امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

[جواب]:یہاں پر اجابت دعا مقصود نہ تھی۔ ورنہ اکیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی اس مقصد کے لیے کافی ہوتی۔اگر ان لوگوں کو ساتھ لینے سے مراد استجابت دعا ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام اہل ایمان کو ساتھ بلا لیتے ؛ اور ان کے ساتھ مل کر دعا کرتے ۔جیسا کہ نماز استسقاء کے لیے انہیں ساتھ لیکر دعا فرمایا کرتے تھے۔ اور پھر فقراء مہاجرین سے فتح کی دعا کروایا کرتے تھے اور ارشادفرمایا کرتے تھے: 

’’کیا تم مدد کیے جاتے ہو اور روزی دیئے جاتے ہو مگر تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ؛ ان کی دعاؤں ‘ ان کی نمازوں او ر ان کے اخلاص کی وجہ سے ۔‘‘

یہ بات سب کو پتہ تھی کہ یہ لوگ مستجاب الدعوات ہیں ۔دعاء میں زیادہ کثرت ہونے سے قبولیت کے امکان زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔لیکن یہاں پر مقصود یہ نہیں تھا کہ کسی کو اس کے مستجاب الدعا ہونے کی وجہ سے بلایا گیاہے۔بلکہ اہل خانہ کو اہل خانہ کے مقابلہ کے طور پر بلایا گیا تھا۔

ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر و عمر عثمان و علی ؛ طلحہ و زبیر؛ابن مسعود اور ابی بن کعب ؛ یا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم اوردیگر کبار صحابہ کو اس مقصد کے لیے طلب کرتے تو یہ سب لوگ تعمیل ارشاد کے لیے حاضر تھے،اور ان حضرات کی دعا بھی اجابت میں زیادہ بلیغ [اثررساں ] ہوتی؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا حکم نہیں دیا تھا؛ اس لیے آپ نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کیوں کہ اس سے مباہلہ کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ نجران کے نصاریٰ اپنے ان اقارب و اعزہ کو مجلس مباہلہ میں لا رہے تھے جن پر فطری طور پر ان کے دل میں شفقت تھی ؛جیسے کہ ان کے بیٹے ؛ عورتیں اور اپنے قریب ترین رشتہ دار مرد۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی لوگوں کو بھی اس میں آنے کی دعوت دیتے تو نصاریٰ بھی ایسے لوگوں کواپنے ساتھ شامل کر لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے اجنبی اشخاص کی معیت میں مباہلہ میں شرکت کرنا ان پر کچھ بھی شاق نہ گزرتا جس طرح اقارب کے ہوتے ہوئے ان پر گراں گزر سکتا تھا۔ یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ اقارب کی تکلیف کا احساس انسان کو خائف و ہراساں رکھتا ہے اجانب کا الم و رنج اسے اس قدر پریشان نہیں کر سکتا۔

جب کسی قوم سے مصالحت کرنا مقصود ہوتو ہر فریق دوسرے سے کہتا ہے کہ اپنے بیوی بچے ہمارے یہاں رہن رکھ دو۔ اس کے برخلاف اگر وہ کچھ اجنبی لوگوں کو ان کے پاس گروی رکھ دیں تو وہ اس پر رضا مند نہیں ہوں گے۔ ایسے ہی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی لوگوں کو بلا لاتے تو فریق مخالف اس پر ہر گز راضی نہ ہوتا۔ کسی شخص کے اہل بیت ہونے سے یہ لازم نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کی نسبت افضل ہیں ۔

اس سے واضح ہوگیا کہ اس آیت مبارکہ میں اصل میں رافضی کے مطلب کی کوئی دلیل سرے سے موجود ہی نہیں ۔لیکن یہ رافضی اور اس کے امثال جن کے دلوں میں کجی پائی جاتی ہے ؛ان نصاری کی طرح ہیں جوکہ مجمل الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اور صریح نصوص کو ترک کردیتے ہیں ۔ پھر اپنے اس جھوٹے گمان کی بنیاد پر امت کے بہترین لوگوں میں قدح کرنا ؛ اور ’’انفس ‘‘ کے لفظ سے مساوات مراد لینا یہ لغت عرب کے بھی خلاف ہے۔ 

دوسری بات:....جس سے معاملہ کی مزید وضاحت ہوتی ہے کہ ’’نساء نا ‘‘ یعنی ’’ہماری عورتیں ‘‘ کا لفظ صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ اس میں دوسری بیٹیاں بھی اسی منزلت پر ہیں ۔ لیکن اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ؛ جب کہ ام کلثوم ؛ زینب اور رقیہ رضی اللہ عنہن پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں ۔ہم کہتے ہیں کہ اگر نبی کریم کی دوسری بیٹیاں بقید حیات ہوتیں تو آپ ان کو مباہلہ میں ضرور شریک کرتے۔

ایسے ہی ’’انفسنا‘‘ کا لفظ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کیساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ یہ جمع کا صیغہ ہے ؛جیسا کہ ’’نساء نا‘‘ میں جمع کا صیغہ ہے ۔ ایسے ہی ’’ ابناء نا ‘‘ بھی جمع کا صیغہ ہے۔ جب کہ آپ نے صرف حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا تھا؛ اس لیے کہ ان کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت کوئی ایسا نہیں تھا جسے آپ کا بیٹا کہا جاسکتا ہو۔ اگرآپ کا بیٹا ابراہیم اس وقت موجود بھی تھا تووہ اتنا چھوٹا بچہ تھا کہ اسے بلایا نہیں جاسکتا تھا؛ [اگروہ جانا پہچانا ہوتا تو آپ اسے بھی مجلس مباہلہ میں ضرور لاتے]۔ابراہیم ماریہ قبطیہ سے پیدا ہوا تھا؛ جو مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ کو ہدیہ میں بھیجی تھی۔اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک خچر ؛ حضرت ماریہ ؛ اورحضرت سیرین ہدیہ بھیجے تھے ۔ سیرین آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ جب ماریہ اپنے لیے رکھ لی۔ان سے ابراہیم پیدا ہوا؛ جو کہ تقریباً ایک سال کی عمر پاکر وفات پاگیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: 

’’ اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر کی گئی ہے جو اس کی مدت رضاعت پوری کرے گی۔‘‘

مقوقس کی طرف سے یہ ہدیئے صلح حدیبیہ ؛ بلکہ غزوہ حنین کے بعد آئے تھے۔


صفحہ 3 از 3