سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں عفو و درگزر
علی محمد الصلابیحضرت ابوبکرؓ بڑے دور اندیش، گہری بصیرت کے مالک اور انجام کار پر نگاہ رکھتے تھے۔ جہاں سختی کی ضرورت ہوتی سختی کرتے اور جہاں عفو و درگزر کی ضرورت ہوتی عفو و درگزر سے کام لیتے۔ آپؓ قبائل کے بکھرے ہوئے لوگوں کو اسلام کے پرچم تلے جمع کرنے کے حریص وشوقین تھے۔ آپؓ کی حکیمانہ سیاست یہ تھی کہ مخالف زعمائے بائل کے حق کی طرف لوٹ آنے کے بعد درگزر کر دیا جائے۔ جس وقت آپ نے یمن کے مرتد قبائل کو تابع کیا، انہیں اسلامی سلطنت کے سطوت و غلبہ اور مسلمانوں کی عزت و فتح مندی کی قوت اور ان کی عزیمت کی پیش قدمی کا مشاہدہ کرایا تو قبائل نے اعتراف کر لیا اور اسلامی حکومت کے تابع ہو گئے اور خلیفہ رسول کی اطاعت قبول کر لی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب سمجھا کہ ان زعمائے قبائل کے ساتھ تالیف قلب کی جائے اور سختی کی بجائے نرمی اور رفق کا برتاؤ کیا جائے چنانچہ ان سے سزائیں اٹھا لیں، ان سے نرم گفتگو کی اور قبائل کے اندر ان کے نفوذ و اثر کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے استعمال کیا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 256)
آپؓ نے ان کی لغزشوں کو معاف کیا، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔ قیس بن عبدیغوث مرادی اور عمرو بن معدی کرب کے ساتھ یہی برتاؤ کیا، یہ دونوں عرب کے بہادروں اور عقلمندوں میں سے تھے۔ ان کو ضائع کرنا سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اچھا نہ لگا، آپؓ نے اس بات کی کوشش کی کہ انہیں اسلام کے لیے خالص کر لیں اور اسلام اور ارتداد کے درمیان تردد سے ان کو نکال باہر کریں۔ سیدنا ابوبکر صديق رضی اللہ عنہ نے عمرو سے کہا: تمہیں شرم نہیں آتی کہ روزانہ شکست یا قید کا شکار ہوتے ہو اگر تم اس دین کی نصرت و تائید میں لگ جاؤ تو اللہ تمہیں سر بلندی سے ہمکنار کرے گا۔ عمرو نے عرض کیا: اب میں ایسا ہی کروں گا اور اس سے پھروں گا نہیں۔ سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے رہا کر دیا، پھر اس دن کے بعد عمرو کبھی مرتد نہ ہوا بلکہ اسلام قبول کیا اور اچھی طرح مسلمان بن کر زندگی گزاری، اللہ نے اس کی مدد کی اور اس نے اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا اور قیس بھی اپنے کیے پر نادم ہوا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے بھی معاف کر دیا۔ عرب کے ان دونوں سورماؤں کو معاف کر دینے سے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔
سیدنا ابوبکرؓ اس طرح ان لوگوں کے دلوں کو جوڑا جو ارتداد کے بعد خوف یا لالچ میں اسلام کی طرف واپس ہوئے، اور سیدنا ابوبکرؓ نے اشعث بن قیس کو معاف کر دیا۔
(الصدیق اوّل الخلفاء للشرقاوی: صفحہ 115، 116)
اس طرح سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں کو اسیر کیا اور ان کے دلوں کے مالک بن بیٹھے اور مستقبل میں یہ لوگ اسلام کی نصرت اور مسلمانوں کی قوت کا ذریعہ بنے اور اس سلسلہ میں ان کا اچھا کردار رہا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ،256)