعتدال للذھبی جلد 3 صفحہ 256 تحت ہشام، لسان المیزان لابن حجر جلد 2 صفحہ 197 ۔،194)

 2۔  لوط بن یحیی ابو مخنف:

یہ صاحب بھی ارباب علم کی نظر میں اچھے خاصے مجروح بلکہ روایات گھڑنے والوں کے امام اور استاد ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں:

1۔ مجروح ہے 2۔ غیر معتمد ہے 3۔ ضعیف اور متروک ہے 4۔ جلا بھنا شیعہ ہے 5۔ اخباری ہے

الفاظ ہیں:

ابو مخنف لوط بن یحیی لا یوثق بہ، ضعیف، لیس بشئی، شیعی محترق، صاحب اخبارھم

(المغنی للذھبی جلد 2 صفحہ 807، میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 367، لسان المیزان لائن حجر جلد 4 صفحہ 492)

 ارباب علم و انصاف توجہ فرمائیں۔ بھلا جلے بھنے ابومخنف جیسے رافضی حضرت امیر معاویہؓ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کے بارے میں کونسی اچھی رائے قائم کریں گے اور ان کی گوہر فشانی سے کتنی سچائی ٹپکے گی بحرحال طبری کے دونوں رافضی راوی معمولی درجے کے نہیں غالی شیعہ اور متعصب رافضی تھے ان کی روایات اہل سنت کی کتابوں میں داخل کر دی گئی ہیں ان روایات کو بھلا کیسے اہل سنت والجماعت کے کھاتے میں ڈالا جاسکتا ہے۔

 یہ تاریخ کی ان روایات کا حال ہے جو بغض صحابہؓ کے اظہار میں پیش کی جاتی ہیں یہی روایات ابو زہرہ المصری جیسے قلمکاروں کا علمی اثاثہ اور استدلال کی بنیاد ہے جو سنی کتابیں معروف کرکے ہمارے مقابل الزام میں پیش کی جاتی ہیں ہم ان انصاف پسند ارباب نظر سے استدعا کریں گے کہ جو حضرات حقیقت حال سے واقفیت چاہتے ہیں اور سچے مذہب کے متلاشی ہیں  وہ ان راویان روایت کا اسماء الرجال کی کتابوں سے جائزہ لیں جس سے یہ حقیقت آپ کے سامنے سورج کی طرح روشن ہوجائے گی کہ رافضی کرم فرماؤں نے کمال عیاری سے اہل سنت کی تاریخ، تفسیر اور غیر معروف کتابوں میں اپنا گندا مواد بھر دیا ہے اور اسی گندے مواد کو پھر ہمارے خلاف الزام میں پیش کرتے ہیں یہ تو قادر مطلق کی خاص عنایت اور بے انتہا احسان ہے کہ کریم ذات نے کھوٹا کھرا پہچاننے کا بے مثال آلہ فن اسماء الرجال کی صورت میں اس امت کو تھما دیا جس سے ارباب علم عقائد و نظریات کا درجہ حرارت یا حقیقت معلوم کر لیتے ہیں ورنہ رافضیوں نے تو اسلامی نظریہ کو مسخ کرنے اور تباہ و برباد کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

 رافضی اس بھول میں نہ رہیں کہ ان کے دھوکے پر ہمیشہ ہی پردے پڑے رہیں گے اس طرح کے دھوکے اور فراڈ کی حرکتیں اللہ کے نور کو بجھانے پر ہرگز قادر نہیں ہو سکتی۔

مذکورہ صفحہ پر طبری کے ساتھ ابن اثیر کا بھی حوالہ دیا گیا تھا یاد رہے ابن اثیر جزری نے یہ روایت ابن جریر سے ہی نقل کی ہے گویا دونوں کتابوں میں ایک ہی روایت ہے اور اس کا حال ہم عرض کر چکے ہیں کہ جلے بھنے رافضیوں کی روایت ہے جو حسد کی اس آگ میں جل جل کر کوئلہ ہونے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بد نام کرنے کے لیے انہوں نے تیار کی ہے۔