امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3


امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نویں دلیل آیت مباہلہ ہے؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ﴾ [آل عمران۶۱]

’’پس جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور اپنی اپنی عورتوں کو اور خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں ، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ۔‘‘

جمہور کا قول ہے کہ اس آیت میں ﴿اَبْنَائَ نَا﴾ کا اشارہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف ہے۔ ﴿نِسَائَ نَا﴾ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں اور﴿اَنْفُسَنَا﴾ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔

یہ آیت امامت علی رضی اللہ عنہ کی زبردست دلیل ہے۔ اس لیے کہ آیت مذکورہ بالا میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’نفس رسول‘‘ قرار دیا ہے۔یہ ایک بدیہی بات ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک توہو نہیں سکتے۔ لہٰذا دونوں کی مساوات کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے قائم مقام ہیں ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر دوسرا کوئی شخص فضیلت میں ان کا ہم سر ہوتا تو اللہ اس کو بھی ساتھ لے جانے کا حکم صادر کرتے، کیونکہ قبولیت دعا کے لیے ان کی ضرورت تھی جب اہل بیت سب سے افضل ہوئے تو پھر امام بھی وہی ہوں گے۔یہ آیت اس قدر واضح ہے کہ اس کی دلالت صرف اس شخص پر پوشیدہ رہ سکتی ہے جس پر شیطان نے قبضہ جما رکھا ہو؛ اور اس کے دل کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں کرلیا ہو۔ اور دنیا کو اس کے لیے محبوب بنادیا گیا ہو؛ وہ اسے اہل حق سے ان کا حق روکے بغیر حاصل نہ کرسکتا ہو ۔‘‘ ( شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا)۔

جواب:جہاں تک مباہلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا ور ان کے دونوں بیٹوں کے لے جانے کا تعلق ہے ؛ یہ صحیح ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

﴿ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ﴾ [آل عمران۶۱]

’’آپ فرما دیں : آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں ۔‘‘

تو آپ نے حضرت علی حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلا کر فرمایا:’’ یااللہ! یہ میرے گھر کے لوگ ہیں ۔‘‘ [1]

مگر اس میں افضلیت اور امامت پر کوئی دلیل موجود نہیں ۔

[اشکال]:شیعہ کا یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’نفس رسول‘‘ بنا دیا تھا۔اتحاد محال ہے [یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک توہو نہیں سکتے]۔اب مساوات باقی رہ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام ولایت حاصل تھی ؛ پس آپ کے مساوی کے لیے بھی ایسے ہی ولایت ہوگی ۔‘‘

[جواب]:ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مساوات کی علاوہ کوئی چیز باقی نہیں بچی۔اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ۔ بلکہ اسے مساوات پر محمول کرناممتنع ہے، کیوں کہ کوئی بھی شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مساوی نہیں ہو سکتا؛ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نہ ہی کوئی دوسرا۔

نیز ’’اَنْفُسَنَا‘‘ کا لفظ لغت میں مساوات کے لیے نہیں بولا جاتا۔واقعہ افک میں اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ لَوْ لَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا﴾ (النور:۱۲)

’’اسے سنتے ہی مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمان کیوں نہ کیا ۔‘‘

اس سے مومن مردوں اور عورتوں کا مساوی ہونا لازم نہیں آتا۔نیز فرمایا:

﴿فَتُوْبُوْ آاِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَبَارِئِکُم﴾ (البقرۃ:۵۴)

’’تم اپنے خالق کی طرف رجوع کرواپنے آپ کوقتل کرواللہ کے ہاں یہ تمہارے لیے بہترہے۔‘‘

یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس سے لازم نہیں آیا کہ یہ تمام لوگ آپس میں مساوی ہوں ۔اورنہ ہی جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی وہ ان لوگوں کے مساوی ہیں جنھوں نے اسے نہیں پوجا تھا۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿وَ لَا تَقْتُلُوا اَنْفُسَکُمْ﴾ (النساء:۲۹)

’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔اگرچہ وہ برابر نہ بھی ہوں ۔[یہ مراد نہیں کہ وہ سب لوگ مرتبہ میں مساوی تھے۔ بخلاف ازیں ان میں بہت کچھ فرق مراتب پایا جاتا تھا]۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَلَا تَلْمِزُوا اَنفُسَکُمْ﴾ (الحجرات۱۱)

’’ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگا ؤ‘‘

کوئی آپس میں ایک دوسرے پر طعنہ زنی یا ٹھٹھہ جوئی نہ کریں ۔یہ ممانعت تمام اہل ایمان کے لیے ہے۔یعنی کوئی بھی کسی دوسرے کے ساتھ اس طرح کی عیب جوئی یا طعنہ زنی نہ کرے؛ حالانکہ تمام اہل ایمان آپس میں مساوی نہیں ہے۔نہ ہی احکام میں اورنہ ہی فضیلت میں ؛ جیسے ظالم اورمظلوم ؛ اور امام اور مأموم وغیرہ۔

اسی طرح سے اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰؤُلَآئِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ﴾ (البقرۃ:۸۵)

’’ لیکن پھر بھی تم نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا۔‘‘

یعنی بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کوقتل کرنے لگے۔

صفحہ 1 از 3