حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو وصیت اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا محاسبہ
علی محمد الصلابیجس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عکرمہؓ کو مسیلمہ کذاب سے جنگ کے لیے بھیجا اور آپؓ کے پیچھے شرحبیل بن حسنہ کو لگایا، حضرت عکرمہؓ نے جلد بازی کی، جس کی وجہ سے بنو حنیفہ ان کے مقابلہ میں ڈٹ گئے اور شکست دے دی، سيدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صورت حال سے باخبر کیا تو سیدنا ابوبکر صديق رضی اللہ عنہ نے انہیں تحریر کیا: اے ام عکرمہ کے بیٹے! اس حالت میں، میں تمہیں دیکھنا نہیں چاہتا اور نہ تم مجھے دیکھو، واپس مت آنا اس سے مسلمان کمزور پڑیں گے۔ تم سیدھے حذیفہ اور عرفجہ کے پاس پہنچو اور ان کے ساتھ عمان اور مہرہ کے لوگوں سے قتال کرو اگر وہ دونوں مشغول ہو جائیں تو تم اپنی فوج کو لے کر روانہ ہو جاؤ، جن کے پاس سے گزرو ان سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے یمن و حضر موت میں حضرت مہاجر بن ابی امیہؓ سے جا ملو۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 34 البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 334)
ہم یہاں دیکھ رہے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے قتال کے لیے جب اسلامی لشکروں کو روانہ فرمایا تو مسیلمہ کذاب سے قتال کے لیے دو لشکر روانہ کیے، ایک سیدنا عکرمہؓ کی قیادت میں اور دوسرا حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؓ کو دشمن کی قوت اور مقابلہ کی طاقت کا گہرا تجربہ تھا۔ جب سيدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے جلد بازی کی تو شکست کھانا پڑی۔ اس پر سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں لکھا کہ: ’’اس حالت میں تمہیں دیکھنا نہیں چاہتا اور نہ تم مجھے دیکھو، لوٹ کر مت آنا، لوگ کمزور پڑ جائیں گے۔ یہ جنگی تجربہ کی واضح دلیل ہے اور معرکوں کے نتائج میں معنوی قوت کا گہرا اثر پڑتا ہے، اگر یہ شکست خوردہ لوگ واپس آ جاتے اور مقابل میں نکلنے والی دوسری فوج سے دشمنوں کی قوت اور تعداد کا تذکرہ کرتے، تو اس سے فوج کے افراد میں خوف اور ضعف طاری ہو جاتا۔
(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 83)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں جنگی دور اندیشی واضح تھی اسی لیے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی فوج کو دوسرے مقامات پر روانہ کر دیا، وہاں وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور اس طرح ان کی معنوی قوت میں اضافہ ہوا۔
جس وقت سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن سے مدینہ واپس آئے سیدنا ابوبکرؓ نے ان کا استقبال کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ عمال کی نگرانی کرتے اور ان کے کاموں سے فراغت کے بعد ان کا محاسبہ کرتے۔ سیدنا معاذؓ سے کہا: اپنا حساب پیش کرو۔ حضرت معاذؓ نے عرض کیا: کیا دو حساب دوں، اللہ کو حساب دوں اور آپ کو حساب دوں؟ اللہ کی قسم! کبھی بھی کوئی ذمہ داری قبول نہ کروں گا۔
(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 125)