Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ


امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نویں دلیل آیت مباہلہ ہے؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : 

﴿فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ﴾ [آل عمران۶۱]

’’پس جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور اپنی اپنی عورتوں کو اور خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں ، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ۔‘‘

جمہور کا قول ہے کہ اس آیت میں ﴿اَبْنَائَ نَا﴾ کا اشارہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف ہے۔ ﴿نِسَائَ نَا﴾ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں اور﴿اَنْفُسَنَا﴾ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔

یہ آیت امامت علی رضی اللہ عنہ کی زبردست دلیل ہے۔ اس لیے کہ آیت مذکورہ بالا میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’نفس رسول‘‘ قرار دیا ہے۔یہ ایک بدیہی بات ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک توہو نہیں سکتے۔ لہٰذا دونوں کی مساوات کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے قائم مقام ہیں ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر دوسرا کوئی شخص فضیلت میں ان کا ہم سر ہوتا تو اللہ اس کو بھی ساتھ لے جانے کا حکم صادر کرتے، کیونکہ قبولیت دعا کے لیے ان کی ضرورت تھی جب اہل بیت سب سے افضل ہوئے تو پھر امام بھی وہی ہوں گے۔یہ آیت اس قدر واضح ہے کہ اس کی دلالت صرف اس شخص پر پوشیدہ رہ سکتی ہے جس پر شیطان نے قبضہ جما رکھا ہو؛ اور اس کے دل کو مکمل طور پر اپنے قبضہ میں کرلیا ہو۔ اور دنیا کو اس کے لیے محبوب بنادیا گیا ہو؛ وہ اسے اہل حق سے ان کا حق روکے بغیر حاصل نہ کرسکتا ہو ۔‘‘ ( شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا)۔

جواب:جہاں تک مباہلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا ور ان کے دونوں بیٹوں کے لے جانے کا تعلق ہے ؛ یہ صحیح ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث میں مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

﴿ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ﴾ [آل عمران۶۱]

’’آپ فرما دیں : آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں ۔‘‘

تو آپ نے حضرت علی حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلا کر فرمایا:’’ یااللہ! یہ میرے گھر کے لوگ ہیں ۔‘‘ [1]

مگر اس میں افضلیت اور امامت پر کوئی دلیل موجود نہیں ۔

[اشکال]:شیعہ کا یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’نفس رسول‘‘ بنا دیا تھا۔اتحاد محال ہے [یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک توہو نہیں سکتے]۔اب مساوات باقی رہ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام ولایت حاصل تھی ؛ پس آپ کے مساوی کے لیے بھی ایسے ہی ولایت ہوگی ۔‘‘

[جواب]:ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مساوات کی علاوہ کوئی چیز باقی نہیں بچی۔اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ۔ بلکہ اسے مساوات پر محمول کرناممتنع ہے، کیوں کہ کوئی بھی شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مساوی نہیں ہو سکتا؛ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نہ ہی کوئی دوسرا۔

نیز ’’اَنْفُسَنَا‘‘ کا لفظ لغت میں مساوات کے لیے نہیں بولا جاتا۔واقعہ افک میں اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ لَوْ لَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا﴾ (النور:۱۲)

’’اسے سنتے ہی مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمان کیوں نہ کیا ۔‘‘

اس سے مومن مردوں اور عورتوں کا مساوی ہونا لازم نہیں آتا۔نیز فرمایا:

﴿فَتُوْبُوْ آاِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَبَارِئِکُم﴾ (البقرۃ:۵۴)

’’تم اپنے خالق کی طرف رجوع کرواپنے آپ کوقتل کرواللہ کے ہاں یہ تمہارے لیے بہترہے۔‘‘

یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس سے لازم نہیں آیا کہ یہ تمام لوگ آپس میں مساوی ہوں ۔اورنہ ہی جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی وہ ان لوگوں کے مساوی ہیں جنھوں نے اسے نہیں پوجا تھا۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿وَ لَا تَقْتُلُوا اَنْفُسَکُمْ﴾ (النساء:۲۹)

’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔اگرچہ وہ برابر نہ بھی ہوں ۔[یہ مراد نہیں کہ وہ سب لوگ مرتبہ میں مساوی تھے۔ بخلاف ازیں ان میں بہت کچھ فرق مراتب پایا جاتا تھا]۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَلَا تَلْمِزُوا اَنفُسَکُمْ﴾ (الحجرات۱۱)

