امامت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھارھویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھارھویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

یہ حکم زیادہ دیر تک باقی نہیں رہا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ اتنے لمبے عرصہ میں لازمی طور پر لوگوں کو سر گوشی کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو۔ اور اگر فرض کر لیا جائے کہ اصحاب ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے ایک مستحب فعل کو ترک کردیاتھا؛ تو ہم اس سے پہلے کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ مستحب پر عمل کرنے والا علی الاطلاق دوسروں سے افضل نہیں ہوسکتا۔[یہ حکم صرف چند یوم یا صرف ایک ساعت جاری رہا اس کے بعد منسوخ ہوگیا۔علامہ نسفی کہتے ہیں : قیل کان ذلک عشر لیال ثم نسخ وقیل ماکان الا ساع من نہار ثم نسخ[مدارک ج 4 ص 178 ۔] اس دوران میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کو اس آیت پر عمل کرنے کا موقع ملا۔ قبل اس کے کہ کوئی دوسرا آدمی اس پر عمل کرے اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا (ابن کثیر، مدارک وغیرہما) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حکم صدقہ کے بعد منافقین، آنحضرت( صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھ بے مقصد سرگوشیاں کرنے سے رک گئے تھے اس لیے مسلمانوں پر آسانی کے لیے اس حکم کو اٹھا لیا۔ کیونکہ اب منافقین، حسب سابق سرگوشیاں کرنے سے شرماتے تھے کہ حکم صدقہ کے دوران مشورے نہیں کرتے تھے، لہٰذا اب بھی نہ کریں ۔ ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو بہت لوگ رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے بات کرنے سے رک گئے اور (مسائل) دریافت کرنے سے باز رہے۔ بغوی نے لکھا ہے لوگ حضور اقدس( صلی اللہ علیہ وسلم )سے گفتگو سے رک گئے تنگدست تو اپنی ناداری کی وجہ سے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )سے گفتگو کرنے سے معذور ہوگئے اور مالدار لوگ اپنی کنجوسی کی وجہ سے محروم ہوگئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ پر یہ محرومی بڑاں گراں گزری اس کے بعد (بغیر کچھ خیرات کیے) رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے مسائل پوچھنے کی اجازت ہوگئی۔ مجاہد نے کہا : جب رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے بات کرنے سے پہلے کچھ خیرات کرنے کا حکم نازل ہوا تو سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کسی نے رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے کوئی سوال نہیں کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی سب سے پہلے ایک دینار خیرات کر کے حضور( صلی اللہ علیہ وسلم )والا سے بات کی۔ پھر آیت اجازت نازل ہوئی اسی بنیاد پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی آیت ہے کہ اس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی کرے گا یہ آیت مناجات :﴿ إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ﴾ ہے۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور حاکم نے مستدرک میں بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کتاب الہی میں ایک آیت ایسی ہے کہ اس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا اس کو بھنایا(یعنی ایک دینار کے چھوٹے سکے لیے) جب میں رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے کوئی کلام کرتا تو(پہلے) ایک درہم خیرات کردیا کرتا تھا۔]

صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

’’ تم میں سے آج کون روزہ سے ہے؟‘‘ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:میں ہوں ۔

فرمایا کہ ’’ تم میں سے کسی نے جنازہ کو الوداع کہا ہے؟‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ یا رسول اللہ! میں نے جنازہ پڑھا ہے۔‘‘

پھر آپ نے دریافت کیا :’’کیا تم میں سے کسی نے صدقہ دیا ہے؟‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! میں نے صدقہ دیا ہے۔

آپ نے فرمایا:’’ جس شخص میں یہ سب باتیں جمع ہوجائیں وہ جنتی شخص ہے۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ ،باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۱۲؍۱۰۲۸)۔]

اس طرح کی روایت و فضیلت حضرت علی رضی اللہ عنہ یا کسی دوسرے کے حق منقول نہیں ہے۔

صحیحین میں ثابت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک قسم کی دو چیزیں دے اس کو جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا:اللہ کے بندے ! خیر یہاں ہے۔ پس جو شخص نمازیوں میں سے ہوگا وہ نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا۔ اور جو جہاد کرنے والوں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص صدقہ کرنے والوں میں سے ہوگا اس کو صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص روزہ داروں میں سے ہوگا اس کو روزے کے دروازہ باب الریان سے پکارا جائے گا۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اور جو شخص ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا اس کو پھر کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔ اور دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا کوئی شخص ان سب دروازوں سے پکارا جائے گا؟

آپ نے فرمایا:’’ اور میں امید رکھتا ہوں کہ اے ابوبکر تم ان ہی میں سے ہو۔‘‘[البخاری:ج دوم:ح۸۸۳]

یہ فضیلت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے ثابت نہیں ہے۔

بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ایک شخص ایک بیل کو ہانکے لیے جا رہا تھا اور اس پر بوجھ لاد رکھا تھا۔ بیل اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:’’ مجھے اس لیے نہیں پیدا کیا گیا۔ بلکہ میں کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہوں ۔‘‘

لوگوں نے گھبرا کر کہا:سبحان اللہ ! حیرت ہے کہ بیل کس طرح بات چیت کرنے لگ گیا۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔‘‘

حالانکہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود نہ تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

’’ ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا چرواہے نے اس بکری کو بھیڑیئے سے چھڑا لیا تو بھیڑیئے نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا:’’ درندہ مسلط ہونے کے دن بکری کا کون محافظ ہوگا؟ جس دن کہ میرے سوا بکری چرانے والا کوئی نظر نہ آئے گا؟ لوگوں نے یہ واقعہ سن کر سبحان اللہ کہا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میں اور ابوبکر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اس پر ایمان لائے ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری:ج:۲:ح۸۸۰]

حالانکہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس وقت وہاں پر موجود نہ تھے۔

صفحہ 2 از 4