یمن کی وحدت ان کے سامنے اسلام کا واضح ہونا اور خلیفہ کی اطاعت
علی محمد الصلابیحروب ارتداد کے خاتمہ کے بعد یمن مدینہ کی مرکزی قیادت کے ماتحت ہو گیا۔ یمن کو تین صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا، اس تقسیم میں قبائل کو اساس نہ بنایا گیا بلکہ انتظامی امور کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تقسیم عمل میں لائی گئی۔ صنعاء، جند اور حضر موت، یمن کے یہ تین صوبے قرار پائے۔ قیادت و امارت میں قبائلی عصبیت کو اساس نہیں بنایا گیا۔ قبائل صرف عسکری شعبے رہے سیاسی نہیں۔ تقویٰ، اخلاص اور عمل صالح اصل معیار قرار پائے۔
(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 290)
یمن شرک کے جملہ مظاہر سے پاک ہو گیا، خواہ اس کا تعلق اعتقاد سے تھا یا قول و فعل سے اور انہوں نے یہ حقیقت سمجھ لی کہ مقام نبوت اس سے کہیں زیادہ بلند ہے کہ کھلواڑ کرنے والے مدعیان اس کا دعویٰ کریں یا اس کو اپنی غرض و خواہش کی برآری کے لیے ذریعہ بنائیں۔
(الخلافۃ الراشدۃ والخلفاء الراشدون: یوسف علی صفحہ 39)
اور انہیں یقین ہو گیا کہ ایمان خواہشات نفس سے میل نہیں کھاتا، اسلام جاہلیت سے اتفاق نہیں کرتا۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک خون بہا لینے اور تکلیف اور حسرتوں کو جھیل لینے کے بعد ہوا، طرفین کے کافی لوگ قتل کیے گئے۔ اس سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔
(ظاہرۃ الردۃ: محمد بریغش صفحہ 159)
جو مرتد ہو گئے تھے دوبارہ اسلام کی طرف واپس ہوئے اور اپنے کیے کا کفارہ ادا کرنا چاہنے لگے۔
(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 289)
خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں انہیں جہاد کی اجازت دی گئی اور اسلامی فتوحات میں اسلامی یمنی قیادتیں ابھر کر سامنے آئیں جو ارتداد کے حادثہ میں تربیت اور تجربات حاصل کر چکی تھیں اور اسلام پر ثابت قدمی اختیار کی تھی جیسے جریر بن عبداللہ بجلی، ذوالکلاع حمیری، مسعود بن عکی، جریر بن عبداللہ حمیری وغیرہ۔ اسلامی فتوحات اور کوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے نئے شہروں کی تعمیر و بناء میں ان قیادتوں کا نمایاں کردار رہا اور اسی طرح یمنی شخصیات نمودار ہوئیں جو یمن اور غیر یمن میں قاضی اور والی مقرر کیے گئے۔ جیسے حشک عبدالحمید، سعید بن عبداللہ الاعرج اور شرحبیل بن سمط کندی وغیرہ۔
(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 291)
اہلِ یمن اسلامی سلطنت اور اس کی قیادت کے ساتھ جڑ گئے، خواہ مقامی قیادت ہو یا مدینہ کی مرکزی قیادت خلیفہ ہو۔ اسی لیے جب خلیفہ نے انہیں جہاد کی دعوت دی تو پورے شوق و رغبت کے ساتھ نکل پڑے جیسا کہ اس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ آپ کے سامنے آئے گی۔
انہیں ارتداد کے حادثے میں کافی تربیت مل چکی تھی جس نے انہیں قیادت سے جوڑ دیا اور انہیں قیادت پر پورا اعتماد ہو گیا۔ اسی لیے امن و استقرار بحال ہوا اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ بہترین مددگار ثابت ہوئے۔
(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 291)