امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پندرھویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

ایسے ہی نفاق کی نشانیوں میں سے انصار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بغض رکھنا بھی ہے۔انصار بہت بڑا عظیم قبیلہ تھا ؛ اور مدینہ ان کا شہر تھا۔ یہی انصار وہ لوگ تھے جو ایمان لائے ؛ مہاجرین کوپناہ دی؛ ان کے پاس ہجرت کرکے آنے سے اسلام و ایمان کو عزت نصیب ہوئی ۔ اہل ایمان کو غلبہ حاصل ہوا۔ اور انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و اکرام کا وہ اعزاز حاصل ہوا جو کسی دوسرے شہر والے کو اور نہ ہی اس قبیلہ کے علاوہ کسی دوسرے قبیلہ کو نصیب ہوسکا۔ پس ان سے منافق کے علاوہ کوئی انسان بغض رکھ ہی نہیں سکتا۔لیکن اس قدر و منزلت کے باوجود یہ لوگ مہاجرین سے افضل نہیں ہیں ؛ مہاجرین کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فضیلت سے نوازا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی انسان سے بغض کے منافقت کی نشانی ہونے سے یہ لازم نہیں آجاتا کہ وہ دوسرے تمام لوگوں سے افضل ہے۔ او رجو کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال اور سوانح جانتا ہے اسے علم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کفار اور منافقین کے دشمن تھے۔ اورآپ اسلام کی عزت افزائی ؛ نصرت اور کفار کی رسوائی و ذلت پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اثر انداز ہوئے تھے اور اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کفار و منافقین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دشمنی رکھتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا وہ انسان تھا جو اسلام ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت سے بغض رکھتا تھا۔اللہ اور اس کے رسول سے اور دین اسلام سے بغض رکھنے کی وجہ سے اس قاتل نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوقتل کرنے والا نمازی ؛ روزہ دار ؛ اور قرآن کی تلاوت کرنے والا انسان تھا؛ اور وہ آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے قتل کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی تئیں اسی محبت کی وجہ سے اس نے آپ کو قتل بھی کیا۔ حالانکہ وہ اپنے اس اعتقاد میں گمراہ اور بدعت پر تھا۔

مقصود یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے کی نسبت زیادہ کھلا ہوا نفاق پایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رافضی اس امت میں سب سے بڑے منافق ہونے کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس امت کا فرعون کہتے ہیں ۔اور آپ کے قاتل معلون ابو لؤلؤ فیروز مجوسی سے محبت کا دم بھرتے ہیں ؛ حالانکہ وہ بہت بڑا کافر اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا۔ [شیعہ اس مجوسی کو اپنا باپ تصور کرتے ہوئے اسے ’’بابا‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں ]۔


صفحہ 4 از 4