Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایمان کے خطباء

  علی محمد الصلابی

حق پر ثابت قدم رہنے، اسلام کی طرف دعوت دینے اور قوم کے لوگوں کو ارتداد کے خطرناک نتائج سے ڈرانے کے سلسلہ میں بعض اہل یمن کا عظیم مؤقف رہا ہے۔ ان میں ملوک یمن میں سے مران بن ذوعمیر ہمدانی ہیں جو مسلمان ہو چکے تھے۔ جب لوگ ارتداد کا شکار ہوئے اور بے وقوف لوگ ناشائستہ گفتگو کرنے لگے تو انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہمدان کے لوگو! تم نے رسول اللہﷺ سے قتال نہیں کیا اور نہ رسول اللہﷺ نے تم سے قتال کیا اور تمہیں یہ نصیب مل گیا اور اس کے ذریعہ سے تم نے عافیت کی چادر اوڑھ لی۔ تم پر لعنت نہیں اتری جس سے تمہارے پہلوں کی فضیحت ہو اور ان کی جڑ کٹ جائے۔ کچھ لوگوں نے تم سے اسلام کی طرف سبقت کی اور کچھ لوگوں سے تم سبقت کر گئے۔ اگر تم اسلام کو تھامے رہے تو ان کو جا ملو گے جو سبقت لے گئے ہیں اور اگر اسلام کو ضائع کر دیا تو جن سے تم نے سبقت کی ہے وہ آگے نکل جائیں گے۔ تو ہمدان کے لوگوں نے ان کی مرضی کو پورا کیا اور اسلام پر قائم رہے اور مران نے رسول اللہﷺ کے سلسلہ میں اشعار کہتے ہوئے کہا:

إنَّ حُزنی علی الرسول طویلُ

ذاک منِّی علی الرسول قلیلُ

ترجمہ: مجھے رسول اللہﷺ پر طویل غم ہے اور میری طرف سے رسول اللہﷺ پر یہ بہت ہی کم ہے۔

بکتِ الارض والسمائُ علیہِ

وبکاہ خدیمُہ جبریل

: آپﷺ پر زمین و آسمان رو پڑے ہیں اور آپﷺ کے خادم جبریل بھی روئے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مالک ارحبی رضی اللہ عنہ اٹھے جو صحابیت و ہجرت کے شرف سے مشرف تھے۔ ان کے پاس ہمدان کے لوگ جمع ہوئے، فرمایا: ہمدان کے لوگو! تم نے محمدﷺ کی عبادت نہیں کی ہے، تم نے تو محمدﷺ کے رب کی عبادت کی ہے جو ’’حی‘‘ ہے اس پر موت طاری نہیں ہو سکتی۔ تم نے اللہ کے حکم سے اس کے رسولﷺ کی اطاعت کی ہے اور یہ جان لو آپﷺ نے تمہیں جہنم سے بچا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ضلالت پر مجتمع نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابوبکرؓ کا اس مناسبت سے طویل خطبہ ذکر کیا گیا ہے جس میں فرمایا:

لعمری لئن مات النبیُّ محمدٌ

لما مات یا ابن القَیْلِ ربُّ محمدِ

ترجمہ: قسم اگر آج نبی کریمﷺ کا انتقال ہو گیا ہے تو اے قیل کی اولاد! محمد کا رب نہیں مرا ہے۔

دعاہ الیہ ربُّہ فاجابَہیا خَیْرَ

غَوْرِیٍّ ویا خیر مُنْجِدِ

ترجمہ: آپﷺ کو آپﷺ کے رب نے بلایا تو آپﷺ نے لبیک کہا۔ اے تہامہ اور نجد کے بہترین لوگو!

(دیوان الردۃ للعتوم: صفحہ 181)

جب کندہ کی شاخ بنو معاویہ نے اپنی زکوٰۃ روک لی تو شرحبیل بن سمط اور ان کے بیٹے اٹھے اور بنو معاویہ سے کہا: آزاد لوگوں کا اپنے مؤقف سے بار بار ہٹنا اور تلون مزاجی اختیار کرنا قبیح فعل ہے۔ شریف لوگ مشتبہ امر پر ڈٹ جاتے ہیں اور واضح ترین امر کی طرف منتقل ہونا ناپسند کرتے ہیں۔ اے اللہ! میری قوم نے جو کچھ کیا ہے اس پر میں ان کا ساتھ نہیں دیتا پھر یہاں سے منتقل ہو کر زیاد کے پاس چلے گئے۔ ان کے ساتھ امرء القیس بن عابس بھی تھے انہوں نے زیاد سے کہا: ان پر راتوں رات حملہ آور ہوں، ان کے ساتھ سکاسک اور سکون کے لوگ ہیں اور حضر موت کے بدمعاش بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ اگر آپؓ نے ایسا نہیں کیا تو ہمیں خطرہ ہے کہ لوگ ہم سے کٹ کر ان سے جا ملیں گے۔ حضرت زیاد رضی اللہ عنہ نے ان کی بات مان لی اور اکٹھے ہو کر ان پر راتوں رات حملہ آور ہوئے، وہ سب اپنی اپنی آگ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ مجاہدین بنو عمرو اور بنو معاویہ پر ٹوٹ پڑے، کندہ کے چاروں بادشاہوں اور ان کی بہن کو قتل کیا اور دیگر بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ جو بھاگ سکتے تھے بھاگ کھڑے ہوئے اور سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ مال اور قیدی لے کر واپس ہوئے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 84)

یہ اہلِ ایمان کی بعض مثالیں ہیں جنہوں نے ایسا مؤقف اختیار کیا جو ان کے عمیق ایمان اور اسلام کے ساتھ گہرے تعلق پر دلالت کرتا ہے۔ یقیناً یہ ایمان کے خطباء تھے۔