’’ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگا ؤ‘‘

کوئی آپس میں ایک دوسرے پر طعنہ زنی یا ٹھٹھہ جوئی نہ کریں ۔یہ ممانعت تمام اہل ایمان کے لیے ہے۔یعنی کوئی بھی کسی دوسرے کے ساتھ اس طرح کی عیب جوئی یا طعنہ زنی نہ کرے؛ حالانکہ تمام اہل ایمان آپس میں مساوی نہیں ہے۔نہ ہی احکام میں اورنہ ہی فضیلت میں ؛ جیسے ظالم اورمظلوم ؛ اور امام اور مأموم وغیرہ۔

اسی طرح سے اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰؤُلَآئِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ﴾ (البقرۃ:۸۵)

’’ لیکن پھر بھی تم نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا۔‘‘

یعنی بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کوقتل کرنے لگے۔

جب اس آیت میں یہ لفظ:﴿وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ﴾ [آل عمران۶۱]ان دوسری آیات میں وارد لفظ کی طرح تھا؛ جیسا کہ ﴿وَلَا تَلْمِزُوا اَنفُسَکُمْ﴾(الحجرات۱۱) ﴿ لَوْ لَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا﴾ (النور:۱۲) ؛ حالانکہ یہاں پر مساوا ت واجب ہی نہیں بلکہ ممتنع ہے؛ ایسے ہی شیعہ مصنف کے استدلال میں بھی یہ لفظ مساوات پر دلالت نہیں کرتا۔بلکہ یہ لفظ مختلف امور کی مشابہت و مماثلت پر دلالت کرتا ہے۔مماثلت اور مشابہت بعض امور میں اشتراک کی وجہ سے ہوتی ہے۔جیسا کہ ایمان میں اشتراک ؛ تمام اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ لَوْ لَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا﴾(النور:۱۲) ؛ میں یہی مراد ہے۔ اور ایسے ہی اس آیت میں بھی :﴿وَلَا تَلْمِزُوا اَنفُسَکُمْ﴾یہی مراد ہے ۔ 

کبھی یہ اشتراک [ظاہر]دین میں پایا جاتا ہے ؛ جب ان میں کوئی منافق بھی موجود ہو۔جیساکہ اسلام میں منافقین کا مسلمانوں کے ساتھ ظاہری اشتراک ۔اور اگر اس کے ساتھ نسب میں بھی اشتراک ہو تو زیادہ پختہ ہوجاتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو ’’ اپنے نفوس‘‘ اسی اعتبار سے کہا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان :

﴿تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَ نِسَآئَ کُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ﴾ [آل عمران۶۱]

’’تو آپ فرمادیں آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں ۔‘‘

اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے مردوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے مردوں کو بلاؤ۔ یعنی وہ مرد جو دین اور نسب میں ہماری جنس سے ہیں ‘ اور وہ مرد جو تمہاری جنس سے ہیں ۔یا پھر یہاں پر مجانست سے مراد صرف قرابت ہے۔اس لیے کہ آیت میں یوں فرمایاگیا ہے :

﴿اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَ نِسَآئَ کُمْ﴾ [آل عمران۶۱]

’’ اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو ۔‘‘

یہاں پر اولاد ؛ عورتوں اور مردوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قریبی رشتہ داروں کی اولاد عورتیں اور مرد اور اہلِ عصبہ کی اولاد مراد ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولادمیں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا ؛ مستورات میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اور مردوں میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو۔ظاہر ہے کہ عصبات میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین رشتہ دار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، پھر آپ نے ان پر اپنی چادر بھی تان دی تھی۔مباہلہ میں قریبی رشتہ داروں کو شامل کیا جاتا ہے ، دور کے رشتہ داروں کو اگرچہ افضل ہوں تب بھی شامل نہیں کیا جاتا۔کیونکہ اس سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ مراد یہ تھی کہ وہ بھی اپنے اقارب کو بلائیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقارب کو بلایا ہے۔ انسانی نفوس قریبی رشتہ داروں پر بڑی شفقت کے پیکر ہوتے ہیں ۔ایسی شفقت غیروں کے بارے میں نہیں پائی جاتی۔نصاری جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اور ان کو اس بات کا بھی علم تھا کہ اگر انہوں نے مباہلہ کیا تو اس کی ساری مصیبت ان پر ہی گرے گی۔اس وجہ سے انہیں اپنی جانوں کا اوراپنے عزیز و اقارب کا خوف لاحق ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ مباہلہ کرنے سے پیچھے ہٹ گئے۔ وگرنہ انسان پر کبھی ایسا بھی موقع آجاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میں اگر مربھی جاؤں تو میرا بیٹا زندہ رہے ۔بوڑھی عمر کا انسان مرنے کو بھی گوارا کرلیتا ہے جب اس کے اہل و عیال و اقارب عیش و آرام میں رہ جائیں ۔ اس کی مثالیں بہت ساری موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں سے مطالبہ کیا گیا کہ مباہلہ کے لیے اپنے آپ کو اپنے بیٹوں کو ؛ اپنی عورتوں کو اورقریبی مرد رشتہ داروں کو لائیں ۔

