امامت علی رضی اللہ عنہ کی سترہویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی سترہویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے متعدد امور میں حکم ربانی سے ہم آہنگ رہی تھی۔ آپ ایک بات فرماتے اور اس کی تائید میں قرآن کریم نازل ہو جاتا۔ایک مرتبہ آپ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کاش!ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنا تے۔ 

پس اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

﴿ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی ﴾ [البقرۃ ۱۲۵]

’’اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو۔‘‘

[آپ فرماتے ہیں ]: اور حجاب کی آیت بھی میری خواہش کے مطابق نازل ہوئی ۔کیونکہ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ! کاش آپ اپنی بیویوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں ، اس لیے کہ ان سے ہر نیک وبد گفتگو کرتا ہے ۔ پس حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ پر نسوانی جوش میں آکر جمع ہوئیں ، تو میں نے ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو طلاق دے دیں گے، تو عنقریب آپ کا رب تم سے اچھی بیویاں آپ کو بدلے میں دے گا، جو مسلمان ہوں گی، تب یہ آیت نازل ہوئی:

﴿عَسٰی رَبُّہٗ اِِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہُ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ﴾ 

[التحریم۵] 

’’اگر وہ(پیغمبر)تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں ان کا رب تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا جو اسلام والیاں توبہ کرنے والیاں ، عبادت بجا لانے والیاں ہوں گی۔‘‘

اس طرح کی دیگر بھی کئی آیات ہیں ۔ جو کہ تمام کی تمام صحاح ستہ میں موجود ہیں ۔ یہ کسی ایک مسئلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب سے بہت بڑھ کر ہے ۔

ایمان ہجرت اور جہاد کی وجہ سے فضیلت بہت سارے صحابہ کرام کے لیے ثابت ہے جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہاں پر کوئی ایسی فضیلت نہیں ہے جو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہوں ۔ تاکہ یہ کہنا ممکن ہوسکے کہ یہ فضیلت کسی دوسرے کے لیے ثابت نہیں ۔

تیسری بات:....اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ فضیلت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے تو اس سے ان کی امامت ثابت نہیں ہوتی اور نہ یہ کہ آپ امت میں سب سے افضل تھے۔ خضر علیہ السلام کو ایسے مسائل معلوم تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم نہ تھے ، تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل تھے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہُدہُد نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا تھا :﴿اَحُطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ﴾ [النمل ۲۲]

’’ جو بات مجھے معلوم ہے آپ نہیں جانتے۔‘‘

حالانکہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام سے بڑا عالم نہیں تھا۔

چوتھی بات :....ٹھیک ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ مسئلہ جانتے تھے ؛ تو پھر یہ کہاں سے ثابت ہوگیاکہ دوسرے صحابہ کرام کو اس کا کوئی علم نہیں تھا۔اس مسئلہ کا خصوصی طور پر آپ کو علم ہونے کا دعوی کرنا باطل ہے۔ اس وجہ سے آپ کی خصوصیت بھی باطل ہوئی ۔ بلکہ تواتر کے ساتھ یہ بات بھی معلوم شدہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ [بالاولیٰ اس آیت کے مصداق تھے؛ اس لیے ] آپ اپنے مال کیساتھ جہاد کرنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر فضیلت رکھتے تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مال دار انسان تھے اورجہاد بالمال اور جہاد بالنفس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا ؛ جتنا فائدہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال نے دیا ہے ‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ تنگ دست تھے، خرچ کرنے کے لیے ان کے پاس مال موجود ہی نہ تھا بخلاف ازیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غنی تھے اور انھوں نے اللہکی راہ میں کثیر مال صرف کیا تھا۔اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے ۔ ان شاء اللہ


صفحہ 2 از 2