امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

[سے آیت﴿ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا﴾ (اور آپ ان سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا پوچھ لیجئے) کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے شب معراج میں رسولوں سے ملاقات فرمائی۔ ۲:۔ ابن المنذر رحمہ اللہ علیہ نے ابن جریج رحمہ اللہ علیہ سے آیت ﴿ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا﴾ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کو شب معراج میں انبیا دکھائے گئے آپ نے آدم ( علیہ السلام )کو دیکھا اور ان کو سلام کیا اور آپ نے دوزخ کے داروغہ مالک کو دیکھا اور دجال کذاب کو بھی دیکھا۔ ۳:۔ عبدالرزاق رحمہ اللہ علیہ وعبد بن حمید رحمہ اللہ علیہ وابن جریر رحمہ اللہ علیہ وابن المنذر رحمہ اللہ علیہ نے قتادہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ﴿ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ﴾ اور آپ سب پیغمبروں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا پوچھ لیجئے کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا اور معبود مقرر کر رکھے تھے کہ ان کی عبادت کی جاتی ہو(یعنی آپ تو رات اور انجیل والوں سے پوچھ لیجئے کیا رسول توحید کے علاوہ کوئی اور چیز لاتے ہیں اور بعض قر میں اس طرح ہے)آیت ﴿ وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ ﴾]

چھٹی وجہ :....لیلۃ الإسراء کا واقعہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ کہا جاتا ہے کہ : یہ ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے کا واقعہ ہے ؛ اور کہا گیا ہے کہ : پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی ہیں ۔معراج کی رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر چھوٹی تھی۔اس وقت تک آپ نے ہجرت بھی نہیں کی تھی او رنہ ہی جہاد کیا؛اور نہ ہی کوئی دیگر ایسا کام ہوا جس کی وجہ سے انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے آپ کا ذکر کیا جاتا۔ حقیقت میں انبیائے کرام علیہم السلام کی کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی کتابیں موجود ہیں ۔ ان میں سے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بشارات ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالی ہیں ۔ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی تذکرہ نہیں ۔بلکہ ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ تابوت جس میں انبیائے کرام علیہم السلام کی تصویریں تھیں ؛ اور وہ تابوت مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس موجود تھا۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تصاویر بھی موجود تھیں ۔ اور مقوقس ان کے مطابق ہی حکم الٰہی کو قائم کرتا تھا۔ اور آج تک جو اہل کتاب مسلمان ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے یہ ذکر تک نہیں کیا کہ ان کی کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی کوئی ذکر ملتا ہے ۔ تو پھر یہ کہنا کیونکر جائز ہوسکتا ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کے اقرار پر مبعوث کیا گیا تھا ؛ حالانکہ انہوں نے نہ ہی اپنی امتوں کے سامنے کچھ ایسا ذکر کیا اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے کوئی ایسی بات نقل کی گئی ؟ 


صفحہ 3 از 3