آیت مباہلہ ۱۰ ھ میں وفد نجران کے وارد مدینہ ہونے پر نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس اس وقت زندہ تھے، باقی چچا سب فوت ہو چکے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو سبقت اسلام حاصل تھی اور نہ آپ کے ساتھ کوئی اورخصوصیت تھی جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت تھی۔جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زادوں میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا کوئی بھی نہ تھا۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اس سے پہلے سن آٹھ ہجری میں غزوہ مؤتہ میں شہید ہوچکے تھے۔

ان لوگوں کا متعین ہونا اس وجہ سے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقارب میں کوئی بھی اور ایسانہیں تھا جو ان کے قائم مقام ہو سکتا۔ مگر اس سے یہ واجب نہیں ہوتا کہ یہ کسی بھی چیز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوی تھے۔ بلکہ اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ اس وجہ سے آپ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علی الاطلاق افضل ہوں ۔بلکہ مباہلہ کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔اور یہ فضیلت بھی حضرت علی ؛ حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کے مابین مشترک ہے۔ یہ امامت [ولایت ] کی خصوصیات میں سے نہیں ہے۔ اس لیے کہ امامت کے خصائص عورتوں کے لیے ثابت نہیں ہوسکتے۔ اور اس کا تقاضا یہ بھی نہیں ہے کہ آپ کو مباہلہ کے لیے ساتھ لینے کی وجہ سے آپ باقی تمام صحابہ کرا م سے افضل ہوگئے۔جیسا کہ اس سے یہ بھی واجب نہیں ہوا کہ حضرت فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم باقی تمام صحابہ سے افضل ہوجائیں ۔

[آیت مباہلہ سے استدلال ]:

[اشکال]:شیعہ مصنف کا یہ قول کہ: ’’ اگر کوئی اور شخص اہل بیت کے مساوی ہوتایا اللہ تعالیٰ کے ہاں دعا کی قبولیت میں ان سے افضل ہوتا ؛ تو آپ اس کو بھی مباہلہ میں شریک کرلیتے۔کیونکہ یہ ضرورت کا وقت تھا۔‘‘

[جواب]:یہاں پر اجابت دعا مقصود نہ تھی۔ ورنہ اکیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی اس مقصد کے لیے کافی ہوتی۔اگر ان لوگوں کو ساتھ لینے سے مراد استجابت دعا ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہل ایمان کو ساتھ بلا لیتے ؛ اور ان کے ساتھ مل کر دعا کرتے ۔جیسا کہ نماز استسقاء کے لیے انہیں ساتھ لیکر دعا فرمایا کرتے تھے۔ اور پھر فقراء مہاجرین سے فتح کی دعا کروایا کرتے تھے اور ارشادفرمایا کرتے تھے: 

’’کیا تم مدد کیے جاتے ہو اور روزی دیئے جاتے ہو مگر تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ؛ ان کی دعاؤں ‘ ان کی نمازوں او ر ان کے اخلاص کی وجہ سے ۔‘‘

یہ بات سب کو پتہ تھی کہ یہ لوگ مستجاب الدعوات ہیں ۔دعاء میں زیادہ کثرت ہونے سے قبولیت کے امکان زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔لیکن یہاں پر مقصود یہ نہیں تھا کہ کسی کو اس کے مستجاب الدعا ہونے کی وجہ سے بلایا گیاہے۔بلکہ اہل خانہ کو اہل خانہ کے مقابلہ کے طور پر بلایا گیا تھا۔

ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر و عمر عثمان و علی ؛ طلحہ و زبیر؛ابن مسعود اور ابی بن کعب ؛ یا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم اوردیگر کبار صحابہ کو اس مقصد کے لیے طلب کرتے تو یہ سب لوگ تعمیل ارشاد کے لیے حاضر تھے،اور ان حضرات کی دعا بھی اجابت میں زیادہ بلیغ [اثررساں ] ہوتی؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا حکم نہیں دیا تھا؛ اس لیے آپ نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کیوں کہ اس سے مباہلہ کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ نجران کے نصاریٰ اپنے ان اقارب و اعزہ کو مجلس مباہلہ میں لا رہے تھے جن پر فطری طور پر ان کے دل میں شفقت تھی ؛جیسے کہ ان کے بیٹے ؛ عورتیں اور اپنے قریب ترین رشتہ دار مرد۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی لوگوں کو بھی اس میں آنے کی دعوت دیتے تو نصاریٰ بھی ایسے لوگوں کواپنے ساتھ شامل کر لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے اجنبی اشخاص کی معیت میں مباہلہ میں شرکت کرنا ان پر کچھ بھی شاق نہ گزرتا جس طرح اقارب کے ہوتے ہوئے ان پر گراں گزر سکتا تھا۔ یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ اقارب کی تکلیف کا احساس انسان کو خائف و ہراساں رکھتا ہے اجانب کا الم و رنج اسے اس قدر پریشان نہیں کر سکتا۔

جب کسی قوم سے مصالحت کرنا مقصود ہوتو ہر فریق دوسرے سے کہتا ہے کہ اپنے بیوی بچے ہمارے یہاں رہن رکھ دو۔ اس کے برخلاف اگر وہ کچھ اجنبی لوگوں کو ان کے پاس گروی رکھ دیں تو وہ اس پر رضا مند نہیں ہوں گے۔ ایسے ہی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی لوگوں کو بلا لاتے تو فریق مخالف اس پر ہر گز راضی نہ ہوتا۔ کسی شخص کے اہل بیت ہونے سے یہ لازم نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کی نسبت افضل ہیں ۔

اس سے واضح ہوگیا کہ اس آیت مبارکہ میں اصل میں رافضی کے مطلب کی کوئی دلیل سرے سے موجود ہی نہیں ۔لیکن یہ رافضی اور اس کے امثال جن کے دلوں میں کجی پائی جاتی ہے ؛ان نصاری کی طرح ہیں جوکہ مجمل الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور صریح نصوص کو ترک کردیتے ہیں ۔ پھر اپنے اس جھوٹے گمان کی بنیاد پر امت کے بہترین لوگوں میں قدح کرنا ؛ اور ’’انفس ‘‘ کے لفظ سے مساوات مراد لینا یہ لغت عرب کے بھی خلاف ہے۔ 

دوسری بات:....جس سے معاملہ کی مزید وضاحت ہوتی ہے کہ ’’نساء نا ‘‘ یعنی ’’ہماری عورتیں ‘‘ کا لفظ صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ اس میں دوسری بیٹیاں بھی اسی منزلت پر ہیں ۔ لیکن اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ؛ جب کہ ام کلثوم ؛ زینب اور رقیہ رضی اللہ عنہن پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں ۔ہم کہتے ہیں کہ اگر نبی کریم کی دوسری بیٹیاں بقید حیات ہوتیں تو آپ ان کو مباہلہ میں ضرور شریک کرتے۔

ایسے ہی ’’انفسنا‘‘ کا لفظ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کیساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ یہ جمع کا صیغہ ہے ؛جیسا کہ ’’نساء نا‘‘ میں جمع کا صیغہ ہے ۔ ایسے ہی ’’ ابناء نا ‘‘ بھی جمع کا صیغہ ہے۔ جب کہ آپ نے صرف حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا تھا؛ اس لیے کہ ان کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت کوئی ایسا نہیں تھا جسے آپ کا بیٹا کہا جاسکتا ہو۔ اگرآپ کا بیٹا ابراہیم اس وقت موجود بھی تھا تووہ اتنا چھوٹا بچہ تھا کہ اسے بلایا نہیں جاسکتا تھا؛ [اگروہ جانا پہچانا ہوتا تو آپ اسے بھی مجلس مباہلہ میں ضرور لاتے]۔ابراہیم ماریہ قبطیہ سے پیدا ہوا تھا؛ جو مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ کو ہدیہ میں بھیجی تھی۔اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خچر ؛ حضرت ماریہ ؛ اورحضرت سیرین ہدیہ بھیجے تھے ۔ سیرین آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ جب ماریہ اپنے لیے رکھ لی۔ان سے ابراہیم پیدا ہوا؛ جو کہ تقریباً ایک سال کی عمر پاکر وفات پاگیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: 

’’ اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر کی گئی ہے جو اس کی مدت رضاعت پوری کرے گی۔‘‘

مقوقس کی طرف سے یہ ہدیئے صلح حدیبیہ ؛ بلکہ غزوہ حنین کے بعد آئے تھے۔