امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

حضرت ابن عباس نے﴿ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ﴾ کی تفسیر میں یہ بات کہی ہے۔ [یہی تفسیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، دیکھیں تفسیر ابن جریر۔۵؍۶۶) تفسیر قرطبی میں ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسری روایت میں ہے انہوں نے رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے پیچھے سات صفیں بنا کر نماز پڑھی مرسلین کی تین صفیں تھیں اور انبیا کی چار صفیں تھیں رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے متصل پیچھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تھے ان کی دائیں جانب حضرت اسماعیل اور ان کے بائیں جانب حضرت اسحاق پھر حضرت موسیٰ( علیہ السلام )تھے پھر باقی ماندہ مرسلین تھے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور کہا، میرے رب نے میری طرف وحی کی کہ میں تم سے سوال کروں کیا تم میں سے کوئی ایسا رسول بھی بھیجا گیا ہے جو غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتا ہو ؟ انہوں نے کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی دعوت کے ساتھ بھیجے گئے ہیں وہ لا الہ الا اللہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کو چھوڑ کر جن کی وہ عبادت کیا کرتے ہیں وہ سب باطل ہے آپ خاتم النبین اور سید المرسلین ہیں آپ نے ہمیں جو امامت کرائی ہے اس سے یہ امر ہمارے لیے ظاہر ہوچکا ہے تیرے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں مگر حضرت عیسی ( علیہ السلام )ہیں انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے نقش قدم کی پیروی کریں ۔(۱) سعید بن جبیر نے اللہ تعالیٰ کے فرمان وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم( صلی اللہ علیہ وسلم )لیلتہ المعراج کو رسولوں سے ملے۔ ولید بن مسلم نے اس ارشاد کی وضاحت میں کہا، میں نے اس بارے میں خلید بن وعلج سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجھے قتادہ نے بیان کیا کہا، معراج کی رات ان سے سوال کیا آپ انبیا سے ملے حضرت آدم سے ملے اور جہنم کے خازن سے ملاقات کی۔ میں کہتا ہوں : اس آیت کی تفسیر میں یہی صحیح ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر رسلنآ سے پہلے من زائد نہیں ۔ مبرد اور علما کی ایک جماعت نے کہا، اس کا معنی ہے تم سے قبل جو رسول بھیجے گئے ان کی امتوں سے پوچھو۔ یہ بھی روایت کی گی ہے کہ حضرت ابن مسعود کی قرات میں ہے :واسال الذی ارسلنا الیھم قبلک رسلنا یہ قرات تفسیر کی بنا پر ہے اس تعبیر کی بنا پر من زائد ہے، یہ مجاہد، سدی، ضحاک، قتادہ، حسن بصری اور حضرت ابن عباس کاقول ہے۔یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام )سے پوچھیے جو دو کتابوں یعنی تو رات و انجیل والے ہیں ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ان انبیا کے بارے میں پوچھیں جو آپ سے قبل مبعوث کیے گئے عن کو حذف کردیا گیا اور رسلنآ پر وقف تام ہے پھر انکا رکے طریقہ پر استفہام سے ابتدا کی گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، آپ ان رسولوں کے پیروکاروں سے پوچھیں جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تو یہاں سے مضاف محذوف ہے۔ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے اور مراد ساری امت ہے۔جب کہ علامہ سیوطی نے اس کی تفسیر میں یہ آثار نقل کیے ہیں : ۱:۔ سعید بن منصوررحمہ اللہ علیہ وعبد بن حمید رحمہ اللہ علیہ وابن جریر رحمہ اللہ علیہ وابن المنذر رحمہ اللہ علیہ نے سعید بن جبیر(]

انبیاء کرام علیہم السلام سے رسالت و بعثت محمدی کے تفصیلی امور پر ایمان لانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تو پھر باقی اہل ایمان کو چھوڑ کر کسی ایک صحابی کی موالات کا عہد انبیائے کرام سے کیسے لیا جاسکتا ہے ؟

چوتھی وجہ:....اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : ﴿وَاسْاَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُسُلِنَا اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ آلِہَۃً یُعْبَدُوْنَ﴾ [الزخرف۴۵]

’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو!جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے ۔‘‘

اس آیت میں یہ سوال نہیں کیا گیا کہ ان سے پوچھا جائے کہ انہیں کس چیز کے ساتھ مبعوث کیا گیا تھا؟ [ بخلاف ازیں آیت میں انبیاء سے یہ بات دریافت کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ کیا ہم نے کچھ اور بھی معبود مقرر کیے ہیں جن کی پرستش کی جائے؟]

پانچویں وجہ:....اعتراض کرنے والے کا قول کہ : انبیاء کو ان تین باتوں کا حکم دیکر مبعوث کیا گیا تھا ؛ اگر اس کی مراد یہ ہو کہ ان تین باتوں کے علاوہ کوئی اورچیز نہیں تھی تو یہ رسولوں پر جھوٹ ہے۔اور اگر کہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انبیاء کرام کی بعثت کے اصول یہی تھے تو بھی یہ انبیائے کرام علیہم السلام پر جھوٹ ہے ۔اس لیے کہ جن اصول دین کو دیکر اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث کیا تھا ؛ ان میں : اللہ تعالیٰ پر ایمان ؛ آخرت پر ایمان اور اصول شرائع شامل ہیں ۔ ان پر ایمان لانا ان کے ہاں کسی نبی کے کسی صحابی پر ایمان لانے سے بڑھ کربلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کااقرار کرنے سے زیادہ اہم تھا ۔اس لیے کہ ان لوگوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اجمالی ایمان رکھنا واجب تھا ۔ جیسا کہ ہم پر سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام پر اجمالی ایمان رکھنا واجب ہے ۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پالیتا تو اس پر آپ کی شریعت پر ایسے ہی تفصیلی ایمان لانا واجب ہوتا جیسے ہم پر تفصیلی ایمان لانا واجب ہے۔ جب کہ باقی انبیائے کرام علیہم السلام کی شریعتوں پر تفصیلی ایمان ان امتوں کے لوگوں پر واجب تھا۔ تو پھر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ جو چیز امت پر واجب ہے اسکے بیان کو چھوڑ دیا جائے اور جس چیز پر ایمان لانا واجب نہیں ہے اسے بیان کیا جائے ؟

صفحہ 2 از 3