امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

علاوہ ازیں جو شخص کسی طبعی امر مثلاً رشتہ داری یا کسی دنیوی امر کی بنا پر ان سے محبت رکھتا ہے تو یہ اسی قسم کی محبت ہے جیسے ابوطالب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ایسی محبت اللہ کے ہاں کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور ایسے ہی جو شخص انصار ؛ یا حضرت مسیح علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام و علی رضی اللہ عنہ یا کسی بھی نبی کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہوئے محبت کرتا ؛اوران کے بارے میں ان کے مرتبہ سے بالا تر اعتقاد رکھتا ہے؛[ اور ان کے بارے میں مبالغہ آمیزی کرنے والے کو بنظر استحسان دیکھتا ہے تو یہ شخص مبالغہ آمیزی و غلو کا ارتکاب کرتا ہے]حقیقت میں یہ کوئی محبت نہیں کررہا۔اس لیے کہ اس کی محبت ایسی چیزوں سے ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں ۔ جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں نصاریٰ نے مبالغہ آمیزی سے کام لیا تھا۔حالانکہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ تاہم یہ محبت نصاریٰ کے لیے مفید ثابت نہ ہوئی۔ محبت وہی سود مند ہے جو اللہ کے لیے ہو، نہ کہ وہ جس میں کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ﴾ [البقرۃ ۱۶۵]

’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ۔‘‘

جس کسی کے بارے میں یہ فرض کرلیا جائے کہ اس نے بعض انصار سے کوئی ایسی چیز سنی تھی؛ جو ان سے بغض کو واجب کرتی تھی؛ تو وہ اس وجہ سے انصار سے بغض کرنے لگ گیا؛ تو وہ اپنے اس فعل میں گمراہ اور خطا کار تھا۔ مگر اس کا شمار منافقین میں نہ ہوگا۔یہی حال اس انسان کا بھی ہے جو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کوئی ایسا اعتقاد رکھے جو کہ حقائق کے مطابق نہ ہو؛ اور اس کے متعلق یہ گمان کرے کہ وہ کافر یا فاسق تھا؛ اس وجہ سے اس سے بغض رکھے تو وہ ظالم اور جاہل شمار ہوگا مگر منافق نہیں ہوگا۔

اس اصول کی بنا پر ان روایات کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوتا ہے جو کہ بعض صحابہ سے روایت کی گئی ہیں ؛ جیسا کہ حضرت جابر ۔کہ آپ فرمایا کرتے تھے:

(( ما کنا نعرِف المنافِقِین علی عہدِ النبِیِ صلي اللّٰه عليه وسلم إلا بِبغضِہِم علِی بن أبِی طالِب۔))

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں منافقین کو صرف ان کے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے۔‘‘

اس نفی اور انکار کا جھوٹ ہونا انتہائی واضح اورصاف ہے۔ اور اس کا باطل ہونا عوام الناس میں سے بھی کسی ایک پر مخفی نہیں ہے۔ چہ جائے کہ ایسی بات حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ان جیسے عظیم لوگوں پر مخفی رہ جائے۔

بیشک اللہ تعالیٰ نے سورت توبہ میں اور دوسرے مقامات پر منافقین کی نشانیاں اور ان کے اوصاف میں متعدد امور ذکر کیے ہیں ؛ ان میں بغض علی رضی اللہ عنہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ مثلا:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تِفْتِنِّیْ اَلَا فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا﴾ [التوبۃ: 49 ]

’’اور ان میں سے کوئی کہتا ہے مجھے اجازت دیں ؛اور فتنے میں نہ ڈال۔ سن لو! وہ فتنہ میں تو پڑے ہوئے ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَ ﴾ [التوبۃ: 58]

’’ اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں ، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں ۔‘‘

﴿وَ مِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ ہُوَ اُذُنٌ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍلَّکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ

[التوبۃ: 61]

’’اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ (تو) ایک کان ہے۔ کہہ دے تمھارے لیے بھلائی کا کان ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مِنْہُمْ مَّنْ عٰہَدَ اللّٰہَ لَئِنْ اٰتٰنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَo....وَ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ﴾ [التوبۃ75-77]

’’اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ یقیناً اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا تو ہم ضرور ہی صدقہ کریں گے اور ضرور ہی نیک لوگوں سے ہو جائیں گے۔ ....اور اس لیے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔‘‘

اس طرح کی دیگر صفات بھی ہیں جن سے منافقین کو موصوف بتایا گیا ہے۔ اورپھر ان کی نشانیاں بیان کی ہیں ۔ اور ان اسباب کا ذکر کیا ہے جو کہ نفاق کا موجب بنتے ہیں ۔

ہر وہ چیز جو کہ نفاق کا موجب ہو؛ وہ نفاق پر اور اس کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ پس اب کسی عاقل کے لیے کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ یوں کہے کہ:منافقین کو پہچاننے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کے علاوہ کوئی دوسری نشانی ہی نہیں تھی؟

حالانکہ منافقین کی ایک نشانی با جماعت نماز سے پیچھے رہنا بھی تھی۔صحیح مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛ فرماتے ہیں :

صفحہ 2 از 4