لشکر عدامہ
علی محمد الصلابیعمان میں ارتداد کو ختم کرنے کے بعد حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم سے اپنے سات سو شہسواروں کے مہرہ کی طرف روانہ ہوئے۔
(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 177)
اور سیدنا ابوبکرؓ کے ساتھ عمان کے قبائل بھی تھے۔ آپؓ جب مہرہ میں داخل ہوئے تو دیکھا مہرہ دو سرداروں کے درمیان منقسم ہے۔ ایک کا نام ’’شخریت‘‘ تھا یہ ساحلی علاقہ پر قابض تھا اور عدد اور سازو سامان کے اعتبار سے دوسرے کی بہ نسبت کمزور تھا اور دوسرا مصبح تھا جو بالائی علاقہ پر قابض تھا اور عدد اور ساز و سامان میں پہلے سے زیادہ قوی تھا۔ ان دونوں کو حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی طرف دعوت دی۔ شخریت نے دعوت قبول کر لی اور دوسرے کو اپنی تعداد و قوت پر غرور سوار ہوا تو شخریت کو لے کر سیدنا عکرمہؓ نے اس سے مقابلہ کیا، اس کو شکست فاش ہوئی اور اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ مارا گیا۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے وہاں اقامت پذیر ہو کر ان کے جملہ امور کی ترتیب کی، وہ سب ایمان لائے، اسلام کی بیعت کی اور وہاں امن و استقرار پیدا ہو گیا۔
(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 155)
اسی اثناء میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا خط موصول ہوا، اس میں انہیں حکم دیا گیا تھا کہ تم حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے جا ملو جو صنعاء سے آرہے ہیں اور پھر دونوں مل کر کندہ کا رخ کرو۔ یہ خط پا کر سیدنا عکرمہؓ مہرہ سے نکلے اور ابین میں قیام پذیر ہو کر حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے۔ ابین میں اقامت کے دوران میں آپؓ نے نخع اور حمیر کو اکٹھا کیا اور انہیں اسلام پر ثابت قدم رکھا۔
(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 281)
ابین میں سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کی اقامت سے اسود عنسی کی باقی ماندہ جماعت پر گہرا اثر پڑا جس کی قیادت قیس بن مکشوح اور عمرو بن معد یکرب کر رہے تھے۔ صنعاء سے بھاگنے کے بعد قیس صنعاء کے مابین چکر کاٹتا رہا اور عمرو بن معد یکرب اسود عنسی کی لحج میں موجود جماعت میں جا شامل ہوا تھا لیکن جب سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ ابین پہنچے تو دونوں یعنی قیس اور عمرو بن معدیکرب آپ سے قتال کے لیے اکٹھے ہو گئے لیکن جلد ہی دونوں میں اختلاف ہوا اور ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور جب حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو عمرو بن معدی کرب نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے میں جلدی کی پھر قیس بھی اپنے آپ کو حوالے کرنے کے لیے پہنچ گیا۔ حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو قید کر کے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس روانہ کر دیا۔ دونوں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے باز پرس کی، عتاب فرمایا۔ دونوں نے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی سیدنا ابوبکرؓ نے دونوں کو رہا کر دیا۔ دونوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کر کے واپس ہوئے۔
(الطبقات لابن سعد: جلد 5 صفحہ 534، 535)
اس طرح حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کا مشرق کی طرف سے آنا لحج میں موجود مرتدین کی جماعتوں کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کیا۔ خواہ مقابلہ کے ذریعہ سے یا اس فوج کے خوف کے ذریعہ سے، اور پھر انہیں شمال کی طرف سے سیدنا مہاجر بن ابی امیہؓ کی قیادت میں دوسری فوج کا مقابلہ کرنا پڑا۔
(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ، 282)