امامت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھارھویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھارھویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال سے مجھے جس قدر فائدہ پہنچا دوسرے کسی کے مال سے نہیں پہنچا۔‘‘[سنن ترمذی، کتاب المناقب۔ (ح:۳۶۶۱)، سنن ابن ماجۃ۔ باب فضل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۹۴)]

یہ روایت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خصائص میں انتہائی واضح اور صریح ہے ۔ اس میں کوئی بھی دوسرا آپ کا شریک نہیں ؛ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نہ ہی کوئی دوسرا ۔

بخاری و مسلم میں روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ صحبت ورفاقت اور انفاق مال کے اعتبار سے ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے سب سے بڑے محسن ہیں اور اگر میں کسی کو گہرا دوست بنانے ولا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسجد نبوی کی طرف کھلنے والی سب کھڑکیاں بند کردی جائیں مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کھلی رہے۔‘‘[البخاری، کتاب مناقب الانصار(ح:۳۹۰۴)مسلم۔ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۲)]

سنن ابی داؤد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’ اے ابوبکر!آپ میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔‘‘[سنن ابی داود۔ کتاب السنۃ، باب فی الخلفاء (حدیث:۴۶۵۲)، و سندہ ضعیف۔]

ترمذی و ابوداؤد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ میرے پاس ان دنوں مال تھا۔ میں نے کہا آج میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا۔ چنانچہ میں گھر میں گیا اور آدھا مال لا کر آپ کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم نے دریافت کیا:

’’ بال بچوں کے لیے کیا باقی چھوڑا؟ میں نے کہا :اس کے برابر۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر کا تمام اثاثہ لے آئے۔ آپ نے فرمایا:’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ ! گھر میں کیا باقی چھوڑا۔‘‘

عرض کیا: ’’ اللہ اور اس کے رسول کو باقی چھوڑ آیا ہوں ۔‘‘

[پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے ہے اللہ و رسول بس]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں نے کہا آج کے بعد میں کبھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقابلہ نہیں کروں گا۔‘‘ [سنن ابی داؤد۔ کتاب الزکاۃ(ح:۱۶۷۸)، سنن ترمذی کتاب المناقب، باب(۱۶؍۴۳)، (ح:۳۶۷۵)]

صحیح بخاری میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی چادر کا کنارہ اٹھائے ہوئے آئے ان کا گھٹنا کھل گیا تھا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہارے یہ دوست لڑ کر آ رہے ہیں ۔‘‘

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آکر سلام کیا اور کہا :’’ میرے اور ابن خطاب کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا؛ میں نے بے ساختہ انہیں کچھ کہہ دیا؛ اس کے بعد میں شرمندہ ہوا اور میں نے ان سے معاف کر دینے کی درخواست کی؛ لیکن انہوں نے معافی دینے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا میں آپ کے پاس التجا لایا ہوں ۔

آپ نے تین مرتبہ فرمایا :’’اے ابوبکر رضی اللہ عنہ !اللہ تمہیں معاف کر دے ۔‘‘

پھرحضرت عمر رضی اللہ عنہ شرمندہ ہوئے؛ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مکان پر گئے؛ اور دریافت کیا :ابوبکر رضی اللہ عنہ یہاں ہیں ؟ لوگوں نے کہا :وہ موجود نہیں ۔پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے؛آپ کو سلام کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونے لگا؛ حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈر گئے؛ اور گھٹنوں کے بل ہو کر عرض کیا :’’ میں نے ہی ظلم کیا تھا۔‘‘

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ؛تو تم لوگوں نے کہا جھوٹا ہے۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ سچ فرماتے ہیں ۔ اور انہوں نے اپنے مال و جان سے میری خدمت کی۔ پس کیا تم میرے لیے میرے دوست کو چھوڑ دو گے یا نہیں دو مرتبہ(یہی فرمایا)۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا۔‘‘ [سنن ابی داؤد۔ کتاب الزکاۃ(ح:۱۶۷۸)، سنن ترمذی کتاب المناقب، باب(۱۶؍۴۳)، (ح:۳۶۷۵) ]

اور ایک دوسری روایت میں ہے: ’’ میں نے کہا: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ‘‘ تو تم نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو؛ اور ابوبکر نے کہا: ’’آپ سچ فرماتے ہیں ۔‘‘

ترمذی میں مرفوعاً روایت کیا گیا ہے کہ:

جس قوم میں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں ان کو چاہیے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کو امام مقرر نہ کریں ۔[الترمذی ، کتاب المناقب (ح:۳۶۷۳)، و سندہ ضعیف اس کی سند میں عیسیٰ بن میمون راوی ضعیف ہے۔ ]

حضرت عثمان کا ایک ہزار اونٹ کو جنگ کے لیے تیار کرنا۔[صحیح بخاری ۔کتاب مناقب الانصار۔ باب قول اللہ عزوجل﴿ وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ ....﴾(ح :۳۷۹۸) صحیح مسلم، کتاب الأشربۃ۔ باب اکرام الضیف (حدیث: ۲۰۵۴)۔]سرگوشی کے صدقہ سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔اس لیے کہ جہاد میں خرچ کرنا فرض تھا۔ جب کہ اس کے برعکس سرگوشی کرنے کی وجہ سے صدقہ صرف ان لوگوں پر فرض تھا جو سرگوشی یا راز دارانہ بات کرنا چاہتے ہوں ۔ اور جو ایسی کوئی بات نہ کرنا چاہتا ہو اس کے لیے صدقہ کرنا ضروری نہیں تھا۔

اللہ تعالیٰ نے کچھ انصار کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے:

﴿وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ﴾(حشر:۵۹)

’’وہ اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود سخت ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ:

’’ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا؛ اور بھوک اور تنگی کی شکایت کی۔ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کے پاس آدمی بھیجا؛ مگر جواب ملا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! گھر میں ہمارے پاس پانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔‘‘

پھر دوسری کے پاس آدمی بھیجا تو وہاں سے بھی یہی جواب ملا۔ حتی کہ تمام ازواج مطہرات سے یہی جواب ملا کہ: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! گھر میں ہمارے پاس پانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔‘‘

آپ نے اعلان فرمایا: ’’ آج رات جو اس کی ضیافت کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائیں گے۔‘‘

صفحہ 3 از 4