امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

’’اے لوگو!ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرو جہاں سے بھی ان کے لیے پکارا جائے۔بیشک یہ ہدایت کی سنتیں [راستے]ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے متعین کر دئیے ہیں ۔ اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے؛ تو تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دوگے۔ اور اگر تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ ....اور ہم دیکھتے ہیں کہ منافق کے سوا کوئی بھی نماز سے پیچھے نہیں رہتا تھا کہ جس کا نفاق ظاہر ہوجاتا اور ایک آدمی جسے دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کردیا جاتا۔‘‘ [صحیح مسلم:ج 1:ح 1483۔والأثر فِی: سننِ أبِی داود1؍255۔کتاب الصلاِۃ، باب فِی التشدِیدِ فِی ترکِ الجماعۃِ؛ سننِ النسائِیِ2؍ 84ِکتاب الإِمامۃِ، باب المحافظۃِ عل الصلواتِ حیث ینادی بِہِن، سنن ابن ماجہ1؍ 255 ؛ کتاب المساجِدِ والجماعاتِ، باب المشیِ ِإلی الصلاۃِ ، المسندِ ط الحلبِیِ1؍ 382۔]

نفاق کی اکثرنشانیاں اور اسباب امت کے کسی بھی فرق میں اتنے زیادہ اورکھلے عام نہیں پائے جاتے جتنے زیادہ روافض میں ہیں ۔ حتی کہ ان میں نفاق مغلظ ایسے کھلے عام پایا جاتا ہے کہ دوسرے فرقوں میں اس کی مثال بھی نہیں ملتی۔ ان کے دین کا شعار[ظاہری علامت] تقیہ ہے؛ یعنی اپنی زبان سے وہ بات کہیں جو آپ کے دل میں نہیں ۔ یہ نفاق کی نشانی ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَoوَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا وَ قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِ ادْفَعُوْا قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰکُمْ ہُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْہُمْ لِلْاِیْمَانِ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاہِہِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ﴾ [آل عمران: 166۔167]

’’اور جو مصیبت تمھیں اس دن پہنچی جب دو جماعتیں بھڑیں تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور تاکہ وہ ایمان والوں کو جان لے۔ اور تا کہ وہ ان لوگوں کو جان لے جنھوں نے منافقت کی اور جن سے کہا گیا آؤ اللہ کے راستے میں لڑو، یا مدافعت کرو تو انھوں نے کہا اگر ہم کوئی لڑائی معلوم کرتے تو ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ وہ اس دن اپنے ایمان (کے قریب ہونے) کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے، اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوْا وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِہِمْ وَ ہَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا﴾ [التوبۃ: 74]

’’ وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے بات نہیں کہی، حالانکہ بلاشبہ یقیناً انھوں نے کفر کی بات کہی اور اپنے اسلام کے بعد کفر کیا اور اس چیز کا ارادہ کیا جو انھوں نے نہیں پائی ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْن ﴾ [البقرۃ:10]

’’ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے انھیں بیماری میں اور بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔‘‘

اس میں دو قرأتیں ہیں : یَکْذِبُونَ، اوریُکَذِّبُونَ ۔

خلاصہ کلام! یہ ہے کہ نفاق کی نشانیاں جیسے : جھوٹ؛ خیانت؛ وعدہ خلافی؛ غدر وغیرہ تمام گروہوں سے بڑھ کر روافض میں پائی جاتی ہیں ۔ یہ ان کی بہت پرانی صفات ہیں ۔ حتی کہ یہ لوگ حضرت علی ؛ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم سے بھی غداری کرتے رہے ہیں ۔

صحیحین میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

’’ جس شخص میں یہ چاروں خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو کہ اس میں منافق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی جب تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے ۔جب عہد کرے تو توڑ ڈالے ۔جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے اور جب جھگڑا کرے تو آپے سے باہر ہو جائے۔‘‘ [صحیح مسلم:کتاب ایمان :باب منافق کی خصلتوں ....:ح۲۱۲]

اس موضوع کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ موقعہ نہیں ہے۔ [منافقت کی نشانیاں اور اسباب رافضیوں سے بڑھ کر امت کے کسی بھی گروہ میں نہیں پائی جاتی۔ یہاں تک کہ ان میں ایسا غلیظ اور کھلا ہوا نفاق پایا جاتا ہے کہ کسی بھی دوسرے میں اس قسم کا نفاق نہیں پایا جاتا۔ان کے دین کا شعار ہی ’’تقیہ ‘‘ ہے یعنی اپنی زبان سے وہ بات کہنا جو دل میں نہیں ہے ؛ اصل میں یہ منافقت کی بڑی نشانی ہے۔]

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ یہ کہنا بالکل محال ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کے علاوہ منافقت کی کوئی نشانی نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آپ سے بغض رکھنا نفاق کی منجملہ نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ مجھ سے بغض منافق ہی رکھے گا۔‘‘تو اس کی توجیہ یہ ہے کہ جس انسان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمات جلیلہ اور آپ کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان اور جہاد فے سبیل اللہ کا علم ہو؛ اور پھر وہ آپ سے دشمنی رکھے ؛ ایسا انسان یقیناً منافق ہے۔

صفحہ 3 از 4