امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیرھویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیرھویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

مجاہد فرماتے ہیں : ’’منذر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘اور

﴿وَّ لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ﴾ سے مراد نبی ہیں ۔ 

فرمایا:اللہ تعالیٰ کا فرمان :

﴿یَوْمَ نَدْعُوا کُلَّ أُنَاسٍ بِإِمامِہِم﴾ [الإِسراِ: 71]

’’جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔‘‘

پس امام وہ ہوتا ہے جس کی اقتداء و اتباع کی جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں ؛ جو لوگوں کو ہدایت دیتے ہیں ۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔

نیز یہ کہ اس آیت کی تفسیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کرنا ؛ محض باطل ہے۔ اس لیے کہ ارشاد ربانی ہے:﴿ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ ﴾ [جملہ اقوام عالم کے بار ے میں فرمایا گیا ہے] اس کا تقاضا ہے کہ ان لوگوں کا کوئی ہادی ہو؛ بعد میں آنے والوں کے لیے کوئی ہادی ہو۔یعنی متعدد لوگ ہدایت کی راہ دکھانے والے ہوں ۔تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اوّلین وآخرین سب کے لیے ہادی کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ 

ساتویں وجہ:....یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کسی سے ہدایت حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امام و خلیفہ بھی ہو۔جیسا کہ علمائے کرام رحمہم اللہ سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے۔جیسا کہ حدیث میں آتاہے :

((أصحابي کالنجوم فبأیہم اقتدیتم اہتدیتم)) [رواہ ابن عبد البر و الآجري في الشریعۃ؛ وہو ضعیف]

’’ میرے صحابہ کرام ستاروں کی مانند ہیں ؛ ان میں جس کی بھی اقتداء کروگے ؛ تم ہدایت پالوگے۔‘‘

اس میں کہیں بھی امامت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا شیعہ مصنف کا یہ دعویٰ باطل ہے۔

آٹھویں وجہ:....ارشاد ربانی:﴿وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ﴾میں لفظ ’’ہَادٍ‘‘ نکرہ لایا گیا ہے ۔یہ کسی متعین شخص پر دلالت نہیں کرتا ۔پس اس آیت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات کا دعوی کرنا باطل ٹھہرا۔ اور حدیث سے استدلال کرنا قرآن سے استدلال کی طرح نہیں ہے۔ حالانکہ اس ضمن میں پیش کی جانے والی احادیث بھی باطل ہیں ۔ 

نویں وجہ :....ارشاد ربانی :﴿وَلِکُلِّ قَوْمٍ﴾ میں عموم کا صیغہ ہے۔ اگر اس سے مراد یہ لی جائے کہ تمام لوگوں کے لیے ایک ہی ہدایت کی راہ دکھانے والا ہے تو سارے لوگ ہادی ہوئے۔اور یہ نہ کہا جاتا کہ ہر قوم کے لیے ہادی ہوتا ہے ۔اس لیے کہ اقوام [زمانہ و جگہ کے اعتبار سے ] مختلف ہوتی ہیں اور یہ بھی نہیں کہا گیا کہ تمام اقوام کے لیے ہادی ہیں ۔اور ایسا کہا بھی نہیں جاسکتا کہ تمام قوم کے لیے ایک ہادی و رہبر ہے۔ بلکہ لفظ ’’کل ‘‘کو نکرہ کی طرف مضاف کیا ہے ؛ معرفہ کی طرف نہیں کیا۔ جیسا کہ کہا جاتاہے : 

’’ تمام لوگ جانتے ہیں کہ وہاں پر کچھ اقوام ہیں ؛اور اقوام متعدد ہوتی ہیں ۔ اور ہر ایک قوم کو کوئی ایسا راہ دکھانے والا ہوتا ہے جو کہ دوسری قوم میں نہیں پایا جاتا ۔‘‘

اس سے ان لوگوں کا قول باطل ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ہادی سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں ۔ اور ایسے ہی ان لوگوں کے قول کا باطل ہونا بھی صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔


صفحہ 2 از